آغا خان یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک سادہ، کم لاگت اور گھریلو سطح پر استعمال ہونے والا پانی کا فلٹر پاکستان کے دیہی سندھ میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اسہال کی بیماریوں میں نمایاں کمی اور غذائی حالت میں قابل پیمائش بہتری لا رہا ہے۔
تحقیق کے ابتدائی نتائج کو ماہرین نے نہایت حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ یہ تحقیق بدھ کو کراچی میں منعقدہ ایک سیمینار میں پیش کی گئی، جس کا عنوان تھا ’پانی بطور غذائیت: صاف پانی سندھ میں غذائیت کی کمی کے سائیکل کو کیسے توڑتا ہے؟‘
تحقیقی رپورٹ کے مطابق بغیر بجلی کے چلنے والا اور استعمال میں آسان یہ فلٹر، جس کی سالانہ لاگت محض پانچ سے آٹھ امریکی ڈالر ہے، پاکستان میں بچوں کی غذائی قلت اور قابل تدارک اموات کی بلند شرح کے خلاف ایک مؤثر اور اہم مداخلت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پانی کو صاف کرنے کے پیچیدہ طریقوں کے برعکس اس فلٹر کے لیے نہ بجلی درکار ہے، نہ ایندھن اور نہ ہی روزانہ کی بنیاد پر کیمیکل شامل کرنے کی ضرورت، جس کے باعث یہ غریب اور دور دراز دیہی گھرانوں کے لیے خاص طور پر موزوں ثابت ہوا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کا تیار کردہ کم لاگت واٹر فلٹر (آغا خان یونیورسٹی)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جامشورو کے سیلاب سے متاثرہ علاقے جھنگارا میں کی گئی تحقیق کے دوران اس فلٹر کے استعمال کی شرح 98 فیصد سے زائد رہی، جہاں تقریباً تمام شریک خاندان مستقل طور پر فلٹر شدہ پانی استعمال کرتے رہے۔
سیمینار میں پیش کیے گئے نتائج کے مطابق فلٹر کے استعمال کے آٹھ ماہ کے عرصے میں صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔
تحقیق کے مطابق فلٹر شدہ پانی کے استعمال سے بچوں میں وزن کی کمی (انڈر ویٹ) میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ ویسٹنگ میں 12 فیصد اور چھوٹے قد (سٹنٹنگ) میں سات فیصد کمی دیکھی گئی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی ہیلتھ سائنسز میں ماحولیاتی و پیشہ ورانہ صحت اور موسمیاتی تبدیلی کے سربراہ اور اس تحقیق کے مرکزی محقق پروفیسر ظفر فاطمی نے کہا ’یہ پہلی بار ہے کہ ہم کسی گھریلو پانی کی مداخلت میں تقریباً مکمل استعمال دیکھ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
’یہاں محفوظ پانی غذائیت کی طرح کام کر رہا ہے۔ اسہال کی روک تھام کے ذریعے یہ بچوں کو خوراک صحیح طرح جذب کرنے اور تیزی سے صحت یاب ہونے میں مدد دیتا ہے۔‘
آغا خان نویورسٹی کے زیر اہتممام منعقدہ سیمینار’پانی بطور غذائیت: صاف پانی سندھ میں غذائیت کی کمی کے سائیکل کو کیسے توڑتا ہے؟‘ کا ایک منظر (آغا خان یونیورسٹی)
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسہال اور غذائی قلت کے چکر کو توڑ کر یہ سادہ ٹیکنالوجی ایک طاقتور، مؤثر اور قابل توسیع حل فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس تحقیق کی شریک مرکزی محقق اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حرا طارق نے کہا کہ دیہی علاقوں میں، جہاں پائپ کے ذریعے صاف پانی دستیاب نہیں، خاندانوں سے روزانہ پانی میں کلورین شامل کرنے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
’یہ فلٹر پس منظر میں خاموشی سے کام کرتا ہے اور کمیونٹیز نے اسے مکمل طور پر قبول کر لیا ہے۔‘
سیمینار کے اختتام پر ایک پالیسی پینل کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں واٹرایڈ، پاکستان کونسل آف واٹر ریسورسز اور سرکاری صحت کے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس موقعے پر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر نافذ کرنے اور قومی سطح پر اپنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی ہیلتھ سائنسز کے چیئرمین پروفیسر اسد علی نے کہا کہ ’اگر اس کم لاگت مداخلت کو وسیع پیمانے پر نافذ کیا جائے تو یہ دیہی پاکستان میں اسہال، غذائی قلت اور قابلِ تدارک بچوں کی اموات میں ڈرامائی کمی لا سکتی ہے۔‘