گھاس پر خون کے دھبے: سقوطِ ڈھاکہ کو اردو شاعروں نے کیسے دیکھا؟

1947 کے واقعات کو تو اردو ادب نے بڑے پیمانے پر موضوع بنایا لیکن 1971 کے بارے میں زیادہ تر خاموشی کی بازگشت ہی سنائی دی۔

خانہ جنگی سے بےگھر ہونے والا ایک بنگالی خاندان 25 جولائی 1971 کو پناہ گزین کیمپ میں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاریخ ہمیں کسی واقعے سے ذہنی طور پر جوڑتی ہے لیکن یہ ادب ہی ہے جو اس واقعے کو احساس کی سطح پر لا کر ہمارے لیے اسے زندہ کر دیتا ہے۔ 

1947 کے دوران ہونے والے فسادات اور بےگھری کے دکھ اعداد و شمار سے سمجھے تو جا سکتے ہیں، لیکن اگر انہیں محسوس کرنا ہے اس کی سوگوار تصویریں اخبار کی خبروں یا تاریخ کی کتابوں میں نہیں بلکہ منٹو، غلام عباس، بیدی، کرشن چندر اور احمد ندیم قاسمی کے افسانوں اور ناصر کاظمی اور فیض احمد فیض کی شاعری میں ملیں گی۔

برصغیر کے بٹوارے کو احساس کا پیرایہ فراہم کرتے ہوئے ہمارے ادیبوں نے متوازی تاریخ رقم کرنے کا حق ادا کر دیا اور شاید ہی کوئی اس رائے سے اختلاف کرے، لیکن سقوط ڈھاکہ کا معاملہ بادی النظر میں مختلف نظر آتا ہے۔ 

فیض احمد فیض کی ایک غزل نما نظم اور ناصر کاظمی کی ایک آدھ غزل کے علاوہ شاید ہی کہیں سقوط ڈھاکہ کی ادبی بازگشت سنائی دے جو آج بھی عوام کے دلوں میں گونج رہی ہو۔  

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تجربہ بٹوارے کی طرح ہمارے تخلیقی ذہنوں کو اُس طرح بڑے پیمانے پر متاثر نہیں کرسکا لیکن ایسا بھی نہیں کہ ہمارے شاعروں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا ہو۔ ایک طرف احمد ندیم قاسمی، حبیب جالب اور احمد فراز جیسے شاعر تھے جن کی تخلیقات اعلیٰ ادبی فن پارہ نہ سہی لیکن احتجاج اور بے بسی کا اظہار ضرور ہیں۔ ندیم کی ’میں روتا ہوں،‘ ’ایک ہی رنگ ہے،‘ ’تتلی،‘ ’سقراط کے بعد‘ باقی ہے اور فراز کی ’سحر کے سورج،‘ ’میں تیرا قاتل‘ جیسی نظمیں ایسی ہی ہنگامی شاعری کی مثال ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جالب کا معاملہ ذرا اس لیے مختلف ہے کہ سیاسی کارکن کے طور پر باقاعدہ متحرک تھے۔ آئیے 1970 کا ایک منظر دیکھتے ہیں۔  

عام انتخابات ہو چکے ہیں اور یحییٰ خان اقتدار حوالے کرنے کے بجائے بندوق کے زور سے من مرضی کرنا چاہتے ہیں۔ حبیب جالب لاہور کی مال روڈ پر ایک اجتماع سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: ’اس وقت چپ رہنا بددیانتی اور جیل سے باہر رہنا بے غیرتی ہے‘ اور پھر اپنا تازہ ترین قطعہ ’محبت گولیوں سے بو رہے ہو‘، سناتے ہیں۔ جالب نے انہی دنوں ایک نظم لکھی ’بگیا لہولہان۔‘

ڈستی ہیں سورج کی کرنیں چاند جلائے جان
پگ پگ موت کے گہرے سائے جیون موت سمان
چاروں اور ہوا پھرتی ہے لے کر تیر کمان
بگیا لہولہان

دوسری طرف وہ لوگ تھے جن کے ہاں یہ سچے تخلیقی تجربے کے طور پر آئی۔ ایسی تمام تخلیقات کا احاطہ تو اس مختصر مضمون میں مشکل ہے لیکن میں نے تین شاعروں کو منتخب کرکے ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ فیض احمد فیض، ناصر کاظمی اور مجید امجد۔ ایک ترقی پسند تحریک کے سرخیل، دوسرے ہمارے غزل کے عمدہ ترین شاعر، تیسرے ادبی مراکز سے دور حاشیے پر بیٹھے فنکار۔ 

جب فیض احمد فیض کئی راتیں سو نہ سکے 

مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران اور سقوط ڈھاکہ کے بعد فیض کی دلی کیفیت ڈاکٹر ایوب مرزا کی کتاب ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘ کے درج ذیل اقتباس سے معلوم ہوتی ہے۔

’مشرقی پاکستان کے وہ دلدوز حالات اور واقعات ایسے ہیں جنہوں نے میرے دل کو فگار کر دیا تھا۔ مجھے زندگی میں اس سے بڑھ کر کسی واقعے سے صدمہ یا دکھ نہیں ہوا۔ میرے یار غار وہاں بے شمار تھے۔ میں نے تو کئی راتیں بے خوابی میں گزاری ہیں۔ میرا تو انسان کی اعلیٰ قدروں پر ایمان ڈانواں ڈول ہونے لگا تھا۔‘

’تہ بہ تہ دل کی کدورت،‘ ’غبار خاطر محفل ٹھہر جائے،‘ ’رفیق راہ تھی منزل،‘ ’پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو‘ اور ’ڈھاکہ سے واپسی پر‘ جیسی نظمیں اپنی ملول فضا سے آج بھی سکتہ طاری کردیتی ہیں۔ ان میں ’ڈھاکہ سے واپسی پر‘ سب سے زیادہ مشہور ہوئی۔ 

دراصل فروری 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شیخ مجیب الرحمٰن پاکستان آئے، جس کے بعد اسی سال جولائی میں ذولفقار علی بھٹو ایک وفد کے ہمراہ بنگلہ دیش پہنچے۔ اس وفد میں فیض صاحب بھی شامل تھے۔ پاکستانی وفد دوستی اور نئے خوشگوار تعلقات کی بلند و بالا توقعات لے کر گیا تھا لیکن شیخ مجیب کی سردمہری نے امیدوں کے بت پاش پاش کر دیئے۔ آغا ناصر کی کتاب ’ہم جیتے جی مصروف رہے، کے مطابق ملاقات کے دوران مجیب الرحمٰن نے فیض سے فرمائش کی کہ ہمارے لیے بھی کچھ لکھیں۔ واپسی پر فیض صاحب نے جہاز میں ہی یہ شعر لکھے اور بعد میں بذریعہ ڈاک مجیب کو بھجوائے۔ 

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کرلیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

 البتہ فیض صاحب پر کچھ بنگالی آج بھی معترض ہیں انہوں نے فوجی آپریشن کے آغاز سے پہلے کبھی اس مسئلے پر ایک شعر تک نہیں لکھا۔ دراصل جب مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان کی تحریک چل رہی تھی، اس وقت فیض صاحب راولپنڈی سازش کیس میں 1951 سے 1955 تک قید رہے۔ لیکن اسی دوران 1952 میں ’دست صبا‘ چھپی جس میں ’ایرانی طلبہ کے نام‘ ان کی ایک بہت مشہور نظم بھی شامل تھی۔

1955 میں منظر عام پر آنے والے ان کے مجموعے ’زنداں نامہ‘ کے اندر ’آ جاؤ ایفریقا‘ جیسی نظمیں ملتی ہیں جس کا مطلب ہے وہ دنیا بھر میں چلنے والی تحریکوں سے جیل میں پوری طرح سے واقف تھے۔ بنگالیوں کا اعتراض کہ زبان کے مسئلے پر گولیوں کا نشانہ بننے والے بنگالی طالب علم فیض کی نظروں سے کیوں اوجھل رہے اور افریقہ کی بات کرنے والے دانش ور بنگال پر چپ سادھ کر کیوں بیٹھے رہے۔ فیض کا ایک پرستار ہونے کے باوجود میرے پاس ان سوالات کے جواب نہیں۔

ساحلوں پہ گانے والوں کو تلاش کرتا ناصر کاظمی

انتظار حسین لکھتے ہیں: ’اس کنارے گولی چلی اور اس کنارے ناصر ہسپتال پڑا تھا۔ یہ دونوں واقعے اس طرح آگے پیچھے گزرے ہیں کہ میں انہیں اپنے ذہن میں الگ الگ نہیں کر سکتا۔‘

حقیقت یہ ہے کہ ہم آج بھی ان دونوں واقعات کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتے۔ ہجرت کے تجربے کو پوری طرح تہذیبی المیہ ہمارے شاعروں میں شاید صرف ناصر کاظمی ہی بنا سکا۔ جب بات مشرقی پاکستان میں ہونے والے خونی مناظر کی ہو تو یہاں بھی ناصر جیسی اثرانگیزی کسی اور شاعر کے ہاں دور دور تک نظر نہیں آتی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران لکھی گئی ناصر کی ایک غزل دیکھیے۔

دھواں سا ہے جو یہ آکاش کے کنارے پر
لگی ہے آگ کہیں رات سے کنارے پر

یہ کالے کوس کی پرہول رات ہے ساتھی
کہیں اماں نہ ملے گی تجھے کنارے پر

صدائیں آتی ہیں اجڑے ہوئے جزیروں سے
کہ آج رات نہ کوئی رہے کنارے پر

یہاں تک آئے ہیں چھینٹے لہو کی بارش کے
وہ رن پڑا ہے کہیں دوسرے کنارے پر

یہ ڈھونڈتا ہے کسے چاند سبز جھیلوں میں
پکارتی ہے ہوا اب کسے کنارے پر

اس انقلاب کی شاید خبر نہ تھی ان کو
جو ناؤ باندھ کے سوتے رہے کنارے پر

ہیں گھات میں ابھی کچھ قافلے لٹیروں کے
ابھی جمائے رہو مورچے کنارے پر

بچھڑ گئے تھے جو طوفاں کی رات میں ناصر
سنا ہے ان میں سے کچھ آ ملے کنارے پر

ناصر نے ہمیشہ کی طرح اس سانحے کو اپنے احساس کی بھٹی میں اس طرح پکایا کہ آج بھی اس کے ایک ایک مصرعے سے آنچ اٹھتی محسوس ہوتی ہے۔ اسی عہد کی ایک اور غزل دیکھیے۔

جنت ماہی گیروں کی
ٹھنڈی رات جزیروں کی

سبز سنہرے کھیتوں پر
پھواریں سرخ لکیروں کی

اس بستی سے آتی ہیں
آوازیں زنجیروں کی

مجھ سے باتیں کرتی ہے
خاموشی تصویروں کی

ناصر کی یہ غزلیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے وہ لاہور میں بستر مرگ پر نہیں بلکہ بنگال کے ساحلوں پر ماہی گیروں  کے ساتھ بیٹھ کر بین کر رہے ہیں۔ ’دیوان‘ میں ان کی آخری غزل پاکستان کی پوری تاریخ کا احاطہ کرتی نظر آتی ہے۔

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

مجید امجد کے سفید گلابوں کا درد

مجید امجد کو ادبی نقادوں نے ’وجودی کرب‘ تک محدود کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اتنے محدود دائرے کے کھلاڑی تھے نہیں۔ سماجی و سیاسی رویوں کو تخلیقی پیراہن کیسے عطا کرنا ہے یہ سقوط ڈھاکہ پر لکھی ان کی نظموں سے بخوبی واضح ہوتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف دو غزلیں، ’جنگ بھی، تیرا دھیان بھی، ہم بھی‘ اور ’پھولوں میں سانس لے کہ برستے بموں میں جی،‘ بالترتیب 12 اور 18 دسمبر 1971 کو لکھیں بلکہ ’ہم تو سدا۔۔۔۔۔۔،‘ ’اکیس دسمبر 1971،‘ ’ریڈیو پر اک قیدی،‘ ’سب کچھ ریت ہے،‘ ’آٹھ جنوری 1972،‘ ’جنگی قیدی کے نام‘ اور ’میلی میلی نگاہوں‘ جیسی اس دور کی اپنی نظموں میں اس سانحے کو شدت سے اپنی تخلیقی واردات کا حصہ بنایا۔ میرے خیال میں ان میں عمدہ ترین نظم ’اکیس دسمبر 1971‘ ہے۔ 

رات آئی ہے، اب تو تمہارے چمکتے چہروں سے بھی ڈر لگتا ہے
اے میرے آنگن میں کھلنے والے سفید گلاب کے پھولو،
شام سے تم بھی میرے کمرے کے گلدان میں آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔ورنہ راتوں کو آسمانوں پر اڑنے والے بارودی عفریت، اس چاندنی میں، جب
چمک تمہارے چہروں کی دیکھیں گے
تو میرے ہونے پر جل جل جائیں گے اور جھپٹ جھپٹ کر
موت کے تپتے دھمکتے گڑہوں سے بھربھر دیں گے اس آنگن کو
اب تو تمہارا ہونا اک خدشہ ہے،
اب تو تمہارا ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کی موت ہے
شاخ سے ٹوٹ کے میرے خودآگاہ خیالوں کے گلدان میں اب آ جاؤ
۔۔۔۔۔۔اور یوں مت سہمو۔۔۔۔۔کل پھر یہ ٹہنیاں پھوٹیں گی۔۔۔۔۔کل پھر سے پھوٹیں گی سب ٹہنیاں ’
آتی صبحوں میں پھر ہم سب مل کے کھلیں گے، اس پھلواڑی میں۔۔۔۔۔۔

سقوطِ مشرقی پاکستان کے بارے میں لکھے گئے کچھ اور شعر جو مشہور ہوئے:

 جلیل عالی

 اس دن ایسی سرخی تھی اخباروں میں
 گونگے ہوگئے شہر کے سارے ہاکر بھی

نصیر ترابی

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ادب