مسیحیت میں عورت کا کردار اماں حوا نے متعین کر دیا تھا

مسیحیت میں عورت کا روایتی مقام کیا ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟ ڈاکٹر مبارک علی کی تحریر۔

(پکسا بے)

بائبل میں لکھا ہے کہ جب آدم و حوا کو خدا نے باغ عدن میں مقیم کیا تو ان پر یہ پابندی بھی عائد کی کہ وہ علم کے ممنوعہ درخت کے پھل کو نہ چکھیں۔

آدم تو شاید اس حکم کی پابندی کرتے، مگر حوا کے لیے یہ تجسس کا مقام تھا کہ آخر یہ قدغن کیوں ہے اور اس کی خلاف ورزی کے کیا نتائج نکلں گے؟

چنانچہ بائبل کے مطابق اس نے آدم کو اُکسا کر اس پر آمادہ کیا کہ وہ پابندی توڑ کر درخت کے پھل کو چکھیں اور جب انہوں نے اس پھل کو چکھا تو ان میں نیکی اور بدی اور شرم کے احساسات پیدا ہوئے۔ خدا نے اپنے حکم کی اس خلاف ورزی پر دونوں کو باغ عدن سے نکال دیا۔ مسیحیت میں اس واقعے کو بنیادی گناہ کہا جاتا ہے اور جنت سے نکالے جانے کو فال آف آدم یا آدم کا زوال کہا جاتا ہے۔

اس وجہ سے مسیحیت میں عورت کو گناہ کی علامت سمجھا جاتا ہے اور مرد کو بار بار تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ عورت کے بہکاوے اور فریب میں نہ آئے، بلکہ اسے اپنی نگرانی میں رکھے اور اس پر حکومت کرے۔

بہت سے مسیحی اولیا نے عورتوں اور دنیاوی معاملات سے بچنے کی خاطر صحراﺅں، جنگلوں اور ریگستانوں میں عبادت کرتے ہوئے زندگی گزار دی۔ جن راہبوں نے ترکِ دنیا کی انہوں نے شادی نہیں کی اور تجرد کی حالت میں زندگی کا وقت گزارا۔ بہت سے اولیا اپنے گھروں میں بھی عورتوں کی صحبت سے دور رہے، لیکن ان پابندیوں کے باوجود انسانی معاشرے میں عورت کا اہم کردار رہا ہے، کیونکہ وہ نسل انسانی کے تسلسل کو برقرار رکھتی ہے۔ اس لیے اس کو کم تر درجہ دینے کے باوجود اس کے فرائض کی وجہ سے سماجی سرگرمیاں جاری رہی ہیں، جبکہ مسیحیت میں مذہبی رہنما عورتوں سے دور رہے۔

معاشرے کے دیگر طبقوں کے لیے عورتوں کا وجود لازمی تھا۔ اس لیے وقت کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں آرا بدلتی رہیں۔

عہد وسطیٰ تک یہ روایت رہی کہ نہ تو پوپ، جو کیتھولک چرچ کا سربراہ تھا اور نہ ہی اورتھوڈوکس چرچ کے رہنما پیٹریارک کے عہدوں پر کوئی عورت فائز ہو سکتی تھی، یہاں تک کہ دوسرے نچلے درجے کے مذہبی عہدوں پر بھی کوئی عورت فائز نہیں ہو سکتی تھی اور چرچ میں مذہبی رسومات مرد پادری ادا کرتے تھے۔

عورتیں ننوں کی کانوننٹ کی سربراہ ہو سکتی تھیں، اگرچہ پروٹسٹنٹ نے عورتوں پر سے پابندیاں اٹھائی ہیں، لیکن ان کے کئی فرقے ہیں جو اس پابندی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسیحیت میں ولی اللہ کا درجہ اس کو دیا جاتا ہے جس کی شخصیت مذہبی طور پر مقدس ہوتی ہے۔ یہاں مریم کو حضرت عیسیٰ کی والدہ ہونے کی وجہ سے ولیہ کا درجہ حاصل ہے اور عورت ہونے کے باوجود ان کا احترام کیا جاتا ہے۔

حضرت مریم۔ میری میگلڈالین اور میری پیتھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مسیحیت میں ان کی بہت عزت ہے۔ اس مذہب کی تاریخ میں کافی عورتوں کو ولیوں کا درجہ دیا گیا ہے، جن میں جون آف ارک اور موجودہ زمانے کی مدر ٹریسا شامل ہیں۔

عہد وسطیٰ میں آتے آتے مسیحیت میں کافی تبدیلیاں آ گئیں۔ مسیحی راہب جو اپنی زندگی عبادت کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ وہ شادی نہیں کرتے تھے اور اپنی پوری زندگی خانقاہ میں عبادت کرتے ہوئے گزارتے تھے۔ اس طرح سے وہ عورتیں جو شادی نہیں کرتی تھیں وہ نن بن جاتی تھیں اور کانونٹ میں رہتے ہوئے اپنا وقت عبادت میں صرف کرتی تھیں۔

یہ کانونٹ ایک طرح سے شاہی خاندان اور امرا کی عورتوں کے لیے ایک پناہ گاہ بھی تھے اور خاندانوں کا ان عورتوں سے نجات پانے کا ایک ذریعہ بھی تھے جو خاندانوں کے لیے ناپسندیدہ تھیں یا جو سازشوں میں ملوث ہوتی تھیں۔ اس کی وجہ سے شاہی خاندان کی کئی شہزادیوں کو زبردستی نن بنا کر کانونٹ میں داخل کرا دیا گیا تھا۔

اس کی ایک مثال روس میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب روس کے زار پیٹر نے اپنی ماں کو کانوننٹ بھجوا دیا کیوں کہ وہ سیاست میں دخل دیتی تھی۔ اس طرح اس نے اپنی ماں کی سیاست کا خاتمہ کر ڈالا۔

اسی طرح اطالوی سائنس دان گلیلیو اپنی دو بیٹیوں کی کفالت نہیں کر سکتا تھا، اس لیے ان کی پوری زندگی کانونٹ میں گزری۔

قدیم دور میں کچھ عورتوں نے اپنے آبائی مذاہب چھوڑ کر مسیحیت اختیار کر لی تھی جن کا اثر ان کے خاندانوں پر بھی ہوا جیسے کانسٹینٹین (وفات 3013) کی والدہ اور سینٹ آگسٹائن (وفات 430) کی والدہ جب مسیحی ہو گئیں تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو مسیحیت اختیار کرنے میں مدد دی۔

سپین میں کسٹائل کی ملکہ ازابیلا اور اس کے شوہر فرڈنینڈ نے، جو آراگون کا حکمران تھا، 1492 میں سپین سے یہودیوں اور مسلمانوں کو بے دخل کرکے ملک کو مکمل طور پر مسیحی بنا دیا۔ ان دونوں حکمرانوں نے کولمبس کی سرپرستی کرتے ہوئے جنوبی امریکہ میں مسیحیت کی تبلیغ میں بھی مدد دی۔

مسیحی مشنری عورتوں نے ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں فلاحی خدمات سرانجام دیتے ہوئے اپنی پوری زندگی گزار دی۔ انہوں نے تعلیمی ادارے کھولے، ہسپتالوں کی بنیاد رکھی اور عام آدمی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ان کے درمیان میں رہیں، جس کی وجہ سے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔

جدید دور میں تحریک نسواں کے تحت عورتوں نے بائبل کی نئی تشریح کرتے ہوئے عورت اور مرد میں مساوات قائم کی ہے۔ پروٹسٹنٹ فرقے میں اب عورتیں چرچ میں مذہبی خدمات بھی سرانجام دے رہی ہیں۔

جدید دور میں ایسا نظر آتا ہے کہ شاید بائبل میں اماں حوا کے آدم کو اکسانے کا جو واقعہ لکھا تھا، اس کا اثر زائل ہو رہا ہے، تاہم اس عمل میں دو ہزار سال بیت گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ