اسماعیل دربار، جن کی موسیقی کا دربار یکدم ناکامی پر بند ہوا

لکشمی کانت پیارے لال کی جانب سے بےعزتی کے بعد اسماعیل دربار نے دل میں ٹھان لی کہ وہ لکشمی کانت پیارے لال سے بڑا موسیقار بن کر دکھائیں گے۔

(ایس ایل بی فلمز)اسماعیل دربار نے فلم  ’ہم دل دے چکے صنم‘ سے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا

اسماعیل دربار محبوب سٹوڈیو کے باہر غصے میں بیٹھے تھے، چہرے پر ناگواری تھی۔ بات ہی ایسی ہوئی تھی کہ ان کا پارہ بلندی کو چھو رہا تھا۔

وہ موسیقار جوڑی لکشمی کانت پیارے لال کی جوڑی کے گروپ میں بطور وائلنسٹ خدمات انجام دیتے تھے لیکن آج اس جوڑی نے سب کے سامنے یہ کہہ کر انہیں نکال باہر کیا کہ ’ابھی تمہیں اور مشق کی ضرورت ہے، اسی لیے کل سے نہ آنا۔‘ اسماعیل دربار کا خیال تھا کہ پورے آرکسٹرا میں ان کی ٹکر کا وائلن نواز کوئی اور نہیں، مگر اس کے باوجود اس سرعام بےعزتی نے ان کو چراغ پا کر دیا تھا۔

محبوب سٹوڈیو کے باہر چند لمحے ساری صورت حال پر غور کرنے کے بعد انہوں نے قسم کھائی کہ وہ ایک دن لکشمی کانت پیارے لال کیا بھارت کے صف اول کے موسیقار بن کر دکھائیں گے۔

بھارتی شہر سورت سے تعلق رکھنے والے اسماعیل دربار کے والد وائلن بہترین انداز میں بجاتے تھے اور انہی سے اسماعیل نے اس فن میں مشاقی حاصل کی۔ بمبئی آنے کے بعد کام کے لیے ہر چوکھٹ پر پہنچے۔ کوئی 12 دفعہ ہو گا کہ کام نہ ملنے پر واپس بھاگ کر سورت کا رخ کیا لیکن ہر بار نئی ہمت کرکے پھر بمبئی پہنچ جاتے۔ اسی جستجو، لگن اور جوش نے انہیں کبھی آنند ملند، کبھی ندیم شروان، تو کبھی بپی لہری اور کبھی لکشمی کانت پیارے لال کے سازندوں میں شامل ہونے کا موقع دیا لیکن خواہش بس یہی مچل رہی تھی کہ بطور سازندے نہیں موسیقار کے شہرت حاصل کریں۔

پہلا بڑا موقع ہاتھوں سے جب نکل گیا

ہدایت کار رام گوپال ورما نے جب 1995 میں فلم ’رنگیلا‘ بنانے کا فیصلہ کیا تو ایک دوست کی معرفت سے وہ رام گوپال ورما تک پہنچے۔ جب انہیں فارغ وقت میں تیار کردہ دھنیں سنائیں تو ہدایت کار نے سوچا اس نئے موسیقار کو چانس دینا چاہیے، اسی دوران اے آر رحمان کے گیتوں کا ڈنکا بجنے لگا تو رام گوپال ورما نے اسماعیل دربار کو دودھ سے مکھی کی طرح انہیں نکال باہر کیا۔ ایک بار پھر اسماعیل دربار موسیقاروں کے سازندے ہی بن کر رہ گئے۔

سنجے لیلا بھنسالی کی پذیرائی

ودھو ونود چوپڑہ کے اسسٹنٹ سنجے لیلا بھنسالی نے 1996 میں جب ہدایت کاری کے شعبے میں قدم رکھتے ہوئے ’خاموشی‘ بنانے کی تیاری کی تو اس وقت اسماعیل دربار، جتن للت کی میوزیکل ٹیم کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے۔ کئی دھنوں پر اسماعیل دربار کا وائلن دلوں کے تار چھیڑ رہا تھا۔ اسی بنا پر موسیقی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے سنجے لیلا بھنسالی تعریف کیے بغیر نہ ر ہ سکے۔ اسی بات نے اسماعیل دربار کو نیا حوصلہ دیا۔ ’خاموشی‘ تو بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی، اسی دوران سنجے لیلا بھنسالی نے ایک اور فلم کا آغاز کر دیا۔

دو گیتوں نے قسمت پلٹ دی

اسماعیل دربار کا کہنا ہے کہ ’خاموشی‘ کے بعد انہوں نے آخر کار سنجے لیلا بھنسالی کے سامنے اپنے موسیقار بننے کی آرزو کو بیان کر دیا۔ ان کے لیے یہ چونکا دینے والا انکشاف تھا کہ ایک وائلنسٹ موسیقار بننے کے خواب دیکھ رہا تھا، لیکن انہوں نے انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ اسماعیل دربار سے پوچھا کہ ان کے پاس دھنیں ہیں تو سنائیں۔

اسماعیل دربار جان چکے تھے کہ یہ قدرت کی طرف سے ان کو ملنے والا ایک نادر موقع ہے،جسے وہ ضائع نہیں ہونے دیں گے، وہ ایک کے بعد ایک دھنیں سناتے رہے۔ ہر دھن پر سنجے لیلا بھنسالی کی دلچسپی بڑھنے لگی۔ گیارہ بارہ دھنیں سنانے کے بعد اسماعیل دربار بولے کہ دو گیت ایسے ہیں جو ان کے دل کے انتہائی قریب ہیں۔

سنجے لیلا بھنسالی کو اب اسماعیل دربار نے گیت ’تڑپ تڑپ‘ کے سنایا جو چند دنوں پہلے انہوں نے گلوکار کے کے کی آواز میں ریکارڈ کیا تھا۔ سنجے لیلا بھنسالی نے کم و بیش نو مرتبہ یہ گیت سنا، فرط جذبات سے آنسو نکل پڑے اور ساتھ ہی اسماعیل دربار کے گرویدہ بھی ہو گئے لیکن ابھی ان کے لیے ایک اور چونکا دینے والا گیت تھا، جو اسماعیل دربار نے سنایا اور وہ تھا ’ہم دل دے چکے صنم۔‘ درحقیقت اسماعیل دربار نے اس کا مکھڑا سنایا اور بعد میں صرف طرز۔ سنجے لیلا بھنسالی کو تو سمجھیں اپنی فلم کے ٹائٹل کے ساتھ موسیقار بھی مل گیا۔

’ہم دل دے چکے صنم‘ سے ’دیوداس‘ تک

 سلمان خان، ایشوریہ رائے اور اجے دیوگن کی میوزیکل رومنٹک فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ کے گانے منظر عام پر آئے تو انہوں نے تہلکہ مچا دیا۔ فلم ریلیز ہوئی تو سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ سنجے لیلا بھنسالی جو ناکامیوں کے گھپ اندھیرے میں بھٹک رہے تھے، اسی فلم کے ذریعے شہرت اور مقبولیت کی سرحد پر آکھڑے ہوئے۔

اگلے سال ہونے بیشتر ایوارڈز میں جہاں ’ہم دل دے چکے صنم‘ چھائی رہی، وہیں اسماعیل دربار بھی۔ جنہیں بھارت کا نیشنل ایوارڈ بھی ملا جب کہ فلم فیئر میں آر ڈی برمن میوزک ایوارڈ بھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ اس موسیقار کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا، جس کے دوست اس بات پر مذاق اڑاتے تھے کہ جسے ہارمونیم بجانا نہیں آتا وہ موسیقار کیسے بن سکتا ہے۔ اسماعیل دربار نے سب کے خدشات اور اعتراضات کو غلط ثابت کرکے دکھا دیا۔

اب تو وہ حالت ہو گئی کہ ہر فلم ساز کی خواہش ہوتی کہ اسماعیل دربار کی خدمات حاصل کی جائیں لیکن یہاں انہوں نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملنے والی ہر پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ 2002 میں جب سنجے لیلا بھنسالی نے ’دیوداس‘ بنائی تو ایک بار پھر اسماعیل دربار کی موسیقی او ر گیتوں نے انہیں عروج کمال پر پہنچایا۔

اسماعیل دربار متنازع موسیقار کیوں بنے؟

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اسماعیل دربار کی کسی سے نہیں بنی۔ بیشتر اوقات وہ یہ کہتے تھے کہ سنجے لیلا بھنسالی کو کامیاب ہدایت کار بنانے میں ان کے گیتوں کا عمل دخل رہا ہے۔ سنجے لیلا بھنسالی کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو دونوں کے درمیان خلیج اس قدر کھنچتی چلی گئی کہ انہوں نے اسماعیل دربا رکے بجائے دیگر موسیقاروں کا انتخاب کرنا شروع کر دیا۔

اسماعیل دربار اے آر رحمان تنازع

 اسماعیل دربا ر کی توپوں کا رخ اے آر رحمان کی جانب ہمیشہ رہا۔ ان کے 2002میں بھارت کے نیشنل ایوارڈ ملنے پر انہوں نے سخت اعتراض کیا تھا۔ اس تنازعے میں اس وقت اور شدت آ گئی جب 2009 میں اے آر رحمان کو ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ میں بہترین موسیقار کا آسکر اور گریمی ایوارڈ ملا۔ اسماعیل دربار نے یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ رحمان نے رقم دے کر ایوارڈ خریدا ہے۔ اس پر موسیقار اے آر رحمان نے ہی نہیں آسکر انتظامیہ نے بھی ان پر کیس کرنے کا اعلان کیا۔

اسماعیل دربار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اے آر رحمان بزنس مین اور ساؤنڈ ریکارڈسٹ تو ہیں لیکن موسیقار نہیں اور وہ تعلقات استعمال کر کے بڑی بڑی فلمیں حاصل کرتے ہیں۔ فلمی پنڈت کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اسماعیل دربار اس بات پر رحمان کے خلاف محاذ کھڑا کرتے ہوں کہ ان کی وجہ سے فلم ’رنگیلا‘ سے انہیں آؤٹ ہونا پڑا۔ پھر جن برسوں میں اسماعیل دربار کی فلم فیئر ایوارڈز میں بہترین موسیقار کے لیے نامزدگیاں ہوئیں، ان دونوں میں اے آ ر رحمان سبقت لے گئے۔

کیرئیر زوال کا شکار  

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ’ہم دل دے چکے صنم‘ اور ’دیو داس‘ کے بعد جس فلم کی بھی اسماعیل دربار نے موسیقی ترتیب دی، اس کے گانے مقبول نہ ہو سکے۔ جبکہ انہوں نے سبھاش گھئی جیسے ہدایت کار کی فلم ’کشنا‘ اور ’کانچی‘ جیسی فلموں کے گانے بنائے، دو تین علاقائی زبان کی فلموں  کے موسیقار بھی بنے، ٹی وی چینلوں کے مختلف میوزک پروگراموں کے جج کے طور پر خدمات دیں لیکن کیرئیر کسی صورت کامیابی کی جانب نہ بڑھ سکا اور پھر انہیں دھیرے دھیرے فلم ساز اور ہدایت کار فراموش کرتے رہے۔

کہا جاتا ہے کہ ہدایت کاروں کی جانب سے کام میں ضرورت سے زیادہ دخل اندازی اور اپنی شرائط بھی ان کی راہ میں رکاوٹ بنی۔ ناکامی کے بعد انہوں نے ہدایت کاری کے میدان میں بھی قدم رکھا لیکن قسمت کی دیوی یہاں بھی روٹھی رہی، محبوب سٹوڈیو سے نکلنے کے بعد لکشمی کانت پیارے لال سے بڑا موسیقار بننے کا موقع تو انہیں بھرپور ملا لیکن اپنی غیر لچک دار فطرت اور غیر ضروری خود اعتمادی کی بنا پر وہ تادیر اپنی مقبولیت برقرار نہ رکھ سکے۔

المیہ یہ ہے کہ آج سب ’ہم دل دے چکے صنم‘ اور ’دیو داس‘ کے گانوں اور سنجے لیلا بھنسالی کو تو یاد رکھتے ہیں لیکن اسماعیل دربار کو نہیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی فلم