انڈین پنجاب میں یہ سرائیکی گیت ’چھلڑے چھلڑے وال‘ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ سنندا شرما کے بعد اب کئی سکھ، ہندو اور مسلمان گلوکار اس گیت کو اپنی اپنی آواز میں گا رہے ہیں اور سرائیکی زبان کی مٹھاس، مٹی کی خوشبو اور شاعری کے سحر کا کھل کر اعتراف کر رہے ہیں۔
محمد عمر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تائیکوانڈو کا شوق انہیں خود نہیں بلکہ ان کے والد کو تھا، تاہم وہ حالات کی وجہ سے یہ کھیل جاری نہ رکھ سکے۔