طلبہ مارچ کا ’دربوکہ‘ کیا ہے؟

’جب لال لال لہرائے گا‘ والا ترانہ اس قدر مقبول ہوا کہ پروگریسیو سٹوڈنٹس کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک گیا۔ جس ون سائیڈڈ ڈھول پر اس کی تال دی گئی اسے بجانے والے ایک سٹوڈنٹ کا تو یونیورسٹی سے نام بھی خارج کر دیا گیا۔

’جب لال لال لہرائے گا‘ والا ترانہ اس قدر مقبول ہوا کہ پروگریسیو سٹوڈنٹس کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک گیا۔ جس ون سائیڈڈ ڈھول پر اس کی تال دی گئی اسے بجانے والے ایک سٹوڈنٹ کا تو یونیورسٹی سے نام بھی خارج کر دیا گیا۔ پروگریسیو سٹوڈنٹس کلیکٹیو کے زیر انتظام ہونے والے طلبہ یکجہتی مارچ میں بھی یہی ڈرم سارے احتجاجی مظاہروں کی جان رہا۔

اسے کہتے کیا ہیں؟ یہ جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے نمائندے حسنین جمال نے حیدر کلیم سے رابطہ کیا جو پروگریسیو سٹوڈنٹس کلیکٹیو کے آرگنائزر اور اس مارچ کے روح رواں تھے۔

حیدر کلیم نے بتایا کہ یہ ڈرم ’دربوکہ‘ کہلاتا ہے۔ سٹوڈنٹس کلیکٹو کے زیر اہتمام مظاہروں میں ایک طویل عرصے سے وہ لوگ یہ ڈرم استعمال کر رہے ہیں۔

یہ موسیقی کے آلات والی کسی بھی دکان سے با آسانی مل جاتا ہے اور اسے اٹھا کر چلنا یا کہیں بھی کھڑے ہو کر بجا لینا کسی بھی دوسرے ساز کی نسبت آسان ہوتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کل والے مظاہرے میں کیا یہ تمام ڈرم ان لوگوں کی طرف سے مظاہرین کو دیے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

’لاہور میں ویسے بھی کافی ڈرم سرکلز موجود ہیں اور جو لوگ اس مارچ میں شریک تھے وہ اپنے ڈرمز خود ساتھ لے کر آئے تھے۔‘ ان کے مطابق لاہور کے طلبہ یکجہتی مارچ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 50 سے زیادہ دربوکہ بردار نوجوان شریک تھے۔

دربوکہ تاریخی طور پہ مصر کا روائتی ساز ہے اور 1100 قبل مسیح تک مختلف تصویروں اور وال پینٹنگز (فریسکو) میں اس کا سراغ ملتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا