لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ ’پاکستان کی افواج پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ یہ بات میں آپ کے ساتھ شیئر کر سکتا ہوں۔‘
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے حوثیوں کے ان دعوؤں کو ’نقصانات کی شدت اور ملیشیا کے طرزِ عمل پر بڑھتے عوامی غصے سے توجہ ہٹانے کی کوشش‘ قرار دیا۔