مرد پروفیسر یونیورسٹی کی سینیئر قیادت کے ساتھ بس یوں ہی چائے پیتے ہوئے یا چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے کئی کام نکلوا لیتے ہیں جبکہ خواتین کو سینیئر قیادت سے ملنے کے لیے باقاعدہ میٹنگ کی درخواست کرنا پڑتی ہے۔
فلسطین ایکشن ویب سائٹ کے مطابق ’عمارت پر سرخ رنگ کا چھڑکاؤ ایک ایسے تعلیمی سال کے اختتام پر کیا گیا جس میں یونیورسٹی کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے، حتیٰ کہ اس کے خلاف ایک بیان تک جاری نہیں کیا گیا۔