سٹیٹ بینک کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور مرکزی بینک فوری ادائیگی نظام ’راست‘ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
اگر بانڈز اور دوسرے سرکاری اثاثوں کو بلاک چین پر ڈیجیٹل ٹوکن کی صورت میں پیش کیا جائے تو کیا عالمی سرمایہ کاروں تک براہ راست رسائی مل سکتی ہے؟