جب نوٹس ملے گا تو جواب ضرور دوں گا: حامد خان

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی رکن اور سینیئر وکیل حامد خان کو پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف میڈیا پر بیانات دینے پر شو کاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں حامد خان ایڈووکیٹ سے سات روز میں وضاحت طلب کی گئی ہے (اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی رکن اور سینیئر وکیل حامد خان کو پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف میڈیا پر بیانات دینے پر شو کاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جبکہ حامد خان کا کہنا ہے کہ انھیں تاحال ایسا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل حامد خان مسلسل میڈیا پر پارٹی پالیسیوں پر مخالف بیانات دے رہے ہیں جو کہ پارٹی کے نظم وضبط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان کے بیانات سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کی جانب سے پارٹی پر لگائے کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔

’ان کی بیان بازی پر سیکریٹری جنرل کے علاوہ پارٹی چیئرمین عمران خان نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔‘

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں حامد خان ایڈووکیٹ سے سات روز میں وضاحت طلب کی گئی ہے اور ان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت فوری طود پر معطل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

حامد خان کو نوٹس جاری کرنے کی وجہ

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوی ایشن اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں تاحال پارٹی کی جانب سے جاری ہونے والا نوٹس باقاعدہ طور پر موصول نہیں ہوا ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ جب انھیں باضابطہ طور پر نوٹس موصول ہوگا تو وہ اس کا جواب ضرور دیں گے۔

’یہ کارروائی بلا جواز ہے، میں نے پارٹی نظم و ضبط کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی نہ ہی الزامات پر مبنی کوئی بیان بازی کی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان سے جب پوچھا گیا کہ کہیں یہ کارروائی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر میڈیا کے سامنے بیانات دینے کی وجہ سے تو نہیں کی جا رہی۔ اس پر حامد خان نے کہا کہ انھوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے آئینی اور قانونی بات کی تھی، جس پر وہ اب بھی قائم ہیں جبکہ پارٹی میں جو بھی منشور کے خلاف کام ہوتا ہے اس پر بات کرنے کا بھی بطور پارٹی رکن ان کا حق ہے۔

اس حوالے سے عامر محمود کیانی سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے بات نہ ہو سکی۔

حامد خان اور پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات

سینیئر قانون دان حامد خان تحریک انصاف کے سینیئر اور پرانے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں لیکن ابتدا سے ہی ان کے بعض عہدیداروں سے اعلانیہ اختلافات رہے ہیں خاص طور پر پی ٹی آئی کے سابق جنرل سیکریٹری جہانگیر خان ترین اور سابق سینیئر وزیر عبدالعلیم خان سے متعلق کئی بار انہوں نے اپنے تحفظات کا برملا اظہارکیا۔

وہ ان شخصیات کی پالیسیوں سے متعلق کئی بار پارٹی سربراہ عمران خان کو بھی آگاہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے 2013 کے عام انتخابات میں لاہور سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر این اے 125جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 131 میں تبدیل ہوگیا سے ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق کے مقابلہ میں انتخاب لڑا لیکن انہیں شکست ہوئی تھی۔

سابق وزیر اعظم کے خلاف پی ٹی آئی نے پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے سامنے کیس رکھا تو کچھ پیشیوں کے بعد حامد خان نے اس کیس کی پیروی سے انکار کر دیا تھا، شاید یہی وجہ تھی کہ 2018 میں انہیں پارٹی نے ٹکٹ جاری نہ کیا اور این اے 131 سے عمران خان نے خود الیکشن میں حصہ لیا تو وہ معمولی فرق سے کامیاب ہوئے۔ سیٹ چھوڑنے کے بعد ضمنی الیکشن میں دوبارہ یہ نشست خواجہ سعد رفیق نے جیتی۔ اس کے علاوہ بھی حامد خان کئی بار پارٹی کی پالیسیوں سے علیحدہ نظر آتے رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان