سر کش کو سر کرنے کا جنون

’میں پہاڑوں پر بہت تیز چلتا ہوں۔ مجھے پتہ نہیں لگتا کہ کب میں ساتھی کوہ پیماؤں کو پیچھے چھوڑ کر اکیلا آگے نکل جاتا ہوں اور چلتا رہتا ہوں چلتا رہتا ہوں۔‘

کے ٹو اتنا سر کش ہے کہ کسی سر کش کو ہی اپنی جانب بڑھنے دیتا ہے (اے ایف پی)

کے ٹو کو سردیوں میں بغیر آکسیجن کے سر کرنے کا فیصلہ، اس فیصلے کو وہی سمجھ سکتا ہے جسے پہاڑوں سے محبت نہیں عشق ہو۔

صاحب عشق تو سر مانگتا ہے۔ عشق تو صحراؤں میں پھراتا ہے۔ درگاہوں پر بٹھاتا ہے کچے گھڑے پر دریا پار کرواتا ہے۔ جگر کا گوشت کھلاتا ہے۔ جو ہو سب چھین لیتا ہے۔ جب تک عشق میں سر نہ دو عشق کہاں ٹلتا ہے۔ آدمی پلٹتا ہے پھر واپس آتا ہے پھر پلٹ جاتا ہے۔ دل اور دماغ میں ہمیشہ دل ہی بازی مارتا ہے۔ اور جب سر چلا جائے تب ہی پتہ لگتا ہے دل بازی مار گیا۔

علی سدپارہ کے عشق کو کوئی کیا ’جج‘ کر سکتا ہے جوآٹھ پہاڑ سر کر چکا ہو اور پورٹر بن کر توان گنت بار ان پہاڑوں کے دامن میں سو چکا ہو۔ اسے آکسیجن کا ہونا یا نہ ہونا کیا کہتا ہے۔ اس کے سر پر تو عشق سوار ہے وہ خود نہیں گیا جناب اسے عشق لے گیا اب وہ عشق اسے کیا کیا رنگ دکھائے یہ وہ جانتا ہے یا اس کا معشوق جانتا ہے۔

علی سدپارہ نے جب یہ فیصلہ کیا کہ وہ سردی میں کے تو سر کریں گے تب وہ اکیلے نہیں تھے ان کے ساتھ اور بھی ساتھی اور ان کا اپنا بیٹا ساجد سدپارہ بھی تھا۔ سفر کی ابتدا کی، بیس کیمپس میں قیام کیا، کئی روز اپنے آپ کو اس پہاڑ کے لیے تیار کیا جسے سر کش پہاڑ کہا جاتا ہے۔ جناب لوگ سردی میں اس پہاڑ کو سر کرنے پر تنقید کر رہے ہیں یہ تو معقول موسم میں بھی اپنی طرف بڑھنے والوں کو تگنی کا ناچ نچا دیتا ہے۔ وہ پہاڑ نہیں پہاڑوں کا بادشاہ ہے۔ اس کی طرف دیکھنے والی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اس کی طرف بڑھتے اناڑی قدم تو راستے میں ہی پست ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔

کے ٹو اتنا سر کش ہے کہ کسی سر کش کو ہی اپنی جانب بڑھنے دیتا ہے۔ باقی تو سب اس کے قدموں کی دھول تک ہی محدود رہتے ہیں علی سدپارہ ان سرکشوں میں سے ایک سر کش ہیں جنہوں نے اس کی طرف پیش قدمی کی اور اس عظیم الشان پہاڑ نے کرنے بھی دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں اب بھی انہیں اس پہاڑ پر رقص کرتا ہوا دیکھ رہی ہوں۔ وہی گلگتی دھن وہی علی سدپارہ وہی سر کش پہاڑ جس پر علی سدپارہ اپنے ہاتھ فضا میں بلند کیے عالم مدہوشی میں رقص کر رہے ہیں اور پس منظر میں موسیقی بج رہی ہے، ’ہم کو گھائل کر گیا تیرا ستم، تم چلے آو پہاڑوں کی قسم،‘ اور پھر وہ رقص کرتے کرتے ہنسنے لگتے ہیں اور سب ان کو تالیاں بجا کر داد دینے لگتے ہیں۔

یہ وہی علی سدپارہ ہیں جو پہاڑوں پر دوستوں سے یہ کہتے رہے کہ اگر میں پہاڑ سے واپس نہ  آ سکا تو اسی پہاڑ کو کھود کر میں اس میں رہنا شروع کر دوں گا۔ کیا یہ آپ بول سکتے ہیں کیا یہ کوئی اور بیوی بچوں والا ’عام‘ شخص بول سکتا ہے؟ نہیں، یہ وہی بول سکتا ہے جس کا روم روم عشق سے سر شار ہو جسے صرف یہ پتہ ہو کہ جو ہے یہی ہے زندگی اگر کہیں ہے تو یہیں ہے۔ پہاڑوں پر جانا اور وہیں کا ہو جانا، یہ وہی شخص کر سکتا ہے جسے پہاڑوں سے بے پناہ محبت نہیں عشق ہو۔

پھر جو اس عشق پر تنقید کرنا چاہتا ہے تو اس حکومت پر بھی تنقید کرے جس سے وہ سپانسرشپ مانگتے رہے لیکن ملا تو وہی امیدیں تسلیاں دلاسا اور شرمندگی جو انہیں ساتھی کوہ پیماؤں کے سامنے اٹھانی پڑی۔ حکومت وقت سے وہ یہ مطالبہ کرتے رہے کہ ان سے وہ وعدہ وفا کیا جائے جو نانگا پربت سر کرنے کے بعد ساتھی کوہ پیماؤں کے سامنے ان سے کیا گیا تھا لیکن انہیں جواب کیا ملا؟ ’آپ کو سپانسر کرنے کی بجائے ہم سکول پر پیسے لگا دیتے ہیں۔ اتنی بڑی بات بھی اس شخص کا حوصلہ پست نہیں کر سکی اور کرتی بھی کیسے پہاڑوں کو سر کرنے والوں کے حوصلہ بھی پہاڑوں جتنے ہی بلند ہوتے ہیں۔

آئیں سب مل کر علی سدپارہ اور ان کے پہاڑوں سے عشق کو ان کی اس بات سے جج کرتے ہیں۔

’میں پہاڑوں پر بہت تیز چلتا ہوں۔ مجھے پتہ نہیں لگتا کہ کب میں ساتھی ماؤنٹینیرز کو پیچھے چھوڑ کر اکیلا آگے نکل جاتا ہوں اور چلتا رہتا ہوں چلتا رہتا ہوں رات کے تین بجے چلنا شروع کرتا ہوں صبح ہو جاتی ہے پھر جب سورج کی پہلی کرن مجھ پر پڑتی ہے تو میرا جسم جیسے حرارت محسوس کرتا ہے اور میں خود سے کہتا ہوں، یارعلی تو کہاں ہے؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی