سیلاب سے سندھ بھر میں تباہی مگر مکلی قبرستان میں ہریالی

سندھ میں جہاں ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، وہیں ٹھٹھہ شہر کے قریب تاریخی مکلی قبرستان نے ہریالی کی چادر اوڑھ لی ہے۔

مکلی قبرستان دنیا بھر کے وسیع قبرستانوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں کے بعد خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے کئی علاقوں کے ساتھ ساتھ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں کئی علاقے تاحال زیر آب ہیں۔

سندھ میں جہاں ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، وہیں ٹھٹھہ شہر کے قریب تاریخی مکلی قبرستان نے ہریالی کی چادر اوڑھ لی ہے۔

مکلی قبرستان دنیا بھر کے وسیع قبرستانوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس میں 14ویں صدی عیسوی سے 18ویں صدی کے حکمران خاندانوں اور جنگجوؤں کی قبریں موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو اور محکمہ ثقافت سندھ کے ریکارڈ کے مطابق مکلی قبرستان میں پانچ لاکھ مقبرے اور قبریں موجود ہیں۔ یہ قبرستان مکلی کی پہاڑی پر دس مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیسکو کی جانب سے پاکستان بھر میں صرف چھ تاریخی مقامات کو عالمی ورثہ قرار دیا گیا ہے، جن میں موہن جو دڑو اور مکلی قبرستان کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

مکلی قبرستان کے کیوریٹر سرفراز جتوئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عام طور پر مکلی قبرستان کے درختوں کو پانی دینا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے، کیوں کہ یہ ایک پہاڑی پر واقع ہے اور پتھریلی زمین کے باعث یہاں درخت اگانا مشکل کام ہے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ ’حالیہ بارشوں کے بعد مکلی قبرستان نے ہریالی کی چادر اوڑھ لی ہے۔ قبرستان مکمل طور پر ہرا ہو گیا ہے اور پورے قبرستان میں گھاس اگ آئی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان