محققین کے مطابق منہ میں موجود جراثیم کی ساخت کو ڈپریشن کی تشخیص اور علاج میں مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں 59 بائیو لیبارٹریاں بے حد خطرناک وائرس اور بیکٹریا پر کام کر رہی ہیں۔ تاہم سائنس دان فکر مند ہیں کہ ان لیبز کے انتہائی محفوظ ہونے کے باوجود یہاں سے حادثاتی طور پر لیک ہونے والے وائرس تباہی پھیلا سکتے ہیں۔