کچھ بیرونی مبصرین نے جلدی میں اس معاہدے کو ’مسلم نیٹو‘ یا ایک نئے سنی اتحاد کا نام دیا۔ دونوں تشریحات اس کے اصل مقصد کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہیں۔
یہ دفاعی معاہدہ اجتماعی ان سکیورٹی انتظامات کی عکاسی کرتا ہے جو روایتی طور پر نیٹو اور خلیجی تعاون کونسل جیسے علاقائی اتحادوں سے وابستہ ہیں اور جن کا مقصد ممکنہ جارحیت کرنے والوں کو روکنا ہوتا ہے۔