سندھ میں سیلاب کے بعد کشتیوں کی مانگ میں اضافہ

کشتیاں خریدنے اور بنانے والوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام سیلاب زدگان کو پانیوں میں سے نکالنے اور سامان کی ترسیل کے لیے کر رہے ہیں۔

صوبہ سندھ میں سیلاب کے نتیجے میں کشتیوں کی طلب اضافہ ہو گیا ہے جسے پورا کرنے کے لیے ماہی گیر تیزی سے نئی کشتیاں بنا رہے ہیں۔

ملک میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی منچھر جیل کے آس پاس کا وہ علاقہ جہاں چند ہفتے قبل گاڑیاں اور بیل گاڑیاں چلتی تھیں، سیلاب کے پانی میں ڈوب چکا ہے اور اب کشتیاں لوگوں اور سامان کو محفوظ مقام تک پہنچانے کا اہم ذریعہ بن گئی ہیں۔

اس صورت حال کے پیش نظر نئی کشتی خریدنے والے غلام نبی کہتے ہیں کہ ’بہت سے دیہات میں اب بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں باہر نکالنا ہوگا۔ اس کے علاوہ سیلاب زدہ علاقے میں سامان کی ترسیل کرنی ہوگی۔

’یہی وجہ ہے کہ یہ کشتیاں بنائی جا رہی ہیں اور ہم انہیں خرید رہے ہیں۔ ان کشتیوں سے ہم سب اپنی روزی کما رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ایک کشتی تقریباً دو لاکھ روپے کے قریب ملتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ سیلاب کے نتیجے میں مکانات، سڑکیں، ریلوے ٹریک، پل، مویشی اور فصلیں بہہ گئی ہیں اور کم از کم ایک ہزار391 افراد جان سے گئے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ تقریباً تین کروڑ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

کشتیوں کی فروخت کے حوالے سے مقامی ماہی گیر عبداللہ ملاح نے کہا کہ ’ہم ماہی گیر ہیں۔ ہم یہ کشتیاں اس لیے بنا رہے ہیں کہ ہمارے کچھ لوگ اب بھی اپنے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

’وہ بڑی مشکل میں ہیں۔ ہم کشتیاں بنائیں گے تاکہ انہیں باہر نکال سکیں۔‘
 

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت