اب قبرستان ہرے بھرے پارکوں میں بدلیں گے؟

نوجوان ڈچ بائیو ڈیزائنر کی ایک ایجاد انسانوں کے دفنانے کے عمل کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے گی۔

ہینڈرکس نے مستقبل کا ایسا خاکہ پیش کیا ہے جہاں کتبوں سے بھرے قبرستان ہرے بھرے درختوں سے بھرے پارکوں میں تبدیل ہو جائیں گے (لورین رضاوی)

گذشتہ ہفتے باب ہینڈرکس کے لیے کافی ہنگامہ خیر رہا۔ پچھلے پیر کی ہی بات ہے جب ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں نوجوان ڈچ بائیو ڈیزائنر کی اس تحقیق کو شامل کیا گیا جس پر وہ خفیہ طور پر کام کر رہے تھے۔ یہ ان کے لیے سال کا بہترین لمحہ تھا۔

جب ان کی اس ایجاد کی خبر بریک ہوئی تو یہ تیزی سے وائرل ہوگئی۔ کچھ ہی دنوں میں وہ ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر نمودار ہوئے اور دنیا بھر میں سرخیوں کا حصہ بن گئے۔

26 سالہ ہینڈرکس نے ایک ایسا پائیدار تابوت تخلیق کیا ہے جسے مشروم (کھمبی) کے ’میسیلیم‘ نامی فائبر سے تیار کیا گیا ہے۔ ’زندہ خول‘ نامی اس تابوت میں استعمال ہونے والا جادوئی مشروم قدرتی ری سائیکلر کے طور پر کام کرتا ہے، جو لاشوں کو کھاد میں تبدیل کرنے میں مدد کرتا ہے۔

ہینڈرکس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’میسیلیم فضلے کو مستقل تلاش کرتا ہے اور ماحول کے لیے انھیں غذائی اجزا میں بدل دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ مٹی سے تیل، پلاسٹک اور دھات جیسے زہریلے مادے کو بھی ہٹا دیتا ہے اور ڈی کمپوزیشن (گھلنے سڑنے) کے قدرتی عمل میں مدد کرتا ہے، یہ زیر زمین ہر چیز کو بھی آپس میں جوڑتا ہے لہٰذا آپ اسے قدرتی انٹرنیٹ سمجھ سکتے ہیں۔‘

انسانوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کی صورت میں تابوتوں میں موجود میسیلیم جسم کو گلنے میں مدد کرے گا جس سے نئی زندگی جنم لیتی ہے۔

یہ ایجاد انسانوں کے دفنانے کے عمل کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے گی۔ ہینڈرکس نے مستقبل کا ایسا خاکہ پیش کیا ہے جہاں کتبوں سے بھرے قبرستان ہرے بھرے درختوں سے بھرے پارکوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ انہوں نے اس ری سائیکل ایبل تابوت کا نظریہ گذشتہ اکتوبر میں ’ڈچ ڈیزائن ویک‘ کے دوران (اتفاقیہ طور پر) پیش کیا تھا۔

ہوا کچھ یوں کہ میسیلیم سے بنے ہوئے ہوم پاڈ ڈیزائن کی نمائش کے دوران ایک لڑکی نے ہنستے ہوئے ان سے پوچھا: ’اگر میری دادی فوت ہوجائیں تو کیا میں انہیں اس کے اندر چھوڑ سکتی ہوں؟‘ لیکن ہینڈرکس نے اس لطیفے کو سنجیدگی سے لیا اور میسیلیم سے تابوت بنانے کی تحقیق کا آغاز کر دیا۔

انہوں نے لوپ نامی ایک سٹارٹ اپ کی بنیاد رکھی اور اسے پروٹو ٹائپ بنانے اور آخری رسومات میں اس کے استعمال کو جانچنے میں 12 ماہ سے بھی کم وقت لگایا۔ رواں ماہ کے دوران پہلی بار میسیلیم سے بنے تابوت میں ایک 82 سالہ ڈچ خاتون کو دفن کیا گیا۔

تابوت بنانے کے لیے ہینڈرکس اور ان کی ٹیم نے کیمیکل ردعمل پیدا کرنے کے لیے میسیلیم کو ایک خول میں دیگر عناصر کے ساتھ ملایا۔ میسیلیم نے ایک انزائم (کیمیائی خمیر) پیدا کیا جس نے بڑھتے ہوئے خود کو خول کی شکل میں ڈھال لیا۔ ’زندہ خول‘ کو بڑھنے میں صرف سات دن لگتے ہیں اور اس عمل میں کسی قسم کی توانائی، حرارت یا روشنی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تابوتوں اور ان کے اندر رکھی گئیں لاشوں کو گلنے میں تین سال سے بھی کم کا وقت لگتا ہے۔

اس کے برعکس روایتی تابوتوں کو زمین کا حصہ بننے میں کم از کم 10 سال لگتے ہیں اور اس عمل میں وارنش (روغن)، پینٹ اور دھات کی فکسچر زمینی آلودگی کا ایک ذریعہ بنتے ہیں۔ دوسری جانب لاشوں کو نذر آتش کیے جانے کے بڑھتے ہوئے مقبول متبادل میں ایندھن کا وسیع استعمال ہوتا ہے جس سے ماحول میں نقصان دہ کاربن کے ذرات خارج ہوتے ہیں۔

انسان بانس، بید اور کیلے کے پتے اور یہاں تک کہ گتے کے تابوت جیسے سستے اور ماحول دوست تدفین کے ذرائع تلاش کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہینڈرکس پہلے شخص نہیں، جنہوں نے موت کے بعد انسان کو نئی زندگی (کھاد اور پھر نباتات) میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہو۔

نیو یارک کی ڈیزائنر شائنا گارفیلڈ نے فنگس (پھپھوندی) کے ذریعے ایک مختلف قسم کا ری سائیکل ایبل تابوت تیار کیا ہے اور جنوبی کوریائی آرٹسٹ جائی ریم لی نے تدفین کے لیے مشروم سے بنے ایک سوٹ کا خیال پیش کیا ہے۔

لیکن ہینڈرکس کا میسیلیم کو، جو چرنوبل ایٹمی دھماکے سے تباہ شدہ مٹی کی بحالی کے لیے استعمال کیا گیا ہے، تابوت کے لیے استعمال کرنے کا خیال اتنا ہی موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ تو کیا یہ تابوت 21 ویں صدی میں تدفین کے لیے ایک نیا طریقہ کار ہو گا؟

روٹرڈیم سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ جیلے ہٹنبور، جو ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ایکس آر‘ کے کارکن اور بہت سے نوجوانوں میں سے ایک ہیں، ری سائیکلنگ کی بنیاد پر اس ایجاد کی حمایت کرتے ہیں۔ ’یہ (تدفین کا) ڈیزائن قابل فہم ہے. ہماری موجودہ تدفین کا عمل انتہائی نقصان دہ ہے۔ ہم سب فطرت کا حصہ ہیں اور یقیناً ہمیں مرنے کے بعد اس کی طرف لوٹنا چاہیے۔‘

شہری تعمیرات کی ڈیزائنر ایلیسن کلنگ نے یورپ بھر کے شہروں کے فن تعمیر اور ثقافت کے حوالے سے موت کے کردار پر کئی سالوں تک مطالعہ کیا ہے۔وہ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ مختلف ممالک میں تدفین کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں مرنے والوں کی قبروں کو ان کا مستقل آخری ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ تدفین کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے۔

تاہم ہالینڈ میں ایک قبر کو صرف 20 سال تک کی مدت میں کے لیے کرایہ پر لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مردوں کی باقیات کو وہاں سے نکال کر جلا دیا جاتا ہے اور اس جگہ کو دوسرے افراد کی تدفین کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس طرح تدفین کے طریقوں میں اختلافات سے ایلیسن کلنگ کو شک ہے کہ تدفین کے نئے کنونشنز کو دنیا بھر میں تیزی سے نہیں اپنایا جائے گا۔ ’یہ نیا تابوت ایک حیرت انگیز ایجاد ہے لیکن اگلے مسٔلے سے نمٹنے کے لیے اس کے تکنیکی پہلوؤں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ موت اور موت کے بعد کی رسومات کے ساتھ لوگوں کے تعلق کو تبدیل کرنے کے بارے میں ہے۔ مختلف ممالک اور مذاہب میں اس حوالے سے پہلے ہی کافی اختلافات ہیں لہٰذا ابھی اچانک اور وسیع پیمانے پر تبدیلی کا تصور کرنا مشکل ہے۔‘

لاگت بھی اس میں ایک رکاوٹ بن سکتی ہے۔ایک ’زندہ خول‘ کی قیمت فی الحال دو ہزار یوروز کے لگ بھگ ہے لیکن ہینڈرکس چاہتے ہیں کہ ایسے ایک تابوت کی قیمت 500 یوروز تک ہونی چاہیے تاکہ یہ ہر ایک کی پہنچ میں ہو۔ زیادہ قیمت کے باوجود اس پر عوامی ردعمل اب تک مثبت رہا ہے۔ 10 تابوتوں کی پہلی کھیپ رواں ماہ کے اوائل میں فروخت کے لیے رکھی گئی تھی جو ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں فروخت ہوگئی۔ اس کے فوری بعد اس طریقے سے پہلی بار یہ تدفین عمل میں آئی۔

ہینڈرکس کا کہنا ہے کہ وہ ابھی ڈچ مارکیٹ پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ ’ایمان داری سے کہوں تو میرا مشن سادہ ہے۔ میں آلودہ علاقوں میں جانا چاہتا ہوں، میسیلیم کا استعمال کرتے ہوئے گندگی کو صاف کرنا چاہتا ہوں اور خوبصورت جنگلات لگانا چاہتا ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم زمین کو دوبارہ تخلیق کرنے اور انسان کی جانب سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں نئے اور بہتر طریقوں اپنانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح سے میں اسے دیکھ رہا ہوں، اگر ہم فطرت کی مدد کریں تو فطرت ہماری مدد کرے گی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس