انسانوں کے رشتہ دار نی اینڈرتھال کون تھے، کیسے ختم ہوئے؟

کبھی انسان اور اس کی قریبی رشتہ دار نوع نی اینڈرتھال ہزاروں سال تک ایک ہی علاقے میں اکٹھے رہے، لیکن بالآخر جدید انسان یعنی ہومو سیپیئنز کامیابی سے ارتقائی سفر طے کرتے رہے اور ہمارے کزن ختم ہو کر رہ گئے۔ آخر ان کے ساتھ ہوا کیا؟

نی اینڈرتھال کو ایک عرصے تک بےعقل وحشی سمجھا جاتا رہا لیکن اب نظریات بدل رہے ہیں (مصور چارلز نائٹ کی خیالی تصویر: پبلک ڈومین)

تقریباً 45 ہزار سال قبل جب ہمارے ابتدائی جدید انسانی آبا و اجداد ہجرت کر کے یورپ پہنچے تو نی اینڈرتھال بطور نوع پہلے ہی معدومیت کے خطرے سے دوچار تھے۔ محض پانچ ہزار سال بعد ایک بھی نی اینڈرتھال کا وجود باقی نہ رہا۔ اگرچہ ہم کبھی بھی نہیں جان پائیں گے کہ آیا ہم اپنے قریبی انسانی کزنوں کی معدومیت کے براہ راست ذمہ دار تھے لیکن شاید یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس میں ہمارا بھی کچھ نہ کچھ کردار بنتا ہے۔

1856 میں جرمنی کے شہر ڈسلڈورف کے قریب نینڈر وادی سے ملنے والی نی اینڈرتھال کی باقیات کے بعد ان کی صحیح تصویر کا مسئلہ درپیش ہے۔ روایتی طور پر انہیں جدید بندروں سے تھوڑا آگے دکھایا جاتا رہا ہے لیکن اب سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے گذشتہ خیالات کی نسبت نی اینڈرتھال ہم سے کہیں زیادہ قریب تھے۔ جدید دریافتوں سے منکشف ہوا ہے کہ ہمارے رشتہ دار زیادہ جدید، انتہائی ترقی یافتہ شکاری تھے جو زیورات اور اوزار بنانے کی قابلیت رکھتے تھے۔ درحقیقت نی اینڈرتھال اور جدید انسان کا ڈی این اے 99.7 فیصد یکساں ہیں جو اس لیے حیرت کا باعث نہیں ہونا چاہیے کہ ہم محض پانچ لاکھ سال قبل تک افریقہ میں مشترکہ آبا و اجداد رکھتے تھے۔ ارتقائی نقطہ نظر سے یہ انتہائی قریبی تعلق ہے۔

 اپنے مشترکہ آبا و اجداد سے علیحدگی کے بعد جو نسل ہومو سیپیئنز کی صورت میں آگے بڑھی وہ نسبتاً ماضیِ قریب تک افریقہ میں ہی رکی رہی جبکہ نی اینڈرتھال نسل کے آبا و اجداد نے اس سے پہلے ہی یورپ اور ایشیا کی سمت ہجرت کی۔ بالآخر 45 ہزار سال قبل جب دونوں انواع یورپ میں دوبارہ اکٹھی ہوئیں تو ہم حیرت کے مارے محض تصور کر سکتے ہیں کہ کیا نی اینڈرتھال نے اپنے نئے پڑوسیوں، ان لمبے، پتلے اور ناقابل فہم زبان بولنے والے کمزور بندروں (یعنی جدید انسان) کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا ہو گا۔

نی اینڈرتھال ہم سے کہیں زیادہ طاقتور تھے۔ ان کے پٹھوں کی ساخت ایسی ترقی یافتہ تھی کہ ان کے ڈھانچوں کی باقیات بعض اوقات جسم کے بوجھ کے نیچے جھکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اپنی واضح ناک کی وجہ سے ان کا چہرہ آگے کی طرف کھنچا ہوا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہوا کو گرم کرنے کے لیے یہ ارتقائی مطابقت (adaptation) ہے تاکہ شدید سرد موسم میں زندہ رہنے کے لیے وہ بہتر طریقے سے سانس لے سکیں۔ ان کے ٹھوس جسم اور چھوٹے اعضا شدید سرد علاقوں میں رہنے والے جدید انسانوں کے جسم سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے دونوں نے جسمانی ساخت کا پھیلاؤ کم کرنے اور سرد ماحول میں گرمی کا بندوبست برقرار رکھنے کے لیے ماحول سے مطابقت اختیار کی ہے۔

 شمالی یورپ کے جدید باشندوں کی نسبت شمالی عرض بلد پر پانچ گنا زیادہ عرصے تک رہنے کے بعد ممکن ہے کہ نی اینڈرتھالوں نے نیلی یا سبز آنکھوں، صاف جلد اور بالوں کی دیگر ارتقائی خصوصیات بھی اپنا لی ہوں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ خوراک جمع کرنے کے بجائے انہوں نے زیادہ وقت شکار میں صرف کیا ہو۔ ان کی ہڈیوں کے کیمیائی تجزیے سے ان میں موجود کاربن اور نائٹروجن آئسوٹوپس کی بلند سطح کا پتہ چلتا ہے جو گوشت خور شکاریوں میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں اور نی اینڈرتھال کے ٹھکانوں سے جانوروں کے ڈھانچے بھی بڑی تعداد میں ملتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گھات لگا کر شکار کرنے والے ماہر شکاری تھے جو برفانی ہاتھی (woolly mammoth) کو مار گرانے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت سوچنے اور مل کر کام کرنے کی قابلیت رکھتے تھے جبکہ ان کی آواز کی نالی کو دوبارہ تشکیل دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جدید انسانوں کے بولنے کی کم از کم 25 فیصد صلاحیت رکھتے تھے جو ایک موثر پروٹو لینگویج کے لیے کافی ہے۔

نی اینڈرتھال کی شناخت ان کے ابرو کی گھنی پٹی اور ناک کے بڑے نتھنے ہیں، لیکن یہ کھوپڑی کے پچھلے حصے میں پچکنے کا نشان ان کی شناخت کی مخصوص اور یقینی نشانی ہے۔ ہزاروں سال سے نی اینڈرتھال کی آبادی انگلستان میں نارتھ ویلز سے یوریشیا اور سائبیریا، بلکہ یہاں تک کہ جدید دور کے چین کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی تھی۔

تو نی اینڈرتھال کے ساتھ ہوا کیا؟ کیوں کہ غاروں کے جو مقامات انہوں نے اپنی رہائش کے لیے چنے تھے وہ ہڈیوں کے تحفظ کے لیے بہت موزوں ہیں، آثار قدیمہ کی ہر نئی دریافت نئے سراغ فراہم کرتی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے، اب تک انفرادی طور پر ہزار سے زائد نی اینڈرتھال کی باقیات موجود ہیں جس سے ہمیں نی اینڈرتھال کے خاتمے سے متعلق دلچسپ جھلک مل سکتی ہے۔

نی اینڈرتھال کی معدومیت کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں ہزاروں سال تک چلنے والے کئی پیچیدہ عوامل کارفرما رہے ہوں گے۔ یورپ کے مختلف مقامات پر مختلف اوقات میں نی اینڈرتھال مقامی وجوہات کی بنا پر دم توڑتے رہے اور یہ وجوہات ہر مقام پر الگ الگ تھیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سب سے اہم عنصر رہی۔ 50 ہزار سال قبل کرۂ ارض اچانک شدید ٹھنڈا ہونے سے ماحولیاتی نظام متاثر ہوا اور جن درمیانے درجے سے لے کر بڑے ممالیہ جانوروں کا یہ شکار کرتے تھے ان کی آبادی تیزی سے کم ہوئی۔ اس وقت سے لے کر تقریباً ہزار سال تک چلنے والی ڈرامائی سردی کی لہر کا وہی زمانہ ہے جب نی اینڈرتھال بتدریج معدوم ہوئے۔

ایسا لگتا ہے نی اینڈرتھال کی آبادی کم ہوئی اور زندہ رہنے کی جدوجہد کرتے ہوئے دور دراز کے اپنے بنیادی علاقوں میں سمٹ گئی۔ نی اینڈرتھال کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ بطور نوع وہ گوشت خوری کی محدود خوراک پر حد سے زیادہ انحصار کرتے رہے اور شکار کے نئے طور طریقے نہ اپنا سکنے میں ان کی ناکامی ان کی تعداد میں شدید کمی کا باعث بنی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 لیکن اگر ہمارے ابتدائی جدید انسانی آبا و اجداد نے زندہ رہنے کے طریقے ڈھونڈ نکالے تو نی اینڈرتھال نئے ماحولیاتی چیلنجوں سے ہم آہنگ کیوں نہ ہو سکے؟ اگرچہ نی اینڈرتھال واضح طور پر پتھروں کو کاٹ کر استعمال کیا کرتے تھے لیکن ہزاروں برس قدیم مقامات سے ملنے والے پتھر کے اوزار تکنیکی ترقی کے بہت کم نشان رکھتے ہیں جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ شاید نی اینڈرتھال عظیم اختراعی ذہن کے مالک نہیں تھے۔

 تقریباً ایک لاکھ سال قبل افریقہ میں ہمارے ہومو سیپیئنز آبا و اجداد پر اسی قسم کے جمود اور سستی کا یہی دور رہا جس کے بعد انہوں نے ’ذہنی انقلاب‘ (cognitive revolution) یا فکری طور پر ’عظیم جست‘ بھری۔ غالباً اس کی بنیادی وجہ زبان اور سوچنے کی صلاحیتوں میں اچانک پیش رفت تھی۔

یونیورسٹی کالج لندن کے ماہر آثار قدیمہ سٹیون شینن کی رائے کے مطابق ثقافتی اختراع کی شرح میں اس وقت زبردست تیزی آئی جب ہمارے ابتدائی جدید انسانی آبا و اجداد نے پہلے سے زیادہ بڑے گروہوں میں رہنا شروع کیا جس کے لیے اعلیٰ درجے کی سماجی اور ذہنی مہارتوں کی ضرورت تھی اور اس بات کی تصدیق آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہر بشریات روبن ڈنبر کے کام سے ہوتی ہے۔

ڈنبر کی تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ درجہ بندیوں اور حریف گروہوں میں تقسیم ہونے سے پہلے مختلف انواع کے اراکین پر مشتمل پرائی میٹس  کے گروہوں کے اراکین کی ایک مخصوص مناسب تعداد ہوا کرتی تھی۔ ڈنبر کی مشہور رائے ہے کہ جدید انسان 150 افراد کے ساتھ مستحکم تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے اسی لیے موثر کمپنیوں، دیہات کی مختصر آبادیوں، موثر فوجی اکائیوں اور ذاتی سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے لیے بہترین تعداد ہے۔

ہمارے ابتدائی جدید انسانی آبا و اجداد کے 150 افراد پر مشتمل گروہوں نے ہمیں ایک مضبوط قوت بنایا، لیکن ڈنبر کے مطابق ہماری اصل طاقت زبان کی ترقی میں پوشیدہ تھی جس کی مدد سے ہم دوستوں اور دشمنوں کی خبر رکھتے اور مفید معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔

اس ’گپ شپ کے نظریے‘ کے تحت انسانی زبان کی نشو و نما قصہ گوئی کی ارتقائی مطابقت کے طور پر ہوئی۔ گپ شپ نے انسانوں کے بڑے گروہوں کو ایک ساتھ رکھنے میں تعاون کیا لیکن اس نے فکشن، فنکارانہ تخلیق اور انتہائی اہم طور پر ان چیزوں پر بات کرنے کی صلاحیت کو جنم دیا جو ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں تھیں۔

یوول نوح ہراری کی بیسٹ سیلر کتاب ’سیپیئنز‘ (Sapiens) ڈنبر کے گپ شپ نظریے کو ہی استعمال کرتے ہوئے یہ رائے پیش کرتی ہے کہ یہ کہانیاں سنانے اور تجریدی انداز میں سوچنے کی مخصوص انسانی خاصیت تھی جس نے صحیح معنوں میں ہمیں زمین کا وارث بننے کا موقع فراہم کیا۔

وہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ ان خیالات کی بنیاد میں فکشن اور داستانوی عناصر کا بنیادی کردار ہو سکتا ہے جنہوں نے ڈنبر کی 150 کے عدد کی حد توڑتے ہوئے مجرد انسانی آبادیوں کو ایک پیچیدہ ثقافت میں تبدیل کیا جس سے بین القبائل اختراعات، انتہائی اہم تجارتی سلسلے، مذاہب اور بالآخر کروڑوں، حتیٰ کہ اربوں افراد پر مشتمل ریاستیں وجود میں آئیں۔

ہراری لکھتے ہیں: ’ابھی تک ان میں سے کوئی ایک بھی چیز ایسی نہیں جو ان کہانیوں سے باہر ہو جو لوگ تخلیق کرتے اور ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ کائنات میں کوئی ایسے دیوتا نہیں، ایسی اقوام، پیسہ، حقوق انسانی، قوانین اور نظام انصاف نہیں جو انسانوں کے تخیئل سے باہر ہوں۔‘

 اس بات کے یقینی شواہد موجود ہیں کہ ابتدائی جدید انسانوں نے طویل فاصلاتی تجارتی سلسلے تیار کر لیے تھے تاکہ یہ اس وقت انہیں غذائی قلت سے بچائیں جب وہ اچانک خوراک کی غیر متوقع کمی کی صورت میں بقا کے خطرے سے دوچار ہوں۔

اس کے برعکس ابتدائی جدید انسانوں کی آمد سے پہلے ایسا لگتا ہے نی اینڈرتھال یورپ میں بہت چھوٹی چھوٹی منتشر، محدود اور مختصر آبادیوں کی صورت میں رہتے تھے جو ان کی تکنیکی ترقی میں پیچھے رہ جانے کا سبب بنا۔

نی اینڈرتھال کے ڈی این اے کے تجزیے میں ہونے والی حالیہ پیش رفتوں نے بھی کئی انکشاف کیے ہیں۔ 1980 کی دہائی میں کروئشیا کے ایک غار سے ملنے والی ہڈیاں ایک مادہ نی اینڈرتھال کی تھیں جو 52 ہزار سال پہلے زندہ تھی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر جینیاتی اعتبار سے وہ ایک اور نی اینڈرتھال سے مماثلت رکھتی تھی جو ایک لاکھ 22 ہزار سال پہلے سائبیریا میں تھا۔ تقریباً چار ہزار میل کے فاصلے اور 70 ہزار سالہ زمانی دوری کے باوجود اس قدر مماثلت سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے کہ نی اینڈرتھال کے جینیاتی تنوع میں کمی نے ان کی معدومیت میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کے برعکس ڈنمارک یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ عصر حاضر کے ابتدائی جدید انسانوں کے جینومز جینیاتی طور پر کہیں زیادہ متنوع تھے جو اس نظریے کی تقویت بخشتی ہے کہ قدیم انسان برادریوں کے بڑے سلسلوں  میں رہتے تھے جہاں انہیں زیادہ باقاعدگی سے جنسی ساتھیوں کے ساتھ جینز اور تصورات کے تبادلے کا موقع ملتا تھا۔

ان کا کہیں زیادہ تنوع متعدی بیماریوں کے خلاف ان کی مزاحمت اور بطور نوع ان کی عمومی کامیابی میں اضافے کا سبب بنا ہو گا۔ ایسا لگتا ہے خونی رشتہ داروں سے جنسی تعلق ابتدائی جدید انسانی ثقافت میں سماجی طور پر ناقابل قبول تھا جب کہ نی اینڈرتھال کے جینومز سے قریبی رشتہ داروں کے باہمی جنسی تعلقات کے وسیع شواہد ملتے ہیں جو الگ تھلگ برادریوں کی صورت میں رہنے کا ایک لازمی نتیجہ تھا۔

آثارِ قدیمہ کے زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ نی اینڈرتھال زبان دانی کی کافی عمدہ صلاحیت رکھتے تھے لیکن ان کی ثقافتی محدودیت کا مطلب ہے جب بھی ان کا سامنا نی اینڈرتھال کے دوسرے گروہوں سے ہوا، زبان کی رکاوٹ نی اینڈرتھال نیٹ ورکنگ کے پھیلاؤ کے آڑے آئی۔

 لیکن محض ہمارا وسیع دائرہ ہی نہیں تھا جس کے باعث ہمارے آبا و اجداد کو فوقیت حاصل رہی۔ ہمارے آبا و اجداد کے دماغوں میں بڑی مقدار میں تبدیلیاں اس وقت رونما ہوئیں جب افریقی عہد کے دوران ’ذہنی انقلاب‘ آیا جس نے انہیں مخالف ماحول میں زندہ رہنے کی بہتر صلاحیتوں سے لیس کر دیا۔

دوسری جانب علیحدہ طور پر یورپ میں ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے نی اینڈرتھال کے دماغوں میں پیرائیل لوب اور سیریبیلم کے حصے کم ڈیویلپ ہوئے جو اوزاروں کے استعمال، تخلیق، مسائل حل کرنے اور اعلیٰ درجے کی تصوراتی سرگرمیوں کا بنیادی مآخذ ہوتے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ ہمارے آبا و اجداد اس لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں سے نمٹنے میں کامیاب رہے کیونکہ وہ زیادہ بھرپور قسم کے اختراع کار تھے۔

سلائی بظاہر کوئی انقلابی ٹیکنالوجی معلوم نہیں ہوتی، مگر اس سے ملتے جلتے دوسرے ہنر جیسے بنائی نے ہمیں جال، پھندے اور شکاری ڈورے بنانے کا موقع فراہم کیا جس سے ابتدائی جدید انسانی برادریوں کے نوجوان اور بوڑھے افراد چھوٹے ممالیہ جانوروں کا شکار کرنے کے قابل ہو سکے اور پروٹین بھری خوراک کا دائرہ وسیع ہو گیا۔

 اگرچہ ہمارے آبا و اجداد نے دور سے پھینک کر شکار کرنے والے آلات اور بعد میں کمانوں اور تیروں کے استعمال سے جانور مار گرانے کے محفوظ طریقے دریافت کر لیے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ نی اینڈرتھال گھات لگا کر بالکل قریب سے شکار کرنے تک محدود رہے جو خطرناک پیشہ ورانہ روش تھی۔

تاہم نی اینڈرتھال کی رہائشی ٹھکانوں سے ایسے شواہد ملتے ہیں کہ معدومیت سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے جدید ترین آلات تیار کر لیے تھے۔ کیمرج یونیورسٹی میں ماقبل تاریخ کے ریٹائرڈ پروفیسر پال میلرز کے پیش کردہ نظریے کے مطابق انہوں نے اپنے نئے پڑوسیوں انسانوں کی نقل شروع کر دی تھی۔

لیکن جدت اختیار کرنے کے معاملے میں شاید انہوں نے بہت دیر کر دی تھی۔  میلرز کا جنوبی فرانس میں موجود نی اینڈرتھال کے رہائشی مقامات اور انسانی نسل کی آبادی کا تقابلی جائزہ چشم کشا ہے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ محض چند ہزار کی آبادی کے ساتھ یورپ پہنچنے کے بعد جدید انسانوں نے جلد ہی نی اینڈرتھالوں کو تعداد میں پچھاڑتے ہوئے ایک کے مقابلے پر اپنی شرح دس کر لی۔

 ماہر بشریات پیٹ شپمین کہتی ہیں کیونکہ ابتدائی انسان جسمانی اعتبار سے کم میٹابولزم کے حامل لمبے اور پتلے تھے سو انہیں شکار کرنے اور خوراک جمع کرنے کے لیے کم توانائی خرچ کرنا پڑتی اور ناموافق حالات میں زندہ رہنے کے لیے کم کیلوریز درکار ہوتی تھیں۔

طویل فاصلے تک چل سکنے والے ایتھلیٹس کے طور پر ان کی برتری میں بھیڑیوں کو سدھانے سے اضافہ ہوا جس نے انہیں زیادہ موثر طور پر شکار کا پتہ لگانے اور قیمتی لاشوں کو دیگر شکار خور جانوروں سے بچانے کے قابل بنایا اور اس طرح انہوں نے اپنے حریف نی اینڈرتھالوں کو بقا کی جنگ میں پیچھے چھوڑ دیا۔

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ میں ہونے والی حالیہ ترقی 95 فیصد اعتماد کے ساتھ بتاتی ہے کہ 45 ہزار سال قبل 26 سو اور 54 سو سالوں کے عرصے میں یورپ میں جدید انسان اور نی اینڈرتھال ایک ساتھ رہتے تھے۔ ہمارے آبا و اجداد کی یورپ میں آمد کے بعد نی اینڈرتھال کا اس قدر جلد معدوم ہونا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے خاتمے کی رفتار میں تیزی کا سبب بنے۔ نی اینڈرتھال کی معدومیت تاریخ کے دلچسپ ترین رازوں میں سے ایک ہے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہم اس کے براہ راست ذمہ دار تھے۔

 یقیناً یہ بات درست ہے کہ دو بہت ہی ملتی جلتی شکاری انواع ایک ہی جگہ پر غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتیں اور اس بات کا امکان ہے کہ رہنے کی جگہوں، غاروں اور شکار کے وسائل کے لیے دونوں میں کھینچا تانی رہی ہو۔ لیکن یہ بات مدنظر رہے کہ اس زمانے میں آبادی بہت کم تھی،  اور ایک اندازے کے مطابق 100 مربع کلومیٹر پر محض ایک انسان یا نی اینڈرتھال کی شرح بنتی ہے، سو دونوں نسلوں میں ایک ساتھ رہنے، مستقل مقابلے یا حتیٰ کہ اچانک ملاقات کے مواقع بھی بہت ہی کم پیدا ہوئے ہوں گے۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ کم از کم کچھ مختصر ملاقاتیں ضرور ہوئی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک سمجھا جاتا تھا کہ نی اینڈرتھال اور جدید ابتدائی انسان مکمل طور پر الگ الگ زندگی گزارتے رہے ہیں لیکن 2014 میں ارتقائی جینیاتی ماہرین نے یہ اعلان کر کے سائنسی برادری کو چونکا دیا کہ بہرحال نی اینڈرتھال مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

جدید انسانی جینوم کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آج تقریباً ہر وہ شخص جس کا نسب زیرِ صحارا افریقہ سے باہر ہے، اس کے جینز میں نی اینڈرتھال کا تھوڑا سا ڈی این اے رکھتا ہے کیوں کہ تاریخ کے جس دور میں بھی جدید ابتدائی انسان کا نی اینڈرتھال سے سامنا ہوا ان کے درمیان باہمی جنسی تعامل کے واقعات پیش آئے۔ لہٰذا دنیا بھر کے بہت سے لوگوں میں تھوڑا سا نی اینڈرتھال موجود ہے۔

 آثارِ قدیمہ کی نئی دریافتیں ایک جدید ترین نی اینڈرتھال ثقافت کی دلکش جھلکیاں پیش کرتی رہتی ہیں۔ جب بات زبان اور فکری نشوونما کی ہو تو علامتی نمائندگی اہمیت رکھتی ہے اس لیے شاید یہ بتانا چاہیے کہ میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے ارتقائی بشریات کی حالیہ تحقیق میں یہ دکھانے کے لیے یورینیم_تھوریم ڈیٹنگ کا استعمال کیا گیا ہے کہ جدید انسانوں کے یورپ میں پہلی بار قدم رکھنے سے 20 ہزار سال قبل سپین میں تین مختلف مقامات پر نی اینڈرتھال غاروں میں آرٹ تخلیق کر رہے تھے۔

اگر نی اینڈرتھال واقعی علامتی سوچ رکھتے تھے تو عین ممکن ہے انہیں عملی طور پر نئے پڑوسیوں، جدید انسانوں سے الگ نہ کیا جا سکے۔ ممکنہ طور پر نی اینڈرتھال شاید ہم سے محض 30 ہزار سال پیچھے تھے اور ایک لاکھ سال قبل ہمارے افریقی آبا و اجداد کی طرف سے بھری گئی عظیم ذہنی جست مکمل کرنے کا موقع ملنے سے پہلے ہی مر گئے۔

شاید اپنی جسمانی طاقت کی وجہ سے ہمارے لحیم و شحیم اور گھنے ابروؤں والے کزنوں کو بے رحم وحشی کے طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے، لیکن ممکنہ طور پر وہ ہمدردی کا جذبہ بھی رکھتے تھے۔ نی اینڈرتھال کی باقیات سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ان کے جسموں پر شکار کے دوران خوفناک زخم لگے جو موت سے کافی عرصہ پہلے ٹھیک ہو چکے تھے، جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے ان زخمیوں کی بھی دیکھ بھال کرتے تھے جو بہت بعد میں ٹھیک ہو کر اپنے گروپ کی بقا میں حصہ ڈالنے کے قابل ہوتے تھے۔

بالکل ابتدائی انسانوں کی طرح انہوں نے اپنے مردوں کو ممکنہ طور پر حیات بعد الموت کے پیش نظر ان کا جسم محفوظ رکھنے کے لیے دفن کیا۔ بعد ازاں نی اینڈرتھال کے تدفین کے مقامات پر قبروں سے متعلقہ کچھ سامان بھی دریافت ہوا اور عراق میں ایک جگہ پر سے حتی کہ پولن کی بھاری مقدار ملی جس سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ پھولوں کے ساتھ دفن کیے گئے تھے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس