احساس پروگرام نہیں تو دعا ہی بھیج دیں

چاغی بلوچستان سے ایک شخص نے فون پر کہا ’حکومت سے کہیں کہ ہمارے لیے چاغی میں احساس پروگرام نہیں تو دعا ہی بھیج دیں کہ ہمیں بھوک نہ ستائے۔‘

وفاقی دارالحکومت میں لوگ مفت تقسیم کیے  جانے والے کھانے کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

کرونا وائرس نے تمام دنیا کے ایک اچھے خاصے چلتے پھرتے بلکہ تیز رفتاری سے بھاگتے نظام کو باگیں ڈال دی ہیں۔ انسانوں کے نہ صرف میل ملاپ اور باہر نکلنے کو محدود کر دیا ہے۔ اسی طرح اب کسی کافی ٹیبل پر بیٹھ کر بات بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ جان تو جان اب نوکریوں کا بھی یہ دشمن ہوگیا ہے۔

کیا کہیے وزیر اعظم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تلقین کی ہے کہ ملازمین کو کوئی نوکریوں سے فارغ نہیں کرے گا۔ ان کی ملازمتوں کو تحفظ دینے کے لیے اداروں اور شعبوں کو چند مراعات بھی دی گئی ہیں لیکن حکومت نوکریوں سے نکالے گئے ملازمین سے کیے گیے وعدے پورے کرنے میں مکمل ناکام دکھائی دی۔

نہ صرف سندھ کے دارالحکومت کراچی میں جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور سمیت مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں ملازمین کو وبا پھیلنے کے دنوں میں بےدردی سے نکالا گیا۔ جس طرح پورے ملک میں ملازمین کو پرائیویٹ اور نیم سرکاری ملازمتوں سے نکالا گیا اس طرح کوئی گھر کا پرانا سامان بھی اٹھا کر باہر نہیں پھینکتا۔

خیبرپختونخوا اور پنجاب جہاں حکومتی پارٹی کی اپنی حکومتیں ہیں اور بلوچستان میں وہ اتحادی ہے یہ حکمراں برسرگاروزگار لوگوں کی ملازمتوں کو محفوظ نہیں کرسکے۔ بہت چھوٹے نجی اداروں کی کیا بات کیجیے جہاں لاک ڈاؤن اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے فارغ کیا گیا۔ یہ انتہائی شرمناک عمل تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پورے ملک میں اس وقت عالمی وبا کے دوران جہاں 23 فیصد غربت بڑھنے کا اندازہ تھا وہاں 30 فیصد تک بڑھی ہے۔ یہ معاشی حقائق صرف جون کے اواخر تک کے ہیں۔ ایک کامیاب ویکسین دریافت ہونے تک جس طرح سائنس دان بتا رہے ہیں کہ ہمیں اس وبا کے ساتھ کچھ مزید سال رہنا پڑ سکتا ہے تو پھر آخر ہر روز بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے حل کے لیے حکومت نے کچھ نہ کچھ تو احساس کیا ہوگا؟ کوئی حل تو نکالا ہوگا؟

وزیر اعظم کی معاشی امور کی ماہر ٹیم نے کیا ان کی ملازمتوں کو تحفظ دینے یا نئی ملازمتوں کے حصول کے لیے ایک پورٹل سے زیادہ کچھ پلان کیا ہے؟ وزیر اعظم صاحب ان بیروزگاروں کے لیے کوئی احساس پروگرام؟

اور اب بات کر لیتے ہیں بلوچستان کی جہاں احساس پروگرام تو پہنچا لیکن کچھ علاقوں میں اس کا صرف نام ہی پہنچا۔ ایک صاحب نے ضلع چاغی سے فون کر کے بتایا کہ احساس پروگرام کی شرائط اتنی کڑی رکھی گئی ہیں کہ بہت سے غریب ان پر پورے نہیں اترتے ہیں۔ کیا ظلم ہے کہ ہم غریب لوگوں کی غربت بھی حکومت کے پروگرامز میں رجسٹرڈ نہیں ہو رہی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ تو ڈھیٹ پیٹ ہے کہ کچھ سمجھتا ہی نہیں۔ ہر روز روٹی مانگتا ہے اور ہر گھر میں اس طرح کے بہت سے بھوکے پیٹ ہیں۔ حکومت کچھ نہیں کرسکتی تو ہمیں بتائے کہ ہم کیا کریں؟ نہ کام رہا نہ ہی ملازمت۔ حکومت سے کہیں کہ ہمارے لیے چاغی میں احساس پروگرام نہیں تو دعا ہی بھیج دیں کہ ہمیں بھوک نہ ستائے۔‘ کسی بھی حساس دل کے لیے کسی بیروزگار کی یہ فریاد دل چیرنے کے لیے کافی ہے۔

ایک طرف کرونا سے نمٹتے عوام اور دوسری جانب معاشی حالات کے دباؤ میں نیم زندہ بیروزگار لوگ۔ عوام کے پاس صحت کی سہولتیں پہلے سے ہی ناکافی اور غیرمعیاری ہیں اوپر سے بیماری کی آفت اور پھر بیروزگاری کی لعنت۔ ایک طرف مہنگے ترین کرونا ٹیسٹ پھر میڈیکل سٹورز پر جان بچانے والی اور عام بخار کی ادویات کا غائب ہوجانا یا پھر انتہائی مہنگے داموں میں فروخت ہونا۔ یہ ستم اور مظالم ایسے ہیں جن کو پاکستانی عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ