فلمی دنیا چھوڑ کر امام بارگاہ کے لیے زندگی وقف کرنے والی ’ریما‘

خواجہ سرا ریما ممتاز کی نانی بہار بخش بیگم نے اپنے گھر سے ملحقہ اراضی پر 70 سال قبل ’بارہ امام گاہ‘ کے نام سے ایک امام بارگاہ بنائی، جس کی دیکھ بھال پہلے ان کی والدہ رشیدہ بیگم اور اب ریما ممتاز کر رہی ہیں۔

سندھ کے شہر لاڑکانہ کی رہائشی خواجہ سرا ریما ممتاز کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں تعارف کے لیے مَردوں کا نام نہیں بتاتے۔

ریما کا کہنا کہ ان کی نانی بہار بخش بیگم  برصغیر کی تقسیم کے وقت بھارتی پنجاب سے پاکستان کے شہر فیصل آباد نقل مکانی کرکے آئیں تو اس وقت ان کی والدہ کی عمر آٹھ سال تھی۔ پھر فیصل آباد کے علاقے ’مائی دی جھگی‘ سے وہ لاڑکانہ میں آ کر بس گئیں۔

بہار بخش بیگم نے اپنی زندگی میں بہت سی تکالیف کا سامنا کیا لیکن وہ اس دور کے اندھیرے سائے اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں پر نہیں پڑنے دینا چاہتی تھیں، اس لیے بیٹی رشیدہ بیگم عرف شیدو بائی کے بالغ ہوتے ہی انہوں نے ان کی شادی کروا دی۔

شیدو بائی نے شادی تو کرلی لیکن اس وقت کے شرفا بھی ان کے ساتھ اپنا نام جوڑنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے اس لیے شیدو بائی کی اولاد بھی والد کی جگہ زیادہ تر والدہ کی سرپرستی میں ہی رہی۔

شیدو بائی اپنے 11 بچوں سمیت لاڑکانہ سے کراچی جا کر آباد ہو گئیں، ریما ممتاز اپنے 11 بہن بھائیوں میں واحد خواجہ سرا ہیں۔

ریما ممتاز نے اپنی زندگی بسر کرنے کے لیے فلم انڈسٹری کا رخ کیا اور کئی فلموں میں بطور ڈانسر کام کیا جبکہ ان کی بہن فرح خانم نے پہلے موسیقی سیکھی پھر سندھی سمیت مختلف زبانوں کے مقامی فنکاروں کے ساتھ گلوکاری کی لیکن سابقہ زندگی اور موسیقی کو ترک کر دینے کے بعد اب وہ ایک معروف نوحہ خواں ہیں۔

 زندگی کے اس سفر میں ریما ممتاز کی نانی بہار بخش بیگم نے جو کہ شیعہ مسلک کی پیروکار تھیں، اپنے گھر سے ملحقہ اراضی پر 70 سال قبل ’بارہ امام گاہ‘ کے نام سے ایک امام بارگاہ بنائی اور وہاں غازی عباس علم دار کے نام سے منسوب عَلم نصب کیا ۔

بہار بخش بیگم کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی رشیدہ بیگم نے اسی امام بارہ گاہ میں دوسرا علم نصب کیا جو کہ اس وقت لاڑکانہ کا بلند ترین علم سمجھا جاتا ہے۔

اب والدہ رشیدہ بیگم کے انتقال کے بعد ریما ممتاز سالہا سال سے اس علم کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ اسلامی مہینے محرم کے شروع ہوتے ہی لاڑکانہ میں واقع اسی گھر میں لوٹ آتی ہیں جہاں سے ان کی نانی نے زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز کیا تھا۔

 ہر سال محرم میں اس قدیمی امام بارگاہ میں علم نشان کی رسومات ادا کی جاتی ہیں جس میں ریما ممتاز کے خاندان، علاقہ مکین اور لاڑکانہ کے معروف سید بہادر حسین شاہ سمیت دیگر معزز شخصیات، گدی نشین اور امام بارگاہوں کے متولی بڑی عقیدت سے شرکت کرتے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سید بہادر حسین شاہ جو کہ بالائی سندھ میں عزادارین حسین کے لیے اپنی خدمات کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتے ہیں لاڑکانہ کی قدیمی امام بارگاہ سید منظور حسین شاہ کے متولی بھی ہیں۔ ان کا ریما ممتاز، ان کی والدہ اور نانی بہار بخش بیگم کے لیے کہنا تھا کہ جب وہ چھوٹے تھے تو اپنے والدہ کے ہمراہ اسی ’بارہ امام بارگاہ‘ میں علم نشان، عزاداری و نیاز کی تقسیم کی رسومات میں شرکت کرتے تھے.

 سید بہادر حسین شاہ نے بتایا کہ ’یہ سلسلہ 70 سالوں سے جاری ہے۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ کی ثقافت میں یہ چیز شامل ہے کہ جب کوئی عزادار حسین عباس علم دار کا علم بلند کرتا ہے تو پھر اس میں یہ تفریق نہیں کی جاتی کہ وہ کیا کرتا ہے اور وہ کون ہے۔‘ ان کا یہاں تک کہنا تھا کہ وہ ریما ممتاز اور ان کے اہل خانہ جیسے عزاداروں کی عزاداری کو اپنی عبادت سے بہتر سمجھتے ہیں۔

 سید بہادر شاہ نے ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ’ان کے پاس دمشق کے شیعہ عالم آیت اللہ سید محمد علی طباطبائی آئے تو ان سے پوچھا گیا کہ چند ماتمی جلوسوں اور مجالس عزا میں بطور عزادار ایسے لوگ بھی شرکت کرتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے اور ماتمی جلوس و مجلس کا تقدس مجروح ہوتا ہے تو آپ اس سلسلے میں کیا رائے دیتے ہیں‘، تو جواب میں معزز شیعہ عالم کا کہنا تھا کہ ’جو جتنا بڑا گناہ گار ہوتا ہے وہ اپنا اتنا بڑا وکیل کرتا ہے۔‘

پاکستانی معاشرے میں خواجہ سرا ہونے کی حیثیت سے ریما ممتاز کے لیے اپنی نانی اور والدہ کی رکھی ہوئی بنیاد کی امام بارگاہ میں علم نشان سمیت عزاداری حسین کو اس مرتبے تک جاری و ساری رکھنا کہ علاقے کے تمام معززین اور قدیمی امام بارگاہوں کے متولی جن کے لاکھوں پیروکار ہیں شرکت کریں آسان نہیں تھا، لیکن ریما ممتاز کا کہنا ہے کہ ان پر اللہ کا خاص کرم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا