سائیکل پر بارات لے جانا کتنا مشکل تھا؟

دولہا طیب مغل نے بتایا کہ سائیکل کی بگھی پر دلہن لانا ان کا بچپن کا خواب تھا جو پورا ہونے پر انہیں دلی خوشی محسوس ہوئی۔

پاکستان میں حال ہی میں چنیوٹ کے طیب مغل کی شادی شہہ سرخیوں کی زینت بنی کیونکہ ان کی بارات سائیکلوں پر گئی۔ پاکستان میں سائیکل سواری کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔ خاص طور پر شادی جیسے اہم موقعے پر کوشش ہوتی ہے کہ دولہے کے لیے مہنگی سے مہنگی گاڑی سجائی جائے اور بارات کی گاڑیوں کی طویل سے طویل گاڑی بنے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع چنیوٹ کے نوجوان طیب مغل 200 سائیکلوں پر بارات لے کر دلہن کے گھر پہنچے۔ کئی کلو میٹر طویل راستہ دولہا اور باراتیوں نے سائیکلوں پر طے کیا۔ خلاف روایت گاڑیوں کی بجائے سائیکلوں پر بارات دیکھ کر شہری بھی حیران ہوگئے۔ ہر باراتی کو جانے کے لیے اپنی سائیکل خود ساتھ لانا پڑی۔

دولہا اور دلہن کے لیے سائیکل بگھی تیارکرائی گئی جوگاڑی کی طرح پھولوں سے سجائی گئی۔

دلہن کے والدین نے دلہن کی تصاویر بنانے سے روک دیا لیکن دلہن اپنے دولہے میاں کے ساتھ سائیکل بگھی پر ہی پیا گھر سدھاریں۔

پاکستان میں روایتی طور پر ہر دلہا کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بڑی سے بڑی گاڑی پر بارات لے کر جائے اور اپنی دلہنیا کو لائے تاکہ شادی یادگار بن سکے۔

اسی مقصد کے لیے لاہور، کراچی، پشاور، اسلام آباد میں لیموزین، لینڈ کروزر اور مرسیڈیز جیسی بڑی بڑی گاڑیاں شادی کی تقریبات کے لیے کرائے پر دستیاب ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن سائیکلوں پر بارات لے جانے والے نوجوان نے اس روایت کو بھی چیلنج کردیا۔ دوسری جانب شادی کے موقع پر شاہی لباس زیب تن کر کے سائیکل پر سوار ہوکر بارات لے جانے والے دلہا کو دیکھ کے شہریوں نے خوش گوار حیرانی کا بھی اظہارکیا۔

دلہا طیب مغل نے خوشگوار انداز میں گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ سائیکل کی بگھی پر دلہن لانا ان کا بچپن کا خواب تھا جو پورا ہونے پر انہیں دلی خوشی محسوس ہوئی۔

اس شوق کو پورا کرنے پر وہ اپنے والدین اور دلہن کے شکر گزارہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ گاڑی کی بجائے سائیکلوں پر بارات لے جانے پر تنقید کا سامنا تو کرنا پڑا ہو گا؟

انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ان کے والدین اور رشتہ داروں نے اس خواہش پر حیرانی کا اظہار ضرور کیا لیکن اسے پورا کرنے میں مدد کی۔

جب کہ دلہن اور ان کے والدین نے اس انداز پر ناراضی کااظہارکیا تو انہیں منت سماجت سے منا لیا۔ پھر وہ بھی مطمئن ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس شوق سے اندازہ ہوا کہ اگر ایسے ہی رسم ورواج کے موقع پر سادگی اپنائی جائے تو فضول اخراجات سے چھٹکارا ممکن ہے۔

ان کے خیال میں جہیز جیسی شرائط بھی ختم ہونی چاہییں کیونکہ اس طرح کے رواج کئی لڑکیوں کے والدین کو مشکلات سے دوچارکرتے ہیں۔

کفایت شعاری اور شوق ساتھ ساتھ۔ دولہاسائیکلوں پربارات لے جاکردلہن لے آیا

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا