جب موسیقار روشن انل بسواس کا گیت سن کر رو پڑے

بالی وڈ کے سنہرے دور کے موسیقار روشن کی برسی کے موقعے پر ان کی جگمگاتی زندگی پر ایک نظر۔

’رسات کی رات‘ روشن کے کیریئر میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے(آر چندرا)

مہان سنگیت کار انل بسواس شاہد لطیف کی فلم ’آرزو‘ کی موسیقی ترتیب دے رہے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے ایک دھن بجائی اچانک کسی کے رونے کی آواز آئی۔ انہوں نے پلٹ کر دیکھا تو روشن رو رہے تھے۔

پوچھا ’ارے یہ کیا؟‘

روشن نے سسکتے ہوئے کہا، ’دادا، ہم ایسا گیت کبھی کمپوز نہیں کر سکتے۔‘

انل بسواس نے میوزک جگت میں نووارد روشن کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا، ’ایسا نہیں، تم اس سے بھی اچھا میوزک کمپوز کرو گے اور جب تک فلم کا میوزک بجتا رہے گا تمہارے گیت زندہ رہیں گے۔‘

1950 میں ریلیز ہونے والی دلیپ کمار کامنی کوشل کی فلم ’آرزو‘ کی یہ غزل تھی ’کہاں تک ہم اٹھائیں غم۔‘ جانثار اختر کے لکھے بول لتا کی آواز میں امر ہوئے۔

منظر بدلتا ہے سمے اڑان بھرتا ہے اور ہم 1976 میں پہنچ جاتے ہیں۔ گلزار صاحب ایک سپنے کو عملی روپ دینے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ یہ سپنا تھا 16ویں صدی کی مشہور روحانی شخصیت اور شاعرہ میرا بائی کی زندگی کیمرے کی آنکھ سے لوگوں تک پہنچانا۔

ایکشن فلموں کے دور میں ویسے تو یہ بات انہونی لگتی لیکن گلزار تو تھے ہی سپنوں کے سوداگر۔ فلم کی تیاری میں سب سے مشکل مرحلہ موسیقار کا انتخاب تھا۔ موضوع کے پیش نظر فلم کے لیے سرمایہ کار تلاش کرنا ایک الگ مصیبت تھی۔ بالآخر گلزار صاحب کو نہ چاہتے ہوئے لکشمی کانت پیارے لال سے بات کرنا پڑی۔ دوسری طرف لکشمی کانت پیارے لال کو پہلے ہی بھنک پڑ چکی تھی کہ لتا جی اس فلم کے لیے اپنے بھائی کو بطور موسیقار دیکھنا چاہتی ہیں جو پہلے ہی حسب توفیق بھجن قسم کی موسیقی بناتے رہتے تھے۔

لتا کی ناراضی سے بچنے کے لیے لکشمی کانت نے نہایت عمدہ عذر تراشتے ہوئے گلزار صاحب سے کہا، ’روشن میرا کے بھجن کو اس بلندی پر لے گیا ہے کہ ہم کبھی اسے نہیں چھو سکتے۔‘

چشم فلک نے یہ نظارہ پہلی اور آخری بار دیکھا کہ لکشمی کانت یا پیارے لال کی زبان پر معیار کی بات آئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گلزار نے مشہور ستار نواز روی شنکر سے رابطہ کیا جو ایک طرف کلاسیکی موسیقی سے پوری طرح آگاہ تھے تو دوسری طرف نہ صرف مقامی بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی اچھی خاصی اہمیت رکھتے تھے۔

اپنے تمام تر کلاسیکی پس منظر کے باوجود روی شنکر روشن کا عشر عشیر بھی بھی تخلیق نہ کر سکے۔ جب 1979 میں میرا ریلیز ہوئی اس وقت روشن کو دنیا سے گزرے 12 برس بیت چکے تھے۔

بڑے بڑے موسیقاروں کو چاروں شانے چت کر دینے والا بھجن تھا ’اے ری میں تو پریم دیوانی میرا روگ نہ جانے کوئی‘ جو 37 برس قبل 1952 میں سینما کی زینت بننے والے فلم ’نو بہار‘ میں شامل تھا۔ اس کے بول ذرا مختلف یوں تھے کہ میرا بھجن سے مکھڑا لے کر ایک غیر معروف نغمہ نگار سیتندر نے پوری کیفیت برقرار رکھتے ہوئے از سر نو لکھے تھے۔

روشن کی دھن میں سوز و گداز، روانی اور سپردگی کی کیفیت جیسے لتا کی آواز میں ڈھل کر آئی اس کی نہ پہلے کوئی مثال ملتی ہے نہ بعد میں۔

روشن کو سنگیت کی دنیا میں متعارف کروانے کا سہرا خواجہ خورشید انور کے سر ہے جنہوں نے بطور ایسراج پلیئر روشن کو آل انڈیا ریڈیو دہلی میں کام دیا۔ جب خواجہ صاحب دہلی ریڈیو سے بمبئی کی فلم نگری میں آن براجے تو روشن بھی موسیقار بننے کا سپنا سجائے کچھ عرصے بعد بمبئی چلے آئے۔

خواجہ خورشید انور نے انہیں اپنی فلم ’سنگھار‘ میں اسسٹنٹ موسیقار کے طور پر شامل کر لیا۔ اگلے سال مشہور فلم ساز کیدار شرما کی فلم ’نیکی اور بدی‘ سے بطور خود مختار موسیقار ابتدا کی تو فلم بری طرح فلاپ ہوئی۔

کیدار شرما کی 1950 میں آنے والی فلم ’جوگن‘ میں اپنے وقت کے بہت بڑے نام بلوسی رانی نے بھی میرا کا یہ بھجن ’اے ری میں تو پریم دیوانی‘ کمپوز کیا جسے گیتا دت نے بہت عمدگی سے گایا لیکن اس فلم میں اسی جوڑی کا ایک اور میرا بھجن ’گھونگھٹ کے پٹ کھول‘ اپنی کیفیت میں جواب نہیں رکھتا۔

تقسیم کاروں کی مخالفت کے باوجود کیدار شرما نے اپنی اگلی فلم ’باورے نین‘ میں دوبارہ روشن کو موقع دیا۔ اس فلم میں مکیش اور گیتا دت کی آواز میں شامل ’خیالوں میں کسی کے اس طرح آیا نہیں کرتے‘ اور راجکماری کا گیت ’سن بیری بلم سچ بول رے اِب کیا ہو گا‘ بہت مشہور ہوئے۔

لیکن ان میٹھے گیتوں کے باوجود روشن کا کیرئیر ہچکولے کھاتا ہوا بمشکل رینگ رینگ کر چلتا رہا۔ فلم میں ایک دو گیت بہت ہی اچھے نکل آتے لیکن مجموعی طور پر کوئی ایک فلم بھی کھڑکی توڑ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی۔ مشکلات کے ان وقتوں میں روشن کے لیے امید کا دیا لتا کی صورت میں روشن تھا۔ لتا نہ صرف روشن کی حوصلہ افزائی کر رہی تھیں بلکہ جہاں تک ممکن ہوتا اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کرتیں۔

1958 میں فلم ’اجی بس شکریہ‘ کے گیتوں کی ریکارڈنگ چل رہی تھی کہ ایک دن اچانک نوشاد صاحب ریکاڈنگ سٹوڈیو میں آ گئے۔ اس دن فلم کا سب سے اہم گیت ’ساری ساری رات تیری یاد ستائے‘ لتا جی بس گانے ہی والی تھیں۔ جیسے ہی روشن نے اپنے گُرو نوشاد کو دیکھا فوراً ان کے چرن چھوئے اور درخواست کی کہ آج میرا گیت آپ ریکارڈ کیجیے۔ نوشاد صاحب نے ہوبہو روشن کی دھن ریکارڈ کی اور یہ گیت بہت ہی مقبول ہوا۔

کسی موسیقار کا دوسرے موسیقار کی ریکارڈنگ کے دوران آنا بالکل خلاف معمول واقعہ ہے۔ ممکنہ طور پر یہ لتا جی کی نوشاد صاحب سے کی گئی گزارش کا نتیجہ تھا۔ روشن اپنے کیرئیر کے سب سے مشکل مرحلے سے گزر رہے تھے اور اس سب کچھ کا مقصد روشن کی حوصلہ افزائی اور اچھا شگون حاصل کرنا تھا۔ 50 کی دہائی میں نوشاد ایک دیوتا تھے جن کی محض موجودگی ہی نیک شگون سمجھی جاتی تھی۔ اس گیت کی برکت سمجھ لیجیے یا کچھ بھی کہ روشن کے روشن دنوں کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔

رسیلے مگر ہٹیلے نغمہ نگار ساحر لدھیانوی ایس ڈی برمن اور اوپی نیّر کے ساتھ نہایت کامیاب فلموں کے بعد سینگ اڑا بیٹھے تھے۔

بھارت بھوشن کے بھائی آر چندرا نے جب فلم ’برسات کی رات‘ بنانے کا فیصلہ کیا تو دو چیزیں یقینی تھیں۔ ایک فلم کے ہیرو بھارت بھوشن اور دوسرے نغمہ نگار ساحر لدھیانوی۔ ساحر کی موجودگی سے بڑے موسیقار کا امکان تو کم و بیش رد ہو چکا تھا۔ خیام سائن ہوئے لیکن پہلی نشست میں ہی پروڈیوسر کے ساتھ ان کا تال میل بگڑ گیا۔

فلم پروڈیوسر آر چندر اور ہدایت کار پی ایل سنتوشی نے خیام کے سامنے استاد فتح علی خان اور مبارک علی خان کی قوالی ’نہ تو میکدے کی طلب مجھے‘ کا ریکارڈ سامنے رکھ دیا اور کہا یہی دھن استعمال کر کے قوالی بنا دیجیے۔

اگر خیام کی جگہ شنکر جےکشن یا لکشمی کانت پیارے لال ہوتے تو وہ کہتے کہ باقی چار پانچ ریکارڈ بھی لا دیجیے تاکہ کام جلدی نمٹ جائے لیکن یہ تو خیام تھے۔ کام کی اشد ضرورت کے باوجود وہ کسی طرح بھی اس بات پر آمادہ نہ ہوئے۔ اس طرح روشن اور ان کے ساتھ قوالی ’نہ تو کارواں کی تلاش ہے‘ فلم کا حصہ بنی۔

1960 میں اس فلم کے گیتوں کے ریکارڈ ’مغل اعظم‘ کے بعد سب سے زیادہ فروخت ہوئے اور فلم نے کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دیے۔

روشن اس کے بعد ایسے چمکے کہ مسلسل ایک سے بڑھ کر ایک فلم ان کی موسیقی میں کامیاب ہونے لگی۔ ’آرتی،‘ ’تاج محل،‘ ’چتر لیکھا‘ اور ’بہو بیگم‘ کا کون سا گیت ہے جو آج بھی جگمگا نہیں رہا۔

افسوس روشن اپنی کامیابی سے ابھی پوری طرح لطف اندوز نہ ہوئے تھے کہ آج ہی کے دن 1967 میں اچانک ہارٹ اٹیک سے دنیا چھوڑ گئے۔

70 کی دہائی میں روشن کے بیٹے راجیش روشن نے موسیقی کے میدان میں قدم رکھا اور خوب دھماچوکڑی مچائی۔ تب ان کا خوب نام ہوا لیکن ان کا کام اتنا ہی چلا جتنی دیر شورشرابہ برداشت کیا جا سکتا ہے۔

راجیش نے ایک بار اپنے پتا روشن جی سے کہا تھا، ’آپ بھی شنکر جےکشن کی طرح میوزک دیا کریں نا!‘

روشن نے کہا، ’بیٹا میں کوشش کروں گا۔‘ لیکن روشن نے کوشش نہیں کی۔ ان سے بہتر بھلا کون جانتا تھا کہ اپنے سٹائل کو چھوڑ کر نقالی کی کوشش کی تو کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔

 روشن کی طاقت لوک اور کلاسیکی موسیقی کے تال میل سے کیفیت کو دھن میں ڈھالنا تھا۔ روشن ابتدا میں نوشاد سے بہت متاثر تھے جیسے جیسے وہ نوشاد کے اثر سے نکلتے گئے ان کی موسیقی نکھرتی گئی۔

انہوں نے اپنے من کی آواز سنی اور بڑے بڑے موسیقاروں کی نقالی کے بجائے اپنی طرز اپنے خمیر سے اٹھائی۔ اسی لیے آج تک روشن کے وہ گیت بھی زندہ ہیں جن کی فلمیں زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں۔

60 سے شروع ہونے والی روشن کی کامیاب فلموں کے گیت تو سبھی کے ذہن میں ہیں لیکن ہم ان کے 50 کی دہائی کے دس بہترین گیتوں کا ذکر کرتے ہیں جو اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب روشن اپنی آواز کی تلاش میں نہایت جانکاری سے لگے ہوئے تھے اور اس سفر میں بہت سے روشن گیت شائقین موسیقی کے لیے چھوڑ گئے۔

  • اے ری میں تو پریم دیوانی ( فلم: نو بہار۔ لتا منگیشکر)
  • ساری ساری رات تیری یاد ستائے (فلم: اجی بس شکریہ۔ لتا منگیشکر) 
  • میں دل ہوں اک ارمان بھرا (فلم: انہونی۔ طلعت محمود)
  • تیری دنیا میں دل لگتا نہیں (فلم: باورے نین۔ مکیش)
  • اک دن یہ آنسو بنیں گے ستارے (فلم: ہیرا موتی۔ لتا منگیشکر)
  • سن بیری بلم سچ بول رے اب کیا ہوگا (فلم: باورے نین۔ راجکماری)
  • گرجت برست ساون آئیو رے (فلم: ملہار۔ لتا منگیشکر )
  • دنیا کی نظر ہے بری زلفیں نہ سنوارا کرو (فلم: آگرہ روڈ۔ رفیع گیتا دت)
  • تیرا دل کہاں ہے سب کچھ یہاں ہے(فلم چاندنی چوک۔ آشا بھوسلے)
  • یہ سماں ہم تم جواں پہلو سے دل سرک جائے (فلم: معشوقہ۔ کشور کمار، مینا کپور)

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی