پالتو جانور ہمارے گھر کا فرش، صوفہ یا صحن نہیں بھرتے، وہ ہماری زندگی میں ایک ایسی موجودگی پیدا کرتے ہیں جو الفاظ سے کہیں زیادہ خاموش اور گہری ہوتی ہے۔
سائنسی شواہد اس پرانے مغالطے کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ جانور صرف مٹی کے بے جان مادے یا جبلت کے محتاج ہیں، بلکہ کتے، بلیاں، ہاتھی اور گھوڑے جیسے ان گنت جان دار تنہائی، اضطراب، اداسی اور گہرے ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔