ایرانی پارلیمنٹ میں اقتصادی کمیشن کے نائب سربراہ سید کاظم موسوی نے کہا ہے کہ ’ایران میں موسیقی کے آلات کی درآمد ہمارے مفاد میں نہیں کیونکہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ ہے اور یہ بہت سے شہدا اور مذہبی حکام کی سرزمین ہے۔ ایسے آلات اور چشموں کے خواہش مند ایران چھوڑ سکتے ہیں۔‘
انڈپینڈنٹ فارسی کے مطابق کاظم موسوی نے ملک میں موسیقی کے آلات اور چشموں کی درآمد پر پابندی کے اعلان کے بعد کل کہا ’جو لوگ موسیقی کے آلات یا اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں وہ ایران چھوڑ سکتے ہیں۔‘
انہوں نے ایران کی ’آبزرور‘ ویب سائٹ کو آلات موسیقی کی درآمد پر پابندی کی وجوہات کے بارے میں بتایا کہ ’موسیقی کے آلات درآمد کرنا ملک کے بہترین مفاد میں نہیں کیونکہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے آلات موسیقی اور لوازمات اتنے اہم نہیں کہ ہم ان پر وقت اور پیسہ خرچ کریں۔
’ہماری زمین شہدا اور علمائے کرام کی زمین ہے، یہاں موسیقی کے آلات کیوں درآمد کیے جائیں؟‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موسیقی کے آلات اور دھوپ کے چشموں کی موجودگی سے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
’موسیقی کے آلات ان بنیادی ضروریات میں سے نہیں جنہیں ہم لازمی سمجھتے ہیں۔ چاہے دھوپ کا چشمہ پہنیں یا موسیقی کے آلات استعمال کریں اس سے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
’اگر لوگ اپنے موسیقی کے آلات یا ذاتی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں تو دوسرے ممالک بھی ہیں۔ وہ ایران چھوڑ سکتے ہیں۔‘
دھوپ کے چشموں کی درآمد پر پابندی کے بارے میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا ’دھوپ کے چشمے اگر لوگ طبی طور پر استعمال کریں اور علاج کرنے والے معالج نے ان کے استعمال کی سفارش کی ہو، تو اس صورت میں کوئی حرج نہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ اگر دھوپ کے چشمے کے استعمال کے لیے قانون کے اندر کوئی طریقہ کار متعین کیا جائے تو انہیں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھوپ کے چشموں کی درآمد ’لوگوں کی ضروریات اور زیادہ قیمتی نہ ہونے‘ سے مشروط ہے۔
اس سے قبل ایران کے کسٹم سربراہ مہدی میراشرفی نے اعلان کیا تھا کہ موسیقی کے آلات ان اشیا میں شامل ہیں جن کی ایران میں درآمد ممنوع ہے۔
یہ خبر سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے شائع کی اور لکھا ’یاماہا برانڈ کے موسیقی آلات کے 11 کنٹینرز جو 2009 سے ’بوشہر کسٹم‘ میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں کلیئر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ایرانی کسٹم ان کی منظوری جاری نہیں کریں گے۔‘
اس اعلان کے بعد ایران میں چشمہ تیار کرنے والوں کی یونین کے سربراہ غلام علی احنقوبنی نژاد نے اعلان کیا کہ ’دھوپ کے چشموں کی ایران میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے کیونکہ انہیں عیش و عشرت کا سامان سمجھا جاتا تھا۔‘