خاران میں آپریشن کے دوران تین عسکریت پسند جان سے گئے جبکہ مستونگ میں ایک خودکش حملہ آور سمیت پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔
ڈی آئی جی کوئٹہ شوکت عمران کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایک ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا، جس کی وجہ سے ملزم کی نہ صرف بروقت نشاندہی ہوئی بلکہ مزاحمت پر وہ جوابی فائرنگ میں مارا بھی گیا۔