انڈیا میں صحافیوں اور اپوزیشن کا پولیس پر مظاہرین سے بدسلوکی کا الزام

صحافیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہفتے اور اتوار کے احتجاج میں پولیس نے طاقت کا بے جا استعمال کیا۔

انڈیا میں نوجوان مظاہرین نے 19 اکتوبر کو بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کیا جہاں ان کی گرفتاریاں بھی ہوئیں (روئٹرز)

انڈیا میں اپوزیشن رہنماؤں اور صحافیوں نے پولیس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ہفتے اور اتوار کے مظاہروں کے دوران سختی کی اور طاقت کا بے جا استعمال کیا۔

انڈین دارالحکومت کی انتظامیہ نے پیر کو الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف نئی ریلی سے پہلے نئی دہلی میں آمدورفت پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

اپوزیشن رہنما راہل گاندھی کی اپیل پر ہونے والے مارچ سے پہلے حکام نے مسلسل تیسرے دن وسطی دہلی میں ہزاروں اہلکار تعینات کیے، لوہے کی بھاری رکاوٹیں لگائیں اور اہم میٹرو سٹیشن بند کر دیے۔

یہ احتجاج ملک بھر میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد شروع ہوئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان بے ضابطگیوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک انڈیا میں انتخابات کی نگرانی کرنے والے الیکشن کمیشن نے کسی بھی بے ضابطگی کی تردید کی ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

تاہم ہفتے اور اتوار کو ہنگامہ خیز مظاہروں کے بعد اب توجہ پولیس کی کارروائیوں پر مرکوز ہو رہی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق، ان مظاہروں میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ارکان بھی شامل ہیں۔

حراست میں لیے گئے بیشتر افراد کو اب رہا کر دیا گیا ہے، جن میں سی جے پی کے تین اہم رہنما بھی شامل ہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ حکام بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں لے کر اختلاف رائے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رکن پارلیمان جان برٹاس نے الزام لگایا کہ اتوار کے مظاہروں کے دوران پولیس نے ان کے ساتھ ’دھکم پیل کی، گھسیٹا اور تشدد کیا۔‘

برٹاس نے کہا کہ ’یہ محض ایک رکن پارلیمان پر حملہ نہیں، بلکہ جمہوری آزادیوں اور قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے۔‘

پولیس نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں لوگوں کو حراست میں لینے اور اپنی کارروائیوں سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔

مظاہروں کی کوریج کرنے والے کئی صحافیوں نے بتایا کہ انہیں اپنے پریس کارڈ واضح طور پر دکھانے کے باوجود حراست میں لیا گیا۔

صحافیوں کے حقوق کی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے کہا کہ ہفتے اور اتوار کے مظاہروں میں کم از کم 16 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا۔ تنظیم نے ان کارروائیوں کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'ڈرنے کی کوئی بات نہیں'

دارالحکومت میں پیر کو ایک بار پھر مظاہرین اور حکام کے آمنے سامنے آنے کا امکان ہے۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اپنے حامیوں سے سپریم کورٹ کی جانب مارچ میں شرکت کی اپیل کر رکھی ہے۔

انہوں نے اتوار کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ’ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ یہ بزدل ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔‘

وسطی دہلی جانے والی سڑکوں پر لوہے کی سینکڑوں رکاوٹیں لگا دی گئیں جب کہ چھ اہم میٹرو سٹیشن بند رہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مستعفی ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ سوشل میڈیا پر اس تحریک کے لاکھوں فالوورز ہیں۔

یہ مظاہرے مودی کے تیسرے دور حکومت کے بڑے سیاسی چیلنجوں میں سے ایک بن گئے ہیں۔ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی سے ناراض اپوزیشن جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور سماجی کارکن اس احتجاج میں یکجا ہو گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، نظرثانی کے دوران ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ نام نکال دیے گئے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اقلیتیں، خاص طور پر مسلمان، دوسروں کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایک سے زیادہ بار درج نام، فوت شدہ افراد کے نام اور جعلی اندراجات ختم کرنا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا