سات کام جو صبح اٹھتے ہی نہیں کرنے چاہییں

صبح کے چند منٹ بےحد اہم ہوتے ہیں جن سے آپ کے دن بھر کا رخ متعین ہوتا ہے۔ اس دوران وہ کون سے کام ہیں جن سے پرہیز ضروری ہے؟

(پکسا بے)

1۔ آنکھ کھلتے ہی موبائل پکڑ لینا

اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلا کام موبائل آن کر کے سوشل میڈیا پر نظر دوڑاتے ہیں تاکہ پتہ چلے کہ جب وہ سو رہے تھے تو اس دنیا کہیں اپنے مدار سے تو نہیں ہٹ گئی۔ اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ سویرے سویرے ہی آپ کے دماغ پر بھانت بھانت کی منفی خبروں، پروپیگنڈا اور پریشان کن پیغامات کی یلغار ہو جاتی ہے، جس سے آپ کا پورا دن متاثر ہو سکتا ہے۔

اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے موبائل اپنے بستر سے دور رکھیں۔

2۔ الارم کو سنوز (snooze) کر لینا

ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو الارم بجتے ہی اسے فوراً سنوز کر دیتے ہیں، تاکہ کچھ دیر اور سو سکیں۔ دس منٹ بعد دوبارہ الارم بجتا ہے تو وہ اسے دوبارہ سنوز کر دیتے ہیں، اور اس طرح کے کئی چکروں سے گزر کر جاگتے ہیں۔ اس سے کیا ہوتا ہے کہ آپ کا جسم جاگنے کے بعد نیند کے ایک نئے دور میں داخل ہو جاتا ہے، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ دوبارہ یا سہ بارہ جاگنے کے بعد اپنے آپ کو مزید تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

اوپر ہم مشورہ دے چکے ہیں کہ موبائل بستر سے دور رکھیں، اس لیے کوشش کریں کہ موبائل پر الارم نہ لگائیں بلکہ اس مقصد کے لیے کلاک استعمال کریں۔ آج کل اچھے ڈیجیٹل کلاک خاصے سستے مل جاتے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

3۔ بستر کو ٹھیک نہ کرنا

’دا پاور آف ہیبٹ‘ (The Power of Habit) نامی کتاب کے مصنف چارلز ڈوہگ کہتے ہیں کہ صبح اٹھ کر بستر ٹھیک کرنا ایک ایسی عادت ہے جس سے دن بھر کی روٹین سیٹ ہو جاتی ہے اور اس سے آپ کو اپنے رومرہ کے کام کرنے کے لیے توانائی اور تقویت ملتی ہے۔

4۔ تیز گرم پانی سے نہانا

سردیوں کی آمد آمد ہے اس لیے لوگ تیز گرم پانی سے نہانا پسند کرتے ہیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ گرم شاور شام کو تھکے ہارے ہوئے لوگوں کی تھکاوٹ دور کرنے کا تو عمدہ طریقہ ضرور ہے، لیکن صبح کے وقت گرم پانی سے نہانے سے انسان ضرورت سے زیادہ ریلیکس اور سست ہو جاتا ہے اور دفتر یا سکول کالج میں اہم فیصلے کرنے کے لیے جو دماغی چستی درکار ہے، وہ غائب ہو جاتی ہے۔  

5۔ اندھیرے میں تیار ہونا

آپ کے جسم کے اندر ایک ایسا نظام نصب ہے جو روشنی میں سرگرم اور اندھیرے میں مدھم پڑ جاتا ہے۔ جب آپ صبح اٹھنے کے بعد تیز روشنی میں تیار ہوتے اور ناشتہ کرتے ہیں تو جسم کی بیداری کا نظام مکمل طور پر فعال ہو جاتا ہے اور آپ خود کو چست محسوس کرتے ہیں اور کالج یا دفتر کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہو جاتے ہیں۔

لیکن اگر اٹھنے کے بعد خاصی دیر تک نیم اندھیرے میں رہیں تو جسم سمجھتا ہے کہ شاید ابھی سورج نہیں نکلا اور وہ سست موڈ میں چلا جاتا ہے۔

6۔ کپڑوں اور جوتوں کے انتخاب میں دماغ کھپانا

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کی قوتِ ارادی محدود ہوتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ آپ رات ہی کو اپنے کپڑے منتخب کر کے رکھ لیں تاکہ صبح صبح آپ کو اپنے ذہن کو انتخاب میں الجھانا نہ پڑے اور دن بھر میں فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر نہ ہو۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کہتے ہیں کہ وہ ہر روز ایک ہی ٹی شرٹ پہنتے ہیں تاکہ صبح ہی صبح ان کی دماغی توانائی بےکار کاموں میں ضائع نہ ہو اور وہ دفتر پہنچ کر اہم فیصلے کر سکیں۔

7۔ اٹھتے ہی کافی اور تیز چائے پینا

صبح کے وقت ہمارا جسم ایک ہارمون خارج کرتا ہے جسے کارٹی سول کہتے ہیں۔ یہ ہارمون جسم کو چستی اور توانائی دیتا ہے۔ لیکن تیز چائے اور کافی میں خاصی مقدار میں کیفین ہوتی ہے جو کارٹی سول کی پیداوار میں خلل ڈالتی ہے۔ اس لیے اگر آپ کو کافی پینے کی عادت ہے بھی تو ساڑھے نو بجے کے بعد پییں۔ کارٹی سول آپ کو قدرتی طور پر ہشاش بشاش رکھے گا۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹاپ 10