سندھ میں نہروں کی بندش سے بیشتر علاقوں میں پینے کا پانی ناپید

سندھ کے دیہی علاقوں میں صاف پانی کے تالاب سیلابی پانی سے آلودہ ہو گئے ہیں اور بیشتر علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

بارشیں بند ہونے کے بعد محکمہ آبپاشی سندھ نے نہروں میں پانی چھوڑنا شروع کر دیا ہے (امرگرڑو/ انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان میں مون سون کی بارشوں اور سیلاب کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبہ سندھ کے کئی شہروں میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

ویسے تو صوبے کے اکثر علاقوں میں ہر طرف سیلاب کا پانی کھڑا نظر آرہا ہے، تاہم محکمہ آبپاشی سندھ کی جانب سے نہروں کی بندش کی وجہ سے بیشتر شہروں میں پینے کا صاف پانی نہیں پہنچ پا رہا۔

محکمہ آبپاشی سندھ کے وزیر جام خان شورو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں تصدیق کی کہ صوبے میں سیلابی پانی کی موجودگی کے باعث سکھر اور کوٹری بیراجوں سے نکلنے والی تمام نہروں کو پانی کا اخراج روک دیا گیا تھا۔ 

پینے کا پانی ناپید

نارا کینال کی بندش کے باعث سانگھڑ اور عمر کوٹ اضلاع کے کئی شہروں میں پینے کا پانی ناپید ہو گیا ہے۔

ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو کے گاؤں کھاہی شہر کے رہائشی گوری شنکر کھتری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نہریں گذشتہ ایک مہینے سے مکمل طور پر بند ہیں اور شہر میں پینے کے پانی کے تالاب میں بارش کا پانی بھی شامل ہو گیا ہے۔

گوری شنکر کا کہنا تھا: ’پینے کے پانی کے تالاب کے بارش کے پانی کی وجہ سے گندہ ہونے کے بعد لوگ وہی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔‘

سکھر بیراج سے نہریں بند ہونے کے باعث لوگ نہروں کو سیلابی پانی کی نکاسی کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔  

کھپرو شہر کے رہائشی سلمان راجڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’تالابوں میں موجود گندے پانی کے استعمال سے بڑے پیمانے پر پیٹ کے امراض پھیل گئے ہیں اور تین چار دن میں صاف پانی نہیں پہنچا تو بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔‘

سلمان راجڑ نے مزید بتایا کہ ان کے چچا نے کھپرو میں پانچ ایکڑ پر کھڑی کپاس کی فصل کو ان کی زمین کے چاروں طرف بند باندھ کر سیلاب سے تو بچا لیا تھا، لیکن نہروں میں پانی نہ آنے کے باعث وہی فصل جل گئی۔

کنٹرول روم سکھر بیراج کے اعلامیے کے مطابق نارا کینال کو بدھ کی رات کھول دیا گیا تھا۔  

تاہم سلمان راجڑ کے خیال میں سکھر بیراج سے نکلنے والی نارا کینال کے کھلنے کے بعد بھی پانی کو ان کے شہر (کھپرو) تک پہنچنے میں آٹھ سے دس دن لگیں گے۔

سکھر بیراج کے بائیں جانب سے نکلنے والے روہڑی کینال میں بھی پانی کھول دیا گیا ہے، مگر اس کے باجود اس نہر سے پینے کا پانی لینے والے شہروں کو آب شفاف میسر نہیں ہے۔

نوشہرو فیروز شہر کے رہائشی اور محکمہ اطلاعات سندھ کے افسر عباس گوراہو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’جو شہر روہڑی کینال سے پینے کا پانی لیتے ہیں، ان کے لیے بھی نہر کے کھلنے کے باجود ابھی صاف پانی میسر نہیں ہوا۔‘

15 ہزار کیوسک گنجائش والی روہڑی کینال سے ابھی صرف 1800 کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے، جس کی وجہ سے نہر میں پہلے سے موجود بارش کا گندا پانی کم مقدار میں آنے والے صاف پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔

روہڑی کینال جیسی صورت حال صوبے کی دوسری نہروں میں بھی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ سے نہروں کے کھلنے کے باوجود صاف پینے کے پانی کی کمی تاحال موجود ہے۔

اسی طرح سکھر بیراج سے نکلنے والی نہروں دادو کینال اور رائس کینال، اور کوٹری بیراج کی نہریں اکرم کینال یا لائینڈ کینال، پھلہیلی اور پنیاری کینال کے پانی بھی سیلابی ریلوں کے باعث آلودہ ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ کئی شہروں کو پانی دینے والے خیرپور فیڈر ایسٹ اور خیرپور فیڈر ویسٹ اور بلوچستان کو پانی فراہم کرنے والی نارتھ ویسٹ کینال تاحال بند ہیں اور ان نہروں سے پانی حاصل کرنے والے شہروں میں پینے کے صاف پانی کی قلت سامنا ہے۔

نہریں کیوں بند کی گئیں؟

محکمہ آبپاشی سندھ کے وزیر جام خان شورو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ شدید بارشوں کے بعد صوبے میں سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی تو دو اسباب کے باعث سکھر اور کوٹری بیراجوں سے نکلنے والی تمام نہروں کو بند کر دیا گیا تھا۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نہریں شگاف پڑنے سے سیلاب آنے کے خطرے کے پیش نظر بند کی گئی تھیں، جبکہ صوبے میں زرعی اراضی کے مکمل طور پر زیرِ آب ہونے کے باعث بیراجوں کے پانی کی ضرورت نہیں رہی تھی۔

جام خان شورو نے مزید کہا کہ بارشیں کم ہونے کے بعد آہستہ آہستہ دونوں بیراجوں سے نکلنے والی نہروں کو کھولنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ کوٹری بیراج کی تمام نہریں چند روز پہلے ہی کھول دی گئی تھیں جبکہ سکھر بیراج سے نکلنے والی نہروں کو بھی کھولا جا رہا ہے۔

سکھر بیراج سے سات بڑی نہریں نکلتی ہیں، جن میں سے چار نارا کینال، روہڑی کینال، خیرپور فیڈر ایسٹ اور خیرپور فیڈر ویسٹ بیراج کے بائیں جانب جبکہ دائیں طرف سے تین نہریں دادو کینال، رائس کینال اور بلوچستان کو پانی فراہم کرنے والی نارتھ ویسٹ کینال شامل ہیں۔ 

اسی طرح کوٹری بیراج پر دائیں جانب کراچی کے لیے کینجھر جھیل کو پانی فراہم کرنے والی کلری بگہار یا کے بی فیڈر کینال اور بائیں جانب تین اکرم کینال یا لائینڈ کینال، پنیاری کینال اور پھلہیلی کینال شامل ہیں۔  

سکھر بیراج کے بائیں جانب سے نکلنے والی سب سے بڑی 600 میل لمبی نہر روہڑی کینال 28 لاکھ ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرتی ہے جبکہ 226 میل طویل نارا کینال کے پانی سے 21 لاکھ 76 ہزار ایکڑ زمین پر پھیلی فصلوں کو پانی ملتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات