بی بی جیوندی کا عالمی شہرت یافتہ مقبرہ کس حال میں ہے؟

فن تعمیر کے بے بدل شاہکار مقبرہ بی بی جیوندی کی وجہ سے امریکن ایکسپریس کمپنی نے اوچ شریف کو اولڈ بگ سٹی کا خطاب دیا۔

صدیاں گزرنے کے باوجود یہ مقبرہ اپنی خوبصورتی اور حُسن صناعت کے اعتبار سے آج بھی جاذب نظر ہے (Usamashahid433 کری ایٹو کامنز)

 یہ جاڑوں کی رُت کے ان خنک اور گلابی دھوپ میں ہمکتے دل نواز گھڑیوں کی بازآفرینی ہے جب ہم نے اپنے شہر اوچ شریف کے محلہ بخاری میں ایستادہ تاریخی مقبرہ بی بی جیوندی کی زیارت کا قصد کیا۔

بلندی پر واقع پر شہر خموشاں کے بیچوں بیچ اپنے ہم عصر دیگر مقبروں کے ساتھ مقبرہ بی بی جیوندی اپنی تمام تر اسراریت اور دل کشی کے ساتھ ہماری نظروں کے سامنے آیا تو چند ساعتوں میں ہمیں ایسے لگا جیسے تاریخ نے اپنے انمٹ نقوش اِس پرشکوہ مقبرے کی معدوم ہوتی بنیادوں میں چھوڑ دیے ہیں۔

اوچ کی تاریخ و ثقافت کے حوالے سے مستند تصنیف ’خطہ پاک اوچ‘ کے مصنف مسعود حسن شہاب کے مطابق بی بی جیوندی کا اصل نام بی بی جندوڈی تھا۔ آپ حضرت سید جلال بن سید حمید کی دختر عالیہ تھیں جو برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت سید جلال الدین سرخپوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے فرزندسید بہاؤالدین کی اولاد میں سے تھے۔ بی بی جیوندی بڑی عابدہ، زاہدہ اور مستجاب الدعوات صالحہ خاتون تھی، ان کی وفات 1403 میں ہوئی۔ اُن کا مقبرہ خراسان کے بادشاہ محمد دلشاد نے 1496 میں تعمیر کروایا، جو اپنے زمانے کے ممتاز معمار نوریا کے حسن خیال اور دست ہنر کا لاجواب عکس ہے۔

 حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری بخارا کی سکونت چھوڑ کر پہلے ایران اور بعد میں ہندوستان تشریف لے آئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سمرقند و بخارا پر تاتاریوں کی یلغار شروع ہو چکی تھی لیکن ان علاقوں میں آپ کا اور آپ کے خانوادے کا اثرو رسوخ تھا، خراسان کا بادشاہ محمد دلشاد بھی آپ کا معتقد تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1526 کو دریائے گھارا میں آنے والے سیلاب کی طغیانی نے اس شاندار مقبرے کا نصف حصہ گرا دیا جبکہ باقی آدھے حصے کو محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے آہنی پائپوں کا سہارا دے کر حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

صدیاں گزرنے کے باوجود یہ مقبرہ اپنی خوبصورتی اور حُسن صناعت کے اعتبار سے آج بھی جاذب نظر ہے اور بلاشبہ ملتانی کاشی کے نفیس اور پائیدار کام کا عجیب و غریب نمونہ ہے۔ مقبرہ کی تعمیر ہشت پہلو ہے، ہر پہلو پر ایک مخروطی مینار تعمیر کیا گیا ہے۔

مقبرہ پختہ اینٹوں سے تعمیر شدہ ہے، اور اس کا طرز تعمیر (سوائے گنبد کے) ملتان کے مقبرہ حضرت شاہ رکن عالم سے مشابہت رکھتا ہے۔ مقبرہ کو فیروزی، سفید اور نیلے رنگوں کی کاشی گری سے سجایا گیا ہے جس میں گل کاری اور جیومیٹری کے ڈیزائن ہیں، سجاوٹ کے لحاظ سے اپنے دور کے تعمیراتی شاہکاروں میں یہ اپنی مثال آپ ہے۔

باہر سے یہ مقبرہ جتنا ہیبت ناک اور پُر جلال ہے اندر سے اِس کی خستہ حالی اور منہدم ہوتے آثار، جنہیں ظالم وقت نے بڑی تیزی اور مہارت سے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس بچے کھچے کھنڈرات بارہا آپ سے اپنے بچاؤ اور تعمیرِ نو کی التجا کرتے نظرآئیں گے۔

امریکہ قونصلیٹ نے اس عمارت کے تحفظ کے لیے ایک لاکھ  ڈالر کا عطیہ بھی دیا لیکن نہ جانے وہ کہاں گیا؟

آپ بار بارگھوم کر کسی گائیڈ یا راہ دکھانے والے کا اتا پتہ پوچھیں گے اور کوئی پرسانِ حال نہ ہو گا۔ محکمہ آثار قدیمہ کی طر ف سے نصب ایک زنگ آلود آہنی بورڈ محض چند سطروں میں اس مقبرے کی تاریخ بیان کرتا ہے، اس کے علاوہ کسی قسم کا کوئی سائن بورڈ، تاریخ کی داستان سناتا کوئی بینر، کوئی ایسا نشان نہیں ہو گا جو آپ کو اس مقبرے کی تاریخ کا قصہ سنائے۔ خوبصورت کاشی گری سے مزین ادھ ادھوری دیواریں اور محرابیں جو کسی زمانے میں، اپنے بنانے والے کی محنت، محبت اور مہارت کا عکس ہوں گی، اب اپنی اجڑی اور ویران حالت کا نوحہ پیٹتی ہیں۔

 اوچ شریف کی تاریخی عمارتوں کو بچانے کے لیے اوچ مانومنٹ کمپلیکس بھی قائم کیا گیا، جس کا عملی کردار کہیں نظر نہیں آتا۔ 1998 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے ورلڈ ہیریٹیج سائٹ نے مقبرہ بی بی جیوندی سمیت اوچ شریف کے چار مقامات کو اپنی واچ لسٹ میں شامل کیا، جبکہ فن تعمیر کے بے بدل شاہکار مقبرہ بی بی جیوندی کی وجہ سے امریکن ایکسپریس کمپنی نے اوچ شریف کو اولڈ بگ سٹی کا خطاب دیا۔

ملتانی فن تعمیر کا شاہکار یہ مقبرہ 2000 میں دنیا بھر کی سو قدیم تاریخی عمارات کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھا۔ امریکی قونصلیٹ برائن ڈی ہنٹ نے 2006 میں جبکہ پیٹرسن نے 2008 میں اس شہر کا دورہ کیا اور اس کے عظیم تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے 50،50 ہزار ڈالر کا عطیہ بھی دیا جس کا عشر عشیر بھی اوچ کے ان آثار قدیمہ پر لگا ہوتا تو آج ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ مالی سال 2020-21 کے صوبائی بجٹ میں حکومت پنجاب نے اس تاریخی مقبرے کی بحالی و مرمت کے لیے ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی تھی، جس کا کوئی پتہ نہیں۔

سمجھ نہیں آتا کہ ہم اپنے ایسے قیمتی ورثے کو سنبھالنے میں اتنے ناکام کیوں ہیں۔ ہماری تاریخ کی ایسی شاندار تہذیبی نشانی کی اِس زبوں حالی پر، دل قدم قدم پر دُکھتا ہے، ماضی کایہ عالی شان مقبرہ حکومت کی بے توجہی کا گلہ کرتا ہے اور ہر آنے والے کو اپنے فنا ہونے کی داستان سناتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ