’پیسوں کے بغیر گھر نہیں چلتا، یہ تو ملک ہے‘

وزارت اطلاعات و نشریات کی نومنتخب معاون ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو

'اگر گھر میں پیسے نہ ہوں تو اسےچلانا مشکل ہوتا ہے،  یہ تو ملک ہے۔ '  وزیر اعظم کی نومنتخب معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ان خیالات کا اظہار اپنی مشاورت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد نمائندہ انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کے بعد کابینہ ڈویژن نے 47 وزراء پر مشتمل نئی فہرست جاری کر دی ہے ۔

کابینہ ڈویژن سے جاری کردہ تازہ ترین فہرست کے مطابق 25 وفاقی وزراء، پانچ وزراء مملکت، چار وزیراعظم کے مشیر جبکہ 13معاونین خصوصی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں۔ وفاقی کابینہ میں نئے شامل ہونے والے اراکین میں جمعہ 19اپریل کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات تعینات ہونے والی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی شامل ہیں۔

انہوں نے دوران گفتگو اس بات پر زور دیا کہ 'اگر ملک کے خزانے کو خالی کر کےاور کوئی بھی اس میں کچھ چھوڑ کے نہیں گیا  تو اس ملک کو چلانے کی حکمت عملی دوبارہ بنائی جائے گی۔ اسی کے لیے  وزیر اعظم کوشش کر رہے ہیں اور یہی موجودہ حکومت کی ترجیح ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ' چیلنجز قوموں پر آتے ہیں اور یہ  لیڈر شپ کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اس میں سے کیسے اپنے لیے مواقع نکالتی ہے۔ اس میں کوئی رائے نہیں کہ عمران خان صاحب  کی قیادت میں ہمیں ان  چیلنجز کو مثبت مواقع میں بدلنا ہے۔'

ملک کو درپیش مسائل کا ذکر کرتےہوئے سر فہرست انہوں نےموجودہ معاشی صورت حال کا ذکر کیا۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا سیاسی  سفر

1990 میں گنگا رام اسپتال میں بحیثیت ڈاکٹر تعیناتی کے بعد ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے  صحت کے میدان میں عام آدمی کی فلاح کے لیے 'سوسائٹی فار ہیلتھ اینڈ ڈیویلپمنٹ ایکسچینج 'کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا اہم کام مستحقین کو مفت ادویہ کی فراہمی تھا۔

مشرف دور میں بلدیاتی سیاست سے آغاز کرنے والی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان 2002 میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی رکن بنیں۔ 2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑ ا اور  جیتنے کے بعد وزارت بہبود آبادی کا قلمدان سنبھالا۔ اسی حکومت کے دوران انہیں وزارت اطلاعات کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔

2017 میں انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی  لیکن 2018کے عام انتخابات میں وہ اپنی نشست نہ جیت سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت