وال سٹریٹ جرنل نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ حملے نسبتاً چھوٹے پیمانے پر کیے گئے اور انہیں جان بوجھ کر خفیہ رکھا گیا تاکہ ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی بحالی کے کسی ارادے کا اشارہ نہ ملے۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے الگ الگ ٹیلی فون کالز میں نیٹو سربراہ، کینیڈا، جرمنی اور سپین کے ہم منصبوں علاقائی صورت حال پر بات کی۔