آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ حملے میں ایک بلوچ خاتون کو استعمال کرنا بلوچ خواتین کی حرمت کے خلاف جرم اور اسلامی روایات کے منافی ہے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ان افراد کو روزگار کا جھانسہ دے کر پنجاب سے گوادر بلایا گیا تھا، جس کے بعد ملزمان نے یرغمالیوں کو ایک بنگلے میں قید کرکے ان کے اہلِ خانہ سے مزید رقم منگوانے کے لیے دباؤ ڈالا۔