آم صرف ایک پھل نہیں، پوری تہذیب کا نام ہے

آم ایک ایسا پھل ہے جو کسی بھی دوسرے پھل سے زیادہ ہماری زبان، محاوروں، رسم و رواج اور ادبی روایت کا حصہ بن گیا ہے۔

آم کو کھانے کے طریقے بھی متعدد ہیں (پکسا بے)

جو چیز ہماری زبان و ادب، کھانوں، روایات اور تہواروں سے جڑ جائے، وہی تہذیب کہلاتی ہے۔ جب بات ہو آم کی تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ آم صرف ایک پھل کا نام نہیں بلکہ یہ پوری تہذیب کا نام ہے۔

آم پاکستان کا قومی پھل ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے قومی پھل دو ہیں۔ گرمیوں میں آم اور سردیوں میں امرود۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ماہرین کو قومی پھل کے انتخاب میں کتنی مشکل ہوئی ہو گی، کیونکہ دونوں ہی مقامی، لذیذ اور مزےدار پھل ہیں۔ آم صرف پاکستان کا قومی پھل نہیں بلکہ بھارت اور فلپائن کا بھی قومی پھل ہے۔ جبکہ آم کا درخت بنگلہ دیش کا قومی درخت ہے۔ گنیز بک نے فلپائن کے’کارا باو‘ آم کو دنیا کا سب سے میٹھا آم تسلیم کیا ہے۔

ہمارے خطے میں آم سے محبت کی مثال کے لیے اس کی اقسام ہی کافی ہیں۔ قلمی ہو یا تخمی، آم لوگوں کے دل میں بستا ہے۔ ورلڈ فوڈ ارگنائزیشن کے مطابق، دنیا کا 70 فیصد آم ایشیا میں میں پیدا ہوتا ہے۔ بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ وہاں 1500 سے زیادہ اقسام کے آم پائے جاتے ہیں۔ جبکہ 225اقسام کے دعویدار تو ہم پاکستانی بھی ہیں۔ سندھ ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ، ٹنڈو محمد خان کے پروفیسر اسماعیل کھمبر کے مطابق صرف سندھ میں ہی 150اقسام کے آم پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے 40 فیصد آم محفوظ کرنے کے غلط طریقوں کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں۔

اس کا موسم ابھی شروع ہوا نہیں کہ آپ گھروں میں ہوں یا یونیورسٹی میں، دفتر میں چائے پی جا رہی ہوں، سٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑے ہوں، آم کسی نہ کسی حوالے سے موضوع بحث رہتا ہی ہے۔ کوئی سندھڑی کی بات کر تا ہے تو کوئی چونسا کا دیوانہ ہے اور کوئی انور رٹول کا۔ کسی کو لنگڑا پسند ہے تو کوئی دسہری کا طلب گار۔

آم برصغیر کی مشترکہ ثقافت اور تہذیب کو جوڑتا ہے۔ ابھی آم کی فصل اتری نہیں کہ انڈو پاک کی عوام پرجوش ہو جاتی ہے۔ ان کے نعروں کی گونج سوشل میڈیا پر نظر آنے لگتی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہوتا ہے کہ ’ہمارا چونسا سب سے اچھا، تو کہیں سے آواز آتی ہے کہ ہمارے لنگڑے اور الفانسو کا تو کوئی جوڑ ہی نہیں۔

آم کی کوئی بھی قسم ہو، یہ عام آدمی سے لے کر خواص تک، سب کے دل خوش کرتا ہے۔ آپ خود کسی بھی آم کے ٹھیلے کے قریب سے گزر کر دیکھ لیں۔ خاص الخاص آموں تو کو چھوڑ دیں اگر طوطا پری، سفیدہ، لال بادشاہ اور نیلم کی مخصوص خوشبو، ذائقہ اور رنگت آپ کے منہ میں پانی نہ لے آئے تو کہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئیں مل کر امیر خسرو کے ’فخر گلشن‘ یعنی آم کے تہذیبی پہلو تلاش کریں۔ ہماری آج کی طرز زندگی 60 اور 70 کی دہائیوں سے بدل چکی ہے۔ لیکن آج بھی ’آم آم‘ ہی ہے اور اس کی روایات بھی برقرار ہیں۔

 آم کھانے کے آداب اور اہتمام

آم کھانے کے بھی کچھ آداب ہیں۔ ہمیں آموں کو اس کے پورے آداب سے کھانا ہی پسند ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی نیت اور پیٹ آم کی قاشوں سے بھر جاتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگ آم ایسے مزید مہذب طریقے سے کھاتے ہیں کہ ہاتھ گندے نہ ہوں۔ لیکن آم کو کانٹے سے کھانا ہم جیسے لوگوں کی طبیعتوں پر سخت گراں گزرتا ہے۔ کیونکہ بھائی سولہ آنے درست بات یہ کہ آم اور پائے کھاتے ہوئے ہاتھ گندے اور چپکیں نہ، تو مزہ کیا؟ آپ سب تو سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمیں تو چوسنے والے آم پسند ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ آم تخمی ہوں یا قلمی، لیکن میٹھے، پیلے، رسیلے اور گودے دار ضرور ہونے چاہیں۔ اور مہک ایسی ہو کہ گھر میں داخل ہوتے ہی پتہ چل جائے کہ آج گھر میں ’دعوت آم‘ ہے۔

 آم کھانے کا دوسرا حق یہ ہے کہ انہیں خوب ٹھنڈا کر کے کھایا جائے۔ ہمارے گھر میں ابا کے زمانے تک آم ایسے ہی کھائے جاتے تھے۔ یعنی آموں کو پیٹی سے نکال کر بالٹی میں بھگو دیتے۔ جلدی ہوتی تو برف بھی ڈال دیتے۔ ایک دو گھنٹے بھیگنے کے بعد آموں کا مزہ دوبالا ہو جاتا۔ کھانے کے بعد سب آنگن میں جما ہو جاتے، اور آموں کی بالٹی کے اردگرد بیٹھ کر چوس چوس کر کھاتے۔ کہیں شیرا ٹپک رہا ہے۔ تو کہیں ہاتھ گندے ہو رہے ہیں۔

تیسری اہم بات یہ کہ آم، ایک دو سیر نہ ہوں۔ بلکہ جب تک آپ کی طبعیت سیر نہ ہو جائے آم ختم نہ ہوں۔ لیکن آموں کے ساتھ مسئلہ وہی ہے کہ پیٹ بھر جاتا ہے دل نہیں بھرتا۔

آم سے جڑے پکوان

 پیلا اور رسیلا آم بازار میں مئی تک پہنچتا ہے، لیکن گھروں میں اس کا ذکر آم کے بور سے شروع ہو جاتا ہے۔ جنوری میں درخت پر بور کا لگنا ہوتا ہے کہ کوئل کے کوکنے کی خوش کن آواز کانوں میں رس گھولنے لگتی ہے۔ آم کے سفید چھوٹے پھولوں کی آمد کو موسم بہار کی پہلی نشانی کے طور پر لیا جاتا ہے۔ بور یعنی آم کے پھول، ایک ڈیڑھ ماہ میں کیری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

نسیم حمزہ صاحبہ کہتی ہیں کہ مارچ میں ہی بازار میں کچے آم یعنی کیری ملنے لگتی ہے۔ اور اس کے آتے ہی ہمارے دسترخوان پر کیری کی کھٹی میٹھی چٹنی اور مربے کا ہی اضافہ نہیں ہوتا بلکہ ملکہ مسور دال کا تصور لہسن مرچ اور کیری کی پسی چٹنی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ یہ ہی نہیں بلکہ میٹھے میں آم رس یا گڑمبا بھی بنتا ہے۔ یہ ذائقے میں کھٹا میٹھا ہوتا ہے، جو گرمی کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔ ’کیری کے اچار کا تو کیا ہی کہنا ہے، کیونکہ مختلف دالوں اور دال چاول کا مزہ اچار کے بغیر نامکمل ہے۔‘

نسیم صاحبہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہم طرح طرح کی چٹنیاں اور اچار نہ صرف خود بنا کر رکھتے ہیں، بلکہ آس پڑوس اور عزیز رشتے داروں میں بنا کر تحفے کے طور پر بھی بانٹتے ہیں۔‘

مسز نقوی آم کا ذکر آتے ہی مسکرانے لگیں۔ وہ اپنی یادوں کی پٹاری کھول کر بتاتی ہیں کہ ’اب ذرا آم کھانے کے انداز بدل گئے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے بچپن کی سب سے سنہری یاد ہی نانا کے گھر کی آم کی دعوت ہے۔ سب قریبی عزیز جمع ہیں، برسات ہو چکی ہے اور دعوت کا مینو آم کے رس کے ساتھ دال بھرے پراٹھے ہے، خوب گہماگہمی ہے، اور سب قریبی رشتے دار جمع ہیں۔ آم اپنے ہی گھر کے اور قلمی ہیں، ساتھ ہی مزید آم بازار سے بھی منگائے گئے ہیں۔ سب بڑی بہنیں اور کزن گرم گرم دال بھرے پراٹھے لے کر آ رہی ہیں۔ بڑے بوڑھوں کے بعد اس لذیذ کھانے کے حقدار ہم بچے ٹھہرتے۔ ہمیں آم کو پلپلا کر کے دیا گیا تھا۔ گرم دال بھرے پراٹھے کو آم کے رس کے ساتھ کھایا جاتا تھا۔

’ساتھ ہی مینگو شیک اور کیری کا جوس جیسے عرف عام میں آم کا پنہ کہتے ہیں، گھر میں بناتے ہیں۔ کیری کا اچار تو بنتا ہی ہے لیکن کیری کو سکھا کر بھی رکھ لیتے ہیں۔ جو کھٹائی کے کام آتی ہے۔ اس طرح ہمارے ہاں تو آم کا استعمال سارے سال ہی کسی نہ کسی شکل میں رہتا ہے۔‘

آم بارش اور برسات کے گیت

جون جولائی کی چبھتی ہوئی گرمی، مون سون کی موسلادھار بارشوں کا سلسلہ اور میٹھے، رسیلے اور خوشبودار آم ہی آم۔ یہ تینوں عناصر ایک دوسرے کے ساتھ ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ اگر گرمی اور بارش کے بغیر آم کھانے پڑیں تو آم بے مزہ لگتا ہے۔ پہلے بھی اور آج بھی آم کھانے کے لیے برسات کا انتظار کیا جاتا تھا۔ کوشش کی جاتی ہے کہ بارش سے پہلے آموں کا مزہ نہ لیا جائے کیوں کہ اس سے گرمی دانے نکلنے کا احتمال رہتا ہے۔ بارش کے ساتھ آم کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔

ایک وقت تھا کہ گھروں میں پھل دار پیڑ لگائے جاتے تھے۔ بہت سے لوگوں کی دوپہریں، آم اور جامن کے درختوں کے سائےمیں اور ان پرڈلے ہوئے جھولے جھولتے ہوئے گزری ہوگی۔ لیکن اب باغ رہے نہیں اور گھروں میں پیڑ لگانے کا دور بھی ختم ہوا۔ اور باغوں اور باغیچے تو پہلے ہی ختم ہوئے۔ اب بارش میں ہم ’امبیا کی ڈالیوں پر جھولا جھلا جا‘ اور ہماری والدہ ’باغوں میں پڑے جھولے‘ اور ’اماں میرے باوا کو بھیجو ری کے ساون آیا‘ جیسے گیت گنگنا لیتی ہیں۔

مینگو ڈپلومیسی

میڈیا میں مینگو ڈپلومیسی کی بازگشت کچھ دنوں پہلے بھی سنائی دی تھی جب سوشل میڈیا پر بھارتی میڈیا نے شور مچایا کہ پاکستان کے آموں کے تحائف یعنی ’مینگو ڈپلومیسی‘ ناکام ہو گئی۔ ان ٹرینڈز کے مطابق کرونا وبا کی وجہ سے بہت سے ممالک نے پاکستان کے آموں کے تحائف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان سوشل میڈیا ٹرینڈز کی وجہ سے اتنا شور مچا کہ ہماری وزارت خارجہ کے طرف سے زاہد حفیظ کو بیان دینا پڑا کہ پاکستان کی طرف سے چین اور امریکہ کو آموں کی پیٹیوں کے تحائف بھیجے ہی نہیں گئے، جو تحائف واپس کرنے کی بات آتی۔

اگر مینگو ڈپلومیسی کی بات کریں تو دنیائے سیاست میں اس کی ابتدا 1968 میں ہوئی، جب پاکستان کے وزیر خارجہ شریف الدین پیر زادہ چینی رہنما، ماؤ زے تنگ سے ملنے چین پہنچے۔ اس دورے میں وہ اپنے ساتھ تحائف کی شکل میں  آموں کی 40 پیٹیاں بھی لے گئے۔ مزے کے بات یہ ہے کہ ساٹھ کی دہائی تک چینی عوام آموں کی مزے سے واقف نہیں تھے۔ اور آج چین آموں کی پیداوار میں ایشیا کے بہت سے ممالک کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ چین میں بھارت کے بعد سب سے زیادہ آم پیدا ہوتا ہے۔ ہماری مینگو ڈپلومیسی 60 کی دہائی سے کسی نہ کسی شکل میں چل رہی ہے۔ آج بھی پاکستان اپنے کئی پڑوسی اور دوست ممالک کو آموں کے تحائف بھیج کر اپنی مارکیٹ بڑھا رہا ہے۔

مینگو پارٹی اور تحائف کا تبادلہ

تحائف کا لین دین ہمارے رواج کا حصہ ہے۔ ہم بنیادی طور پر روایتی لوگ ہیں۔ عید ہو یا کوئی اور تہوار۔ یا پھر شادی بیاہ کی تقریبات، تحفے پورے چاؤ کے ساتھ لیے اور دیے جاتے ہیں۔ جب بات ہو آم بطور تحفے کی تو ماضی میں روایت تھی کہ ادھر آم کے باغوں میں آم پک کر تیار ہوئے اور بیٹی، بہن اور عزیزوں کے گھروں میں ’موسم کا پہلا پھل‘ بھیجا جاتا۔

اب وہ روایتی انداز تو نہیں رہا۔ لیکن اب بھی خاندانوں میں بازار سے خرید کر موسم کا پہلا پھل ’آم‘ ایک دوسرے کے گھر بھجوانے کی روایت ہے۔ امیر غریب اپنی اپنی استطاعت کی مطابق آموں کے تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں۔

آج کل مینگو پارٹیوں کا بڑا شور ہے۔ آموں کا موسم آتے ہی آپ کے پاس آم پارٹی کی دعوت آنے لگتی ہے۔ ان آم پارٹیوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سی سیاسی جماعتیں بھی مینگو پارٹیوں کا احتمام کرتی ہیں، اس طرح ان کے سماجی رابطے بڑھتے ہیں۔

زبان اور محاوروں میں آم کا استعمال

تہذیب زبان و ادب کے بغیر پوری نہیں ہوتی۔ اردو ادب کے کتنے ہی محاوروں میں آم شامل ہے۔ کچھ تو بہت عام ہیں۔ جیسے ’آم کے آم گھٹلیوں کے دام،‘ ’آم کھانے سے غرض یا پیڑ گنے سے۔‘ لیکن مطالعے میں کچھ مختلف محاورے اور ضرب المثل بھی سامنے آئے، جیسے ’آم بوو، آم کھاؤ، املی بوؤ املی کھاؤ۔‘ یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ آم کی ہوس- امبی اوپر آم کے۔ یعنی کسی چیز کی ہوس نہ کرو۔ ’آم میں بور آنا،‘ یعنی امید اچھی رکھو، بور آ گیا تو پھل بھی ملے گا۔

آموں کے شوقین ہمارے ادیب

آموں کی محبت میں مرزا غالب سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ مرزا کہہ گئے کہ ’آم میٹھے ہوں اور بہت ہوں۔‘ غالب اور ان کے دوست کے درمیان مکالمہ اب ضرب المثل بن چکا ہے کہ مرزا کے دوست آموں کا شغف نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ گدھے نے آم پر منہ نہیں مارا۔ انہوں نے غالب سے کہا کہ ’دیکھو مرزا، گدھا آم نہیں کھاتا۔ غالب نے جھٹ کہا، ’ہاں گدھے آم نہیں کھاتے!‘

یہ ہی نہیں غالب کی مرزا فخرو کے آم کے تحفے کے جواب میں لکھی گئی فارسی مثنوی ’در صفت انبہ‘ مشہور ہے۔ اس مثنوی میں کہیں غالب آم کو ’جنت سے آیا ہوا شہد بھرا گلاس‘ کہتے ہیں اور کہیں ’آتش گل‘ پر ’قند کا قوام‘ اور کہیں ’شیرے کے تار‘ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ آخر آخر میں مرزا کی طبعیت خراب رہنے لگی تھی لیکن آموں کی محبت انہیں مجبور کرتی تھی کہ دل اور پیٹ بھر کے آم کھائیں۔ شیخ محسن الدین کو خط میں لکھتے ہیں کہ جی یوں چاہتا ہے کہ ’برسات میں مارہرہ جاؤں اور دل کھول کر اور پیٹ بھر کر آم کھاؤں۔‘

میر تقی میر کو لنگڑا آم خوب پسند تھا، اور ان کے کلام میں آموں کی تعریف ’انبہ شیرین ادا‘ اور ’میوۂ مراد‘ کہہ کر ادا کی گئی ہے، جبکہ بنگالی شاعر ٹیگور نے آم پر دو نظمیں لکھی ہیں۔ ایک کا عنوان ’امرمونجوری‘ یعنی آم کی کلیاں یا شگوفے اور دوسری کا ’کچا آم۔‘

لنگڑا آم کی بات چلی ہے تو اقبال اور اکبر آلہ آبادی کا قصہ بھی کم دلچسپ نہیں۔ اکبر الہ آبادی نے ڈاکٹر اقبال کو لنگڑے آموں کا ایک پارسل بھیجا۔ اقبال نے آموں کے بخیریت پہنچنے پر رسید بھیجی اور شکریہ بھی۔ اکبر کو الہ باد سے لاہور تک بحفاظت آم پہنچنے پر حیران ہوئے۔ اکبر نے اقبال کے خط کا جواب کچھ اس طرح دیا۔

اثر یہ تیرے انفاس مسیحائی کا ہے اکبرؔ
الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک پہنچا

 یہی نہیں اقبال کی طبعیت کی خرابی کی وجہ سے میٹھے کا پرہیز کرنے کے لیے کہا گیا۔ حکیم نابینا نے آخر میں انہیں ایک آم کھانے کی اجازت دے دی۔ مولانا مجید سالک کا کہنا ہے کہ یہ ایک آم ایک سیر کا بمبئی آم تھا۔

لباس میں آموں کے مختلف اشکال یعنی کیری یا ترنجیں

رسم و رواج میں لباس بھی اہم عنصر ہے۔ ذہن میں سوال آیا ہو گا کہ آم یا کیری اور لباس کا کیا لینا دینا؟ تو زرا اپنی الماری کھولیں اور اپنے کڑھائی والے کرتے، شالیں اور کشمیری پشمینہ نکال کر دیکھ لیں۔ سب جگہ کیری کی شکل جیسے ’ترنج‘ کہا جاتا ہے بنے نظر آئیں گے۔ چادریں یا میز پوش پر کڑھائی لکھنوی ہو یا ملتانی شیڈ ورک کہیں نہ کہیں کیری کی شکل مل جائی گی۔ بلکہ یہ ڈیزائن کھڈی اور بلاک پرنٹ میں بھی نظر آ جاتا ہے۔

ترنج کا لفظ ہم نے سب سے پہلے اپنی والدہ سے سنا۔ وہ ہم سے بستر پر ترنجوں والی چادر لگانے کا کہہ رہی تھیں۔ آج ترنج کا لفظ غالب کی مثنوی میں پڑھا۔ ملاحظہ کیجیے:

 تھا ترنج زرایک خسرو کے پاس
رنگ کا زرد پر کہاں بو باس

آم کو دیکھتا اگر اک بار
پھینک دیتا طلائے دست افشار

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین