محقق پروفیسر ہادی لاریجانی کے مطابق، یہ آلہ دوروں کا پتہ لگانے کے لیے دماغی لہروں اور دل کے افعال کا تجزیہ کر کے کام کرتا ہے۔
بیماریاں
ماہرین کے مطابق خلا سے متعلق خطرات مزید بڑھیں گے جب انسان نظام شمسی کی مزید گہرائی کو ناپنے کی کوشش کرے گا اور مریخ تک جانے کی کوشش کرے گا۔