آخری بار والد کو باٹل نیک پر چڑھتے دیکھا تھا: ساجد سد پارہ

کے ٹو سر کرنے کے دوران لاپتہ ہونے والے کوہ پیما علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ بیس کیمپ سے سکردو پہنچ چکے ہیں، ان تین دنوں کے دوران انہوں نے مزید کیا دیکھا؟

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کے دوران لاپتہ ہونے والے کوہ پیما علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ ریسکیو کے لیے استعمال ہونے والے پاکستانی آرمی کے ہیلی کاپٹر میں کے ٹو بیس کیمپ سے سکردو پہنچ چکے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے آخری بار اپنے والد کو 8200 میٹر کی بلندی پر دیکھا تھا۔

میڈیا کے چند نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ساجد سد پارہ نے بتایا کہ وہ پُر یقین ہیں کہ علی سد پارہ کی ٹیم نے کے ٹو کی چوٹی سر کر لی تھی اور واپسی پر موسم کی خرابی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کوئی واقعہ رونما ہوا ہے۔

سرچ آپریشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’دو تین دن سے زیادہ وقت گزر جائے تو سرد موسم کی شدت کے ساتھ 8000 میٹر سے زائد کی بلندی پر کسی بھی انسان کے زندہ بچنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں لیکن باڈی کی سرچ کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہنا چاہیے۔‘

انہوں نے پوری قوم کا شکریہ ادا کیا جو اس مشکل وقت میں ان کے لیے دعا گو ہے۔

کے ٹو بیس کیمپ میں پہنچنے کے بعد ساجد سد پارہ کافی تھکے ہوئے اور ذہنی اضطراب کا شکار تھے، اس لیے بذریعہ سڑک سکردو تک سفر کرنا ان کے لیے مشکل تھا، لہذا اتوار کی شام انہیں بذریعہ ہیلی کاپٹر سکردو پہنچایا گیا۔

ساجد نے بتایا کہ پانچ دسمبر سے کے ٹو مہم کا آغاز ہوا تھا اور وہ اپنے والد کے ہمراہ تھے۔ مہم میں ان دونوں باپ بیٹا کے علاوہ تمام غیر ملکی کوہ پیما تھے۔

انہوں نے کے ٹو پر پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ ’پانچ فروری کی رات انہوں نے کے ٹو کی فائنل سمٹ شروع کی تھی۔ وہ اور ان کے والد سمیت چار کوہ پیما تھے جبکہ نیپالی اور یورپی کوہ پیماؤں کے دیگر گروپ کیمپ تھری سے نیچے آ رہے تھے۔‘

واضح رہے کہ دونوں پاکستانی کوہ پیماؤں نے بغیر آکسیجن کے ٹو چوٹی سر کرنے کا تہیہ کیا تھا لیکن بیک اپ آکسیجن سیلنڈرز ساتھ رکھے گئے تھے تاکہ مشکل کی صورت میں استعمال کیے جا سکیں۔

ساجد سدپارہ نے بتایا کہ کیمپ نمبر تھری سے جب وہ اوپر روانہ ہوئے اور 8200 میٹر پر پہنچے تو انہیں محسوس ہوا کہ ان کی آکسیجن کم ہو رہی ہے اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ان کے دماغ پر اثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے کہا کہ ایمرجنسی کے لیے جو آکسیجن ساتھ رکھا تھا اسے استعمال کریں لیکن جب وہ آکسیجن کا ماسک لگا رہے تھے تو اُس کا ریگولیٹر لیک ہو گیا جس کی وجہ سے وہ قابل استعمال نہیں رہا۔

ساجد نے بتایا کہ والد نے ان کی زندگی رسک میں ڈالنے کی بجائے وہاں سے واپس بھجوا دیا تاکہ طبیعت بہتر ہو سکے، جس پر  وہ والد (علی سد پارہ) اور دونوں غیر ملکی کوہ پیماؤں کو وہاں باٹل نیک کے علاقے میں چھوڑ کر نیچے آ گئے اور کیمپ کی جانب اترائی شروع کر دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ 8200 میٹر کی بلندی پر باٹل نیک کا مقام ہے، جو کیمپ چار کے بعد آتا ہے۔ یہ انتہائی دشوار گزار راستہ ہے جس کے بعد کے ٹو کی چوٹی صرف 411 میٹر کے فاصلے پر تھی۔

ساجد نے مزید بتایا کہ آخری بار انہوں نے اپنے والد کو باٹل نیک پر چڑھتے دیکھا تھا۔ وہ پانچ فروری دن بارہ بجے کا وقت تھا جبکہ ساجد جب نیچے کیمپ تھری پہنچے جو 7350 میٹر کی بلندی پر ہے، تو اس وقت شام کے پانچ بج چکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ علی سد پارہ کی ٹیم کے پاس واکی ٹاکی نہیں تھا اس لیے ان سے رابطہ نہیں ہوا۔ ساجد نے مزید بتایا کہ کیمپ تھری سے انہوں نے نیچے بیس کیمپ میں رابطہ کر کے بتایا کہ وہ پہنچ گئے ہیں اور علی سد پارہ ٹیم بھی امکان کے مطابق پانچ فروری کی رات دس یا گیارہ بجے تک کے ٹو سر کرنے کے بعد کیمپ تھری پہنچ جائے گی۔

ساجد سد پارہ نے کہا کہ وہ کیمپ تھری اس لیے رکے کہ جب ٹیم سمٹ کر کے واپس پہنچے گی تو وہ انہیں چائے پانی بنا کر دیں گے، اس لیے وہ پوری رات کیمپ تھری میں علی سد پارہ کی ٹیم کا انتظار کرتے رہے اور کیمپ کی لائٹ بھی جلا کر رکھی تاکہ رات کو انہیں واپسی پر کیمپ تلاش کرنے میں مشکل پیش نہ آئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چھ فروری کی صبح نیچے بیس کیمپ میں دوبارہ رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ ٹیم واپس نہیں پہنچی تو انہوں نےکہا کہ آپ نیچے آ جائیں کیونکہ اوپر موسم خراب ہو چکا ہے، ہم ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو آپریشن شروع کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان