’انتہا پسندوں کا اتحاد‘، نتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان

اگر ایگزٹ پولز کو مانا جائے تو یہ اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نتن یاہو کے لیے ڈرامائی واپسی ہو گی۔

سابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اپنے حامیوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے (اے ایف پی، 2 نومبر، 2022)

اسرائیل کے حالیہ الیکشن کے متوقع انتخابی نتائج سے لگتا ہے کہ بن یامین نتن یاہو دوبارہ اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئیں گے جبکہ ان سابق ساتھی کے بقول اسرائیل ’انتہا پسندوں کے اتحاد‘ کو منتخب کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ تاہم حتمی نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اگر ایگزٹ پولز کو مانا جائے تو یہ اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نتن یاہو کے لیے ڈرامائی واپسی ہو گی۔

ان کی لیکود پارٹی اپنے الٹرا آرتھوڈوکس یہودی اتحادیوں اور ابھرتے ہوئے انتہائی دائیں بازو کے ساتھ اتحاد بنا سکتی ہے۔

نتن یاہو نے بدھ کی علی الصبح یروشلم میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا، ’ہم ایک بڑی فتح کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں ابھی حتمی نتائج کا علم نہیں ہے لیکن اگر نتائج ایگزٹ پولز کی طرح ہیں تو میں ایک قومی (دائیں بازو) کی حکومت تشکیل دوں گا۔‘

لیکن ان کے اہم حریف، نگراں وزیراعظم یائرلاپد نے تل ابیب میں اپنے حامیوں سے کہا کہ ’کچھ بھی طے نہیں ہے، ہماری مرکزی جماعت حتمی نتائج کے لیے صبر سے انتظار کرے گی۔‘

اسرائیل میں چار سال سے بھی کم عرصے میں یہ پانچواں الیکشن ہے اور انتخابی مارجن مارجن بہت کم رہا ہے۔  گذشتہ انتخابات سے لگتا ہے کہ سرکاری گنتی کے دوران معمولی ایڈجسٹمنٹ بظاہر فیصلہ کن نتائج کو ایک اور تعطل میں تبدیل کر سکتی ہے۔

تاہم ابتدائی علامات 73 سالہ نیتن یاہو کے لیے مثبت تھیں، جن پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔

تین اسرائیلی نیٹ ورکس کے اندازوں کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی 30 سے 32 نشستوں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کر سکتی ہے۔

اس تعداد کو، انتہائی دائیں بازو کے مذہبی صیہونیت اتحاد اور دو الٹرا آرتھوڈوکس یہودی جماعتوں کے متوقع اعداد و شمار کے ساتھ ملا کر، نتن یاہو کی حمایت کرنے والے بلاک کو 61 اور 62 کے درمیان نشستیں مل سکتی ہیں۔

اس بلاک کی واضح فتح سے لاپد کی سربراہی میں آٹھ جماعتوں کے اتحاد کے مختصر دور حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا جس نے گذشتہ سال نتن یاہو کے اقتدار کو ختم کردیا تھا۔

’انتہا پسندوں کا اتحاد‘

انتہائی دائیں بازو کے رہنما اتمر بن گویر نتن یاہو کو اقتدار میں واپس لانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ ایگزٹ پولز کے مطابق ان کے مذہبی صیہونیت بلاک کو 14 نشستیں مل سکتی ہیں، جس سے پارلیمنٹ میں ان کی تعداد دو گنا ہو جائے گی۔

اتمر بن گویر، جو چاہتے ہیں کہ اسرائیل پورے مغربی کنارے کو ضم کر لے، کا کہنا ہے کہ انہیں اسرائیلیوں کے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے زیادہ سیٹیں ملی ہیں۔

انہوں نے کہا، ’اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے ملک کے مالک بننے کی طرف بڑھیں۔‘

انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف مزید طاقت کے استعمال کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نتن یاہو سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد اب اپنی پارٹی کی قیادت کرنے والے سابق ہیوی ویٹ وزیر جسٹس گیڈون سار نے منگل کی صبح خبردار کیا تھا کہ اسرائیل ’انتہا پسندوں کے اتحاد‘ کو منتخب کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔

عرب اسرائیلی قانون سازعایدہ توما سلیمان نے کہا ہے کہ نتن یاہو فاشسٹوں کے ساتھ مل حکومت بنا سکتے ہیں۔

'بڑھتی ہوئی انتہا پسندی'

یہ ووٹنگ اسرائیل کے زیر قبضہ مشرقی بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے پس منظر میں منعقد کی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں دونوں علاقوں میں کم از کم 29 فلسطینی اور تین اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

اگرچہ بہت سے امیدواروں نے سکیورٹی کو تشویش کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن کسی نے بھی فلسطینیوں کے ساتھ مفلوج امن مذاکرات کو بحال کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔

فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے کہا کہ متوقع نتائج ’اسرائیلی معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور نسل پرستی‘ کو ظاہر کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا