روسی جوڑے آٹھ یا اس سے بھی زیادہ بچے پیدا کریں: صدر پوتن

صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین کے خلاف جنگ میں بڑھتی ہوئی اموات کے پیش نظر ایک خطاب میں کہا کہ روسی آبادی کو بڑھانا ’آنے والی دہائیوں کے لیے ہمارا ہدف‘ ہوگا۔

روسی سرکاری ایجنسی سپتنک کی طرف سے جاری کی گئی اس تصویر میں روس کے صدر ولادی میر پوتن کو 28 نومبر 2023 کو سوچی میں ایک ویڈیو لنک کے ذریعے ماسکو میں منعقدہ ورلڈ رشین پیپلز کونسل کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)

صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین کے خلاف جنگ میں بڑھتی ہوئی اموات کے بعد روسی خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ آٹھ یا اس سے زیادہ بچے پیدا کریں اور بڑے خاندانوں کو ’معمول‘ بنائیں۔

کیئف کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق روس کی شرح پیدائش 90 کی دہائی سے مسلسل گر رہی ہے اور یوکرین کے تنازعے کے آغاز کے بعد سے ملک کو تین لاکھ سے زیادہ اموات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ماسکو میں منگل کو ورلڈ رشین پیپلز کونسل میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں صدر پوتن نے کہا کہ روسی آبادی کو بڑھانا ’آنے والی دہائیوں کے لیے ہمارا ہدف‘ ہوگا۔

صدر پوتن نے کہا کہ ہمارے بہت سے لوگ خاندان کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جہاں چار، پانچ یا اس سے زیادہ بچے پروان چڑھتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’یاد کریں جب روسی خاندانوں میں ہماری دادیوں اور پردادیوں کے سات اور آٹھ بچے ہوتے تھے۔ آئیے ہم ان روایات کو محفوظ اور زندہ کریں۔ زیادہ بچے اور ایک بڑا خاندان معمول بن جانا چاہیے جو روس کے تمام لوگوں کے لیے زندگی کا ایک طریقہ کار ہے۔‘

’روسی دنیا کا حال اور مستقبل‘ کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس کی قیادت روس کے آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ پیٹریارک کرل کر رہے تھے، جس میں روس کی دیگر روایتی مذہبی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

عوامی طور پر صدر پوتن نے اپنی دو بیٹیوں کو ہی اولاد تسلیم کیا ہے۔ ماریا وورونسووا اور کترینا تیکھونووا ان کی سابقہ بیوی لیوڈمیلا سے ہیں، جن پر گذشتہ سال یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ نے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

تاہم روسی پریس میں طویل عرصے سے یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ کروڑ پتی سویتلانا کریوونوگِخ اور اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والی جمناسٹک کھلاڑی الینا کبایوا سے بھی ان کی کئی دوسری اولادیں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روسی صدر کے بیان میں یوکرین پر حملے میں روسی فوجیوں کی اموات کے پیمانے کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا۔

یہ جنگ اپنے دوسرے موسم سرما میں داخل ہو رہی ہے اور اب صدر پوتن کو جزوی بھرتی کا حکم دینا پڑا ہے۔ روسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ستمبر سے ماسکو کا مقصد 10 لاکھ ریزرو فوجیوں کو متحرک کرنا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ یوکرین میں مارے جانے والے روسی فوجیوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

برطانیہ کی وزارت نے یہ بھی کہا کہ میدان جنگ میں دیگر ہزاروں لاشیں پڑی ہیں۔

آزاد پالیسی گروپ ’ری رشیا‘ کے مطابق یوکرین پر حملے کے نتیجے میں اندازاً 820,000 سے 920,000 افراد روس سے فرار ہو گئے ہیں۔

حملے کی وجہ سے روس کو درپیش دیگر نقصان دہ اثرات میں افرادی قوت کی شدید کمی اور مغرب کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی معاشی سست روی شامل ہے۔

روس سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے شرح پیدائش میں کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین اس شرح میں کمی کی وجہ بگڑتی ہوئی معیشت اور اسقاط حمل کے سخت ضابطوں کو قرار دیتے ہیں جو ممکنہ والدین کے لیے رکاوٹ کا کام کرتے ہیں۔

روسی صدر نے 24 سال قبل اقتدار میں آنے کے بعد سے زیادہ بچوں والے والدین کے لیے مالی انعامات کے نفاذ سمیت مختلف سرکاری مراعات متعارف کروائی ہیں تاکہ ملک کی کم شرح پیدائش کو بڑھانے میں مدد ملے۔

لیکن ان اقدامات کا کم ہی اثر دکھائی دیا ہے جیسا کہ ’لے منڈے‘ اخبار کے مطابق روس کی وفاقی شماریات کے ادارے ’روسٹیٹ‘ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

یکم جنوری تک روس کی آبادی تقریباً ساڑھے 14 کروڑ بتائی گئی جو کہ 1999 کے اعداد و شمار سے کم ہے جب صدر پوتن نے صدارت سنبھالی تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا