متاثرین کا پینے کے لیے سیلابی پانی پر انحصار

سندھ کے علاقے سیہون کے سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ صاف پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شہری ٹھہرے ہوئے سیلابی پانی میں نہا بھی رہے ہیں اور اسے پینے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔

سیہون میں 16 ستمبر 2022 کو لی گئی تصویر میں ایک خاتون سیلابی پانی سے گزر رہی ہیں (روئٹرز)

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں جبکہ کئی جگہوں پر صاف پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شہری ٹھہرے ہوئے سیلابی پانی میں نہا رہے ہیں اور وہی پینے پر بھی مجبور ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے رواں ہفتے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ملیریا، ڈینگی بخار، اسہال اور جلد کے مسائل سمیت مختلف بیماریاں عام ہو چکی ہیں اور ہزاروں مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیلابی پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی ہے، تاہم پانی کو مکمل طور پر ختم ہونے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں جس دوران آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریاں پھیلے رہنے کا خدشہ ہے۔

سیلاب سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد چلچلاتی دھوپ میں کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں جہاں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیئس سے تجاوز کر جاتا ہے اور کئی لوگوں کو اب تک صاف پانی تک رسائی نہیں۔

سندھ کے شہر سیہون کے رہائشی عبدالعزیز نے روئٹرز کو بتایا: ’گرمی بہت زیادہ ہے اور ہم سیلاب کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ تو ہم اس پانی میں صرف نہاتے نہیں بلکے ہم یہی پانی پیتے بھی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ہمارے پاس دوسرا کوئی چارہ نہیں ہے یہی پانی استعمال کرنا پڑے گا کیوں کہ حکومت کی طرف سے ہمیں صاف پانی نہیں ملتا ہے۔‘

عبدالعزیز کے آس پاس بھی لوگ ٹھہرے ہوئے سیلابی پانی میں موجود خطروں سے لاعلم پانی میں چلتے نظر آئے۔

وزیر صحت سندھ کی ترجمان مہر خورشید اس سے قبل انڈپینڈنٹ اردو کو بتا چکی ہیں کہ ’سیلاب کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے لگائے گئے سرکاری کیمپوں میں 15 ستمبر تک 13599 سانس کی تکلیف کے مریض رپورٹ ہوئے، 14263 ڈائریا، جبکہ 20 ہزار سے زائد کیس جلد کے مختلف امراض میں رپورٹ ہوئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ کھڑا ہو جانے والا پانی بیماریوں کو جنم دے رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مون سون بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی وجہ سے تباہ کن سیلاب میں 1500 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں کم از کم 528 بچے شامل ہیں۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فاضل نے روئٹرز کو بتایا: ’میں گذشتہ دو دن سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہوں۔ یہاں خاندانوں کی صورت حال ابتر ہے۔ میں نے جو کہانیاں سنیں وہ مایوس کن تصویر کشی کر رہی ہیں۔‘

فاضل کے بقول: ’ہم سب غذائی قلت کے شکار بچوں کو اسہال، ملیریا، ڈینگی بخار، اور بہت سے لوگوں کو جلد کی تکلیف دہ حالتوں سے لڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔‘

دیہی علاقوں میں خواتین اور بچے جو زیادہ خوراک کی کمی اور خراب صحت کا شکار ہیں انہیں خاص طور پر خطرات لاحق ہیں۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق سیلاب سے ایک کروڑ 60 لاکھ  بچے متاثر ہوئے ہیں اور کم از کم تین لاکھ 40 ہزار لڑکے لڑکیوں کو فوری طور پر زندگی بچانے والی مدد کی ضرورت ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں لاکھوں مریض صحت کے عارضی مراکز گئے جہاں انہوں نے سانس کی تکلیف،  جلد کی بیماریوں جیسے کہ خارش، آنکھوں میں انفیکشن اور ٹائیفائیڈ جیسے امراض کا علاج کروایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان