اس تناظر میں یہ بھی اہم ہوگا کہ جہاں ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا وہیں ایک کا دشمن دوسرے کا دوست نہیں رہ سکے گا، لہذا ضروری ہوگا کہ معاہدے کے فریق دوستی و دشمنی کے معیارات کو اپنی ان طویل مدتی دفاعی ضرورتوں کے حوالے سے ’ری وزٹ‘ کریں۔
اب تک 530 دنوں پر پھیلی اس غزہ جنگ کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد ایک اور اہم پرت یہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ وہ غزہ سے فلسطینیوں کے ’مکمل‘ صفائے کا اعلان ہے۔ جس کا اظہار صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ پہنچ کر ابتدائی دنوں میں ہی کر دیا تھا۔