انسان کے جسم سے بال کیسے جھڑے؟

تقریباً 20 لاکھ سال قبل ہمارے جسم مکمل طور پر گھنے بالوں سے ڈھکے ہوئے تھے، پھر ہم گنجے ہو کر ایسی مخلوق بن گئے جسے ہر وقت بال جھڑ جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ لیکن ہمارے جسموں سے بال ختم ہوئے کیسے؟

نی اینڈرتھال انسان کی ایک خیال تصویر (پبلک ڈومین)

جہاں تک بالوں کا تعلق ہے تو جب تک آپ ان سے محروم نہیں ہو جاتے اس وقت تک آپ کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آپ کے پاس کیا چیز ہے۔

ارتقائی مراحل میں ’بالوں‘ سے محروم ہوتے ہی ہم انہیں دوسروں سے مستعار لینے لگے۔ ہم اون اور پشم والی مخلوقات سے بالوں والی مخلوق میں تبدیل ہوئے جہاں یہ پہلے جسم کے اکا دکا حصوں میں پھیلے ہوئے تھے اور گرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ 

انسانیت کا آغاز بالوں سے محرومی کے دکھ کے حصار میں ہوا۔ تقریباً 20 لاکھ سال پہلے ہم نے وہ شکل اختیار کی جو آج ہے، یعنی گنج پن کا شکار وہ مخلوق جو ہمیشہ فکر مند رہتی ہے۔

آج سے طویل عرصہ پہلے ہماری تاریخ میں یہ کیوں اور کیسے ہوا اس کی وضاحت کے لیے دو نہایت ٹھوس اور متضاد نظریے موجود ہیں۔

ہماری موجودہ ہئیت کو واضح کرنے کے لیے دونوں نظریے  مختلف پہلوؤں کو اہمیت دیتے ہیں: ماں کی محبت اور چلنے کی عادت۔ لیکن اتنی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ بال ہمارے لیے سب کچھ ہیں۔ جب یہ گر چکے ہوں تب بھی بال عالمگیر حقیقت ہیں بلکہ خاص طور پر جب یہ گر چکے ہوں۔ 

ایک وقت تھا جب ہمارے قدیم پیش رو ہومینڈ ایڑی سے چوٹی تک بالوں میں گھرے ہوئے تھے (آنکھوں، ہونٹوں اور چند دیگر جسمانی اعضا کے علاوہ)۔

بندروں اور گوریلوں کی طرح ہمارے جسم بالوں سے اٹے ہوئے تھے۔ بال ہمارے لیے نہایت ضروری تھے۔ کپڑوں کی غیر موجودگی میں یہ ہمیں گرم رکھتے۔

سردی اور دھوپ جیسی چیزوں سے یہ ہمیں بیک وقت محفوظ رکھتے۔ بالوں کی گہری تہہ جسم کو توڑ پھوڑ اور شاخوں کی خراش سے محفوظ رکھتی (درختوں کے درمیان ننگے بدن اچھل کود کیجیے تو آپ کو لگ پتہ جائے گا) ممکنہ طور پر یہ ہمیں شکاری جانوروں کے لیے بطور خوراک کم لذیذ بناتے۔ کون ہے جسے بالوں بھری چیز کھانا پسند ہے؟

میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی شک کی بات ہے کہ ہم اپنے بالوں سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ صرف شکار کے ذریعے خوراک کا حصول ہی سب کچھ نہیں تھا۔

فاسل کے ماہرین اور ارتقائی نفسیات دانوں کے مطابق ہم نے صفائی اختیار کرنے میں بھی بہت وقت لگایا۔

آپ کو بس پرائمیٹ جانوروں میں ہمارے قریب ترین کزنوں، بالوں سے بھرے اورینگوٹان کا مشاہدہ کرنا ہے کہ وہ صفائی کے کتنے شوقین ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایک دوسرے کو صاف کرنے میں بھی تعاون کرتے ہیں۔

بالوں کو بڑھانا اور سنوارنا اپنی بنیاد میں ایک خوشگوار سماجی سرگرمی ہے۔ بال ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ اگر آپ میرے بال سنواریں گے تو میں آپ کے سنواروں گا۔

ممکن ہے بال ہی وہ بنیادی سماجی سبب ہوں جس نے ہمیں گروہوں، قبیلوں اور ذاتوں کی شکل میں ایک ساتھ رہنے میں مدد دی ہو۔ بالوں کو پسندیدگی سے دیکھنا ہمارے باطن میں شامل ہے۔

لیکن دوسری طرف ہم بالوں کے متعلق زیادہ فکرمند نہیں تھے۔ جیسا اب ہے اس وقت بال عملی مقاصد کے لیے نہیں ہوتے تھے۔

یہ بس ایک چیز تھی جو ہمارے ہر جگہ موجود تھی اور سب کے پاس تھی۔ بالوں بھرے قدیم ترین انسانوں میں امتیاز کرنا بہت ہی مشکل تھا۔

بال یا جیسا کہ اس وقت یہ بالوں یا اون کی ایک دبیز تہہ تھی، ہمیں آپس میں اور دیگر بالوں والی مخلوقات سے مساوی رکھنے کی بنیاد تھی۔

تقریباً 20 لاکھ سال قبل ہم بالوں کے سنہرے عہد میں جی رہے تھے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تب ہمیں علم نہیں تھا کہ یہ سنہرا دور ہے۔ ہمیں یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہ ختم ہونے جا رہے ہیں۔ 

کون سی ایسی حیران کن مصیبت ٹوٹ پڑی؟ کیوں دس اور 20 لاکھ سالوں کے درمیان کسی وقت سارے نہ سہی لیکن بہت سارے بال جھڑ گئے؟ یہ سب کہاں گئے؟ ہم کیسے اتنے زیادہ گنجے پن کا شکار ہو گئے؟ اپنی تباہی میں یہ اس شہاب ثاقب کی طرح تھا جس نے تقریباً چھ کروڑ سال پہلے ڈائنوسار مار ڈالے۔

ہزاروں سال کے سفر میں پورے بدن پر بکھرے بالوں کو اتنا خطرناک حد تک سکڑ کر کم ہو جانا تھا اگرچہ جو رہ گئے وہ بھی غنیمت ہیں۔

دوستوں کی ایک مختصر تعداد (اصل تعداد دو) سے رائے طلب کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بڑے پیمانے پر لوگ اس کا سبب کپڑوں کو سمجھتے ہیں۔

سادہ لفظوں میں ہمیں لمبے بالوں کی ضرورت ہی نہیں رہی جب ہم نے جانوروں کی کھال سے کپڑے تیار کرنا ، آگ سے تپش اور غاروں میں پناہ حاصل کرنا شروع کی۔

یقیناً بالوں کی واقعی ضرورت نہ رہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ بال دس لاکھ سال پہلے گرنا شروع ہوئے جبکہ لباس تو تقریباً گذشتہ ایک لاکھ سال میں زندگی کا حصہ بنا۔

کپڑے سینے کے لیے سوئی کی آمد تو محض تقریباً 50 ہزار سال کا قصہ ہے۔ کپڑوں کا خیال ہمارے ذہن میں بال ختم ہونے کے بعد اس وقت آیا جب سردی لگنا شروع ہوئی۔

اس کے لیے ہمیں محض دس لاکھ سال کا عرصہ لگا۔ اس لیے میرے دوستوں یہ نظریہ تو ٹھہرا فضول۔ وہ اسے بالکل الٹ پیش کر رہے تھے۔

پھر کس لیے ہم نے اس قدر زیادہ بال گرائے جو لیبراڈور کتا آپ کے کمرے کی قالین پر بھی نہیں گراتا؟ ہم ویسے ہی بالوں بھرے کیوں نہیں رہے؟ پروفیسر نینا جیبلونسکی کا خیال ہے کہ وہ یہ بات جانتی ہیں۔

حیاتیاتی ماہر بشریات جیبلونسکی امریکہ کی پینسلوینیا یونیورسٹی سے وابستہ اور کتاب ’جلد: ایک فطری تاریخ‘ (Skin: A Natural History) کی مصنفہ ہیں۔

انہوں نے پہلی ڈگری حیاتیات میں لی اور پھر علم بشریات میں پی ایچ ڈی کرتے ہوئے ان دونوں علوم کو باہم آمیخت کرتے ہوئے بائیولوجی اور نفسیات کی روشنی میں قدیم ترین وقتوں سے انسانی زندگی کا مطالعہ کیا۔ ان کا سر گھنے سفید بالوں سے بھرا ہوا ہے۔

جیبلونسکی کے ذہن میں وسیع تر خاکہ ہے۔ ان کے خیال میں پروٹو ہیومن سے انسان بننے تک کا سست رفتار سفر 70 لاکھ سال سے 20 لاکھ سال قبل تک پھیلا ہوا ہے۔

ہمارے قدیم ترین آبا و اجداد درختوں سے اترے اور مشرقی افریقہ کے سرسبز علاقے میں چار کے بجائے دو ٹانگوں پر چلنے لگے۔ جسے جیبلونسکی ’عادتاً دو پیروں پر چلنا‘ کہتی ہیں وہ بہت بنیادی ایجاد ہے۔

ہمارے قدیم آبا و اجداد تقریباً 50 لاکھ سال تک اسی حالت میں رہے اور اس عمل کے دوران ہماری ٹانگیں بہتر ہوتی گئیں۔

اس کے بعد 20 لاکھ سال کے قریب چیزیں تیزی سے بدلنے لگیں۔ پھر ’ہومو‘ گروہ ابھرتا ہے اور ہم اپنی موجودہ قابل پہچان شکل اختیار کرتے ہیں۔

آلات بنانے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ جیسا کہ جیبلونسکی کہتی ہیں ’ہم راتوں رات انسان نہیں بنے، انسانی خصوصیات لاکھوں، کروڑوں سالوں کے ارتقا سے گزریں۔

خاص طور پر گذشتہ 10 اور 20 لاکھ سال کے دوران ہم نے بہت زیادہ جسمانی بال کھونے شروع کیے۔ اس ارتقا کے پیچھے جیبلونسکی کے بقول، لیوی سٹراس کے لفظوں میں سب سے بڑا فرق ’دستر خوان کے آداب‘ تھے۔

جیبلونسکی اسے ’طرز زندگی‘ کہتی ہیں۔ ہم شکاری تھے اور شکار کے لیے درکار اہم ترین چیزوں میں سے ایک تیز دوڑنا ہے۔ ہم اس وقت شکار کرنے کے لیے یا دیگر شکاریوں سے بچنے کے لیے بھاگتے ہی رہتے تھے۔

 مرد، عورت اور بچے سب کے بارے میں یہ بات درست ہے۔ جیبلونسکی کہتی ہیں کہ یہ خیال رد کیا جا چکا کہ سب ضروریات مرد پوری کرتے اور خواتین اپنے عارضی ٹھکانوں پر ہی رہتی تھیں کیونکہ اُس عہد میں اس بات کے شواہد نہیں ملتے۔

کوئی گھروں میں آگ جلا کر نہیں بیٹھا ہوتا تھا کیونکہ تب ایسے گھر تھے ہی نہیں (اور نہ ہی آگ تھی)۔ وہ کہتی ہیں، ’ہم دقیانوسی صنفی تصورات میں جکڑے ہوئے ہیں۔

یہاں تک نہیں بلکہ دقیانوسی نسلی تصورات میں بھی۔ زیادہ تر ایسی نظریہ سازی گوروں کی خود ساختہ ہے۔ یہ انفرادی جذباتی انسان ہیں جو اپنے تجربات پر اصرار کر رہے ہیں۔

وہ خاص طور پر کتاب ’دا نیکڈ ایپ‘ (The Naked Ape) کے مصنف، ماہر علم حیوانات ڈیزمنڈ مورس کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہیں ’وہ بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں پیدا ہونے والے مرد ہیں جو صنفی کرداروں کو مخصوص انداز میں دیکھتے ہیں۔‘

ان کے نزدیک بنیادی قاعدہ یہ ہے کہ ’اگر آپ نہیں دوڑتے تو آپ بچ نہیں سکتے۔‘ غاروں یا درختوں میں کچھ دیر کے قیام کے علاوہ ہم بھاگ دوڑ پر ہی زندہ رہے۔

اس وقت ہم افریقہ کے خط استوا پر رہ رہے تھے، عہد حاضر کے تنزانیہ، کینیا اور ایتھوپیا کے چٹیل میدانی علاقوں میں، جو ہر وقت گرمی سے دہکتے رہتے تھے (جیبلونسکی، لیور پول جان مورس یونیورسٹی کے پیٹر ویلر کے کام کے حوالے سے کہتی ہیں کہ واقعی ہم اس وقت کس قدر گرمی میں رہ رہے ہوں گے)۔

بہت زیادہ بالوں کی موجودگی میں آپ زیادہ نہیں دوڑ سکتے یا زیادہ سہی الفاظ میں آپ بہت تھوڑی دیر کے لیے دوڑ سکتے ہیں لیکن یہ عمل جاری نہیں رکھ سکتے۔ آپ کا جسم ابلنے لگتا ہے۔

جیبلونسکی ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ’کتے، بلی اور شیر کی طرح ہمارے اندر ناک اور منہ کے ذریعے سانس لینے اور خارج کرنے کی ویسی صلاحیت نہیں۔‘

قدیم انسانوں میں زیادہ بال والوں کی نسبت کم بالوں والے یہ عمل زیادہ آسانی سے سر انجام دے سکتے تھے اس لیے بال کم ہونے کا فائدہ تھا۔

صرف یہی نہیں کہ ہم نے بال کم کر لیے بلکہ خود کو ٹھنڈا کرنے کا نظام بھی وضع کیا جسے پسینہ کہتے ہیں۔ زیادہ دوڑنا، زیادہ پسینہ، کم بال۔

مثال کے طور پر اپنا (یا اپنی پہلی نسلوں کا) موازنہ لمبے بالوں والے ہاتھی سے کیجیے۔ فرض کیجیے آپ دوڑتے ہوئے ہاتھی کو پکڑنا چاہتے ہیں: ہاتھی سے کم بال ہونے کی بدولت ہم زیادہ دیر دوڑنے کے قابل ہوں گے (جسے ’مسلسل دوڑنا‘ کہتے ہیں‘ اور ہاتھی کو جا لیں گے۔ باقی جانور بس مختصر وقت کے لیے دوڑ سکتے ہیں کیونکہ انہیں رک کر اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے۔

ہم بھاگتے ہیں، پسینہ بہتا ہے اور پھر شکار کو پکڑ کر کھاتے ہیں۔ اس لیے کم بالوں والے جو بہترین دوڑ سکتے تھے ان کی زندگی آگے چلی۔

ارتقا کا اصول یہ ہے کہ جو آپ کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے، فائدہ مند اور ضروری ہے وہ بالآخر ہماری بنت کا حصہ بن جاتا ہے۔

جیبلونسکی کہتی ہیں کہ ’پتھروں کے آثارِ قدیمہ نے بہت سی معلومات محفوظ کر رکھی ہیں۔

کچھ جانداروں نے عمدہ آغاز کیا اور کئی ملین سالوں تک اچھے خاصے چلتے رہے لیکن پھر فنا ہو گئے۔

ان کے اندازے کے مطابق نسبتاً انسانی کارکردگی بہت شاندار رہی لیکن ہم کسی بھی وقت فنا ہو سکتے ہیں۔‘

یہ مفروضہ کہ ارتقائی عمل میں پسینہ کتنا مددگار ثابت ہوا اب کافی پھیلا ہے۔ مثال کے طور پر بی بی سی کی ویب سائٹ پر اس کا حوالہ موجود ہے۔

یہ یونیورسٹیوں میں بچوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ اس کی پوری طرح سمجھ بھی آتی ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے؟

میرا اپنا خیال ہے کہ یہ غلط نہیں ہے لیکن اس عجیب و غریب مخلوق جسے ہم انسان کہتے ہیں، اس کی وضاحت کے لیے تن تنہا یہ نظریہ کافی نہیں۔

یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ انسانی بالوں کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا اس کے بارے میں اور بھی مختلف نظریات موجود ہیں۔

آبی بندر(aquatic ape) نظریے کے مطابق ہم نے ماضی میں (50 سے 70 لاکھ سال قبل) بہت زیادہ وقت پانی میں تیرتے ہوئے گزارا جس کے باعث ہماری جلد زیادہ ہموار ہوتی گئی۔

پانی سے نکل کر ٹھوس زمین پر چلنے سے پہلے ہم ڈولفنز کی طرح نظر آنے لگے۔ اس نظریے کے ساتھ ایک ہی مسئلہ ہے کہ عین اس وقت اردگرد دیو ہیکل مگرمچھ موجود تھے اور ہم ان کی زد سے بچ سکتے ہی نہیں تھے کہ بال گرنے کا مرحلہ آئے۔

ایک دوسرے نظریاتی دبستان کے مطابق ہم نے پسوؤں اور کیڑے مکوڑوں سے جان چھڑانے کے لیے بالوں سے جان چھڑائی جو انہیں اپنا بیسرا بنا لیتے تھے (لہٰذا بال سنوارنے کے عمل میں نصف کردار کیڑے چننے اور انہیں کھانے کا ہے)۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو تھوڑے بہت بال ہوتے ہیں ان میں بھی کیڑے موجود ہوتے ہیں پھر کیوں نا ان سے پوری طرح جان چھڑا لی جائے؟

کیا ہم سب بروس ویلز اور پیٹرک سٹوورٹ کی طرح لگیں گے؟ اور پھر جلد کو دیگر بہت سارے مسائل بھی تو ہیں۔

اگر بالکل ہی بالوں کا صفایا ہو جاتا تو آپ کو دھوپ سے بچنے کے لیے کریم اور موئسچرائزر استعمال کرنا پڑتا۔

 پرکھنے کا ایک بالکل مختلف انداز بھی ہے کہ پسینے کی جگہ پیار ہوتا تو معاملات کہاں تک پہنچتے۔ اگر ہم کھلے میدانوں میں طویل مدت تک چلتے نہ رہتے تو کیا ہوتا؟ اگر ہم بوس و کنار کرتے اور پیار سے ایک دوسرے کو چھونے کی زیادہ ضرورت محسوس کرتے تو؟

جیم جائلز جغرافیائی اور ذہنی اعتبار سے ایک خانہ بدوش ہیں۔ کینیڈا کے شہر وینکوور میں پیدا ہوئے اور ڈیوڈ ہیوم کی مثال سے متاثر ہو کر فلسفہ پڑھنے کے لیے سکاٹ لینڈ کے شہر انڈنبرا چلے گئے لیکن پھر وہاں سے نفسیات اور علم بشریات پڑھانے کے لیے ہوائی، آسٹریلیا ، کیمبرج کا رخ کیا اور اب ڈینمارک میں کوپن ہیگن کے مغربی جانب واقع روسکلڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔

صنف، خواہش اور ننگے پن پر جنسی مضامین کے مصنف اور لمبے بالوں والے موسیقار کئی شعبوں کے ماہر اور منحرف انسان ہیں جنہوں نے مرکزی نظریات کی خامیاں دریافت کیں اور ارتقائی مراحل کے بارے میں ایک متبادل نقطہ نظر پیش کیا۔

جیبلونسکی کی طرح وہ کہتے ہیں کہ قدیم ماضی کے متعلق سوچتے ہوئے ہماری سوچ موجودہ ضروریات سے متاثر ہوتی ہے۔

وہ دلائل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پسینے کو ترجیح دینے والے نظریے کے پیچھے باربی کیو فینٹسی یعنی ’گوشت کھانے کو جواز فراہم کرنے کا بہانہ‘ ہے۔

جائلز کے نقطہ نظر کے مطابق دس اور 20 لاکھ سال قبل والے نازک دور میں ہم محض شکاری تھے۔ یقیناً ہم مردار کھاتے تھے۔

ہمارے ہتھے کچھ بھی چڑھتا ہم شوق سے کھا جاتے تھے لیکن نفسیاتی طور پر ہم گوشت کھانے کے لیے نہیں بنے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’کھوپڑی کی ساخت کو دیکھیے۔ ہمارے ویسے جبڑے نہیں ہیں جیسے گوشت خور جانوروں کے ہوتے ہیں۔ ہمارے دانت جڑی بوٹیاں کھانے کے لیے بنے ہیں۔ جیسے کتا سبزی خور نہیں ویسے ہم گوشت خور نہیں۔‘

جائلز کہتے ہیں کہ افریقی میدانوں میں دوڑنے کا نظریہ اپنی بنیاد میں نقائص سے پاک نہیں اور یہ ہماری حالیہ دور میں چلنے اور خود کو تندرست رکھنے کے شوق کا عکاس ہے۔

وہ مساوات اور تندرستی کے قائل ہیں لیکن اہم بات کرتے ہیں کہ اس وقت مانع حمل ادویات کا ایسا عام استعمال نہیں تھا اور زیادہ تر عورتیں حمل سے ہوتیں یا شیر خوار بچے ان کی گود میں ہوتے۔

’14 سال سے زائد عمر کی عورتیں مسلسل حاملہ رہتی تھیں۔ جب چھاتیاں سوجی ہوئیں یا بچہ گود میں ہے تو آپ کیسے بھاگ سکتے ہیں؟‘ بچوں اور خواتین کو شکاریوں کی لوٹ مار سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی سماجی سلسلہ ضرور ہونا چاہیے۔

’ہم بہت کمزور تھے۔ ہمارے پنجے یا جبڑے نہیں تھے۔ ہم کسی چیز کو زمین پر پٹخنے سے قاصر تھے۔ ان سب شکاریوں سے بچ کر زندہ رہنے کی وجہ سماجی تعاون اور عقل کا استعمال تھا۔‘

پیدل چلنے کے نظریے کی وہ ایک اور خامی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتی کہ مردوں کی نسبت عورتوں کے بال کم کیوں ہیں۔ اگر عورتوں کے بال زیادہ کم ہیں تو اس کا مطلب ہے بالوں کی کمی میں مرکزی کردار عورتوں کا ہے۔

جائلز کے انسانی ارتقا کے نظریے میں پسینے پر محبت غالب نظر آتی ہے۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ ہم نے انفرادی طور نہیں بلکہ گروہوں کی شکل میں ارتقائی سفر طے کیا۔

’ہماری قدیم مائیں بہت زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کر رہی تھیں۔ وہ بچے کی پرورش کر رہی تھیں اور ایک پورا سلسلہ ان کا معاون تھا۔‘

جب ہم درختوں سے زمین پر اترے اور دو پاؤں پر چلنے لگے تو ہم نے اپنے پیروں کی پکڑنے کی صلاحیت کھو دی۔ اب پاؤں کسی چیز کو پکڑنے کے بجائے چلنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

جو ویسے تو ٹھیک تھا لیکن محض ہاتھوں کے استعمال سے بچے ماں کی کھال سے پہلے کی طرح مضبوطی سے چمٹ نہیں سکتے تھے۔ انہیں پھسلنے اور جھولنے کا مسئلہ درپیش رہتا۔

اس لیے بچے کی چمٹنے کی کھو جانے والی صلاحیت کا ازالہ کرنے کے لیے ماں کو اپنی گرفت مضبوط کرنا پڑی۔ ظاہر ہے جو ماں گرفت کی بہتر صلاحیت رکھتی اس کے بچے زیادہ زندہ رہتے۔ بے شمار ماؤں میں اسی کی نسل آگے چل سکتی تھی جو پکڑنے کی بہتر صلاحیت کی حامل ہوتی۔

’میدانی علاقوں میں ادھر ادھر گردش کرتے وقت اسے کسی ایسی چیز کی ضرورت تھی جو بچے کو تھامنے میں تعاون کرے۔ یہی بالوں کے ہونے اور نہ ہونے کا اصل سبب ہے۔‘

نوزائیدہ بچے کو مشرقی افریقہ کے گرد بھرے میدانوں میں اپنے ساتھ گھسیٹنا ایک مشکل اور محنت طلب کام تھا۔ بچے کو زمین پر اتار کر اپنے پاؤں پر چلانے کی خواہش تو بیدار ہوتی ہو گی۔

اگر ایسا نہیں تو اس کی کوئی نہ کوئی معقول وجہ ہو گی۔ کس لیے ایک تھکی ہاری ماں بچے کو اٹھائے رکھے گی؟ ظاہر ہے محبت کے سبب، جائلز کے نظریے کے مطابق ’واضح محبت۔‘

تمام مائیں فطری طور پر اپنے بچوں سے شدید محبت کرتی ہیں۔ جہاں تک ہم انسانوں کو جانتے ہیں تو ہم (ایک عمومی اصول کے طور پر) جسم سے جسم کو چھونے کے شوقین ہیں۔

ہم چھونے اور چھوئے جانے، ہاتھ پھیرنے اور چمٹنے سے لطف لیتے ہیں۔ اگرچہ ہم کسی شخص کے بالوں میں بھی ہاتھ پھیر سکتے ہیں لیکن ننگی جلدی پر ہاتھ پھیرنے کا لطف کہیں زیادہ ہے۔

فرض کرو ایک بچے کے جسم پر اورینگوٹان بندروں کے بچے کی نسبت کم بال ہیں تو ظاہر ہے اسے کثیر بالوں والے اپنے ہم مرتبہ سے زیادہ محبت کی جائے گی۔

صوفی کی پسند کی طرح کے پیچیدہ منظرنامے کے تحت ایک ماں کو اپنے بہت زیادہ بالوں والے بچے (اسے ’جان‘ کا نام دے دیتے ہیں) اور اس کے کم بالوں والی بہن ’جِل‘ میں سے کسی ایک کا ’انتخاب‘ کرنا ہے تو وہ جان کے بجائے جل کو چن لے گی۔ سوری جان تم اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

زیادہ بالوں والے افراد پر انتخاب کے دوران کم بالوں والے افراد کو ترجیح دی جاتی تھی۔

جائلز کہتے ہیں، ’نئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کے دوران آپ کو کچھ چیزیں رکھنا اور کچھ چھوڑنا پڑتی ہیں۔ صاف جلد کا مطلب تھا زیادہ سے زیادہ محبت۔ ماں زیادہ دیر دودھ پلا سکتی ہے اور بچہ زیادہ بہتر انداز میں پی سکتا ہے۔‘

اس طرح نہایت طویل مدت میں ہمارے بچوں کے بال کم ہونے اور ان کے صاف بندروں میں ڈھلنے کا سفر جاری رہا۔ اس لیے چارلز ڈارون اور ڈیزمنڈ مورس جنسی انتخاب کے معاملے میں درست بھی ہیں اور غلط بھی۔

یہ ماں کی محبت اور دودھ پلانے سے شروع ہوئی لیکن بہت جلد یہ نوجوانوں میں جنسی تلذد کا پیمانہ بن گئی۔

جائلز کہتے ہیں ’بغیر بالوں کے کسی ساتھی سے نوجوان کا ابتدائی نرم گرم تعلق ماں سے ہی رہا ہو گا۔ اگر بال شہوت انگیز ہیں تو ان کا خاتمہ بھی شہوت انگیز ہے۔‘

ہم پر منکشف ہوا کہ ایسا جسم جو سر سے پاؤں تک بالوں سے ڈھکا ہوا نہیں اس کے ساتھ جنسی عمل زیادہ رومانوی اور زیادہ پرلطف ہوتا ہے۔ صاف الفاظ میں بالوں کی کمی زیادہ شہوت انگیز تھی۔

نسبتاً بغیر بالوں کے نسل نے اپنے بعد مزید کم بالوں والی نسل پیدا کی ہو گی۔ جلد ہی بال تیزی سے کم ہونے لگے۔

میٹرنل سلیکشن تھیوری اس بات کا بھی جواب فراہم کرتی ہے کہ عورتوں کے جسم پر مردوں کی نسبت تھوڑے بال کیوں ہوتے ہیں کیونکہ مرد کے بجائے زندگی کے لیے مرکزی کردار ماں کا تھا۔

شروع میں تقریباً سارے بچے بالوں کے بغیر ہوتے ہیں اور مردوں کے شدید گھنے بال بعد میں بنتے  ہیں۔

یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ ارتقائی مراحل میں بالوں کے ہونے یا نہ ہونے کے متعلق ایک خاتون جیبلونسکی بھاگ دوڑ پر اصرار کرتی ہے جبکہ ایک مرد جیمز جائلز ماں بچے کے تعلق کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

اہم ترین فرق شواہد کو سمجھنے کے لیے نفسیات یا علم الاعضا میں سے کسی ایک کی ترجیح کا ہے۔ کیا ہم صومالیہ کے ایتھلیٹ مو فرح کوجانگیے اور جوتوں میں دوڑتا دیکھتے ہیں یا سگمنڈ فرائڈ کو سگار پیتے ہوئے؟

میرا خیال ہے انسانی ارتقا کے متعلق کھوج لگاتے ہوئے جسم اور دماغ کو الگ الگ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جیبلونسکی جائلز سے اتفاق کرتی ہیں کہ ’ماں کو پکڑ کے رکھنا پڑتا تھا۔

یہ چمپینزیوں کے بارے میں بھی درست ہے۔ (ہومو) جینس میں یہ عمل مزید واضح شکل میں ملتا ہے۔ یہ نہایت بنیادی چیز ہے۔‘

وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتی ہیں کہ ’ارتقائی مراحل میں چھونا بہت اہم رہا ہے۔ یہ اس وقت سے ہماری زندگی کا حصہ ہے جب ابھی ہم پریمیٹ بھی نہیں بنے تھے۔ یہ ہماری ممالین وراثت ہے۔‘

جائلز کی طرح وہ بھی کہتی ہیں کہ ’پیار سے ہاتھ پھیرنے‘ کا ہمارے ارتقا میں بہت عمل دخل ہے اور ’ہماری جلد میں نسیں لطف اندوزی 'کے جذبات میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

بہرحال ایسا ہوا اور ہم جانتے ہیں کہ لاکھوں سالوں میں سخت گنجان بالوں سے ہم بغیر بالوں کے مرحلے تک آ پہنچے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اصل بال کھونے کا اثر اتنا گہرا ہے کہ ہمارے پاس جو باقی رہ گئے ہم ان سے شدید وابستگی محسوس کرتے ہیں۔

ایک بار ہم نے گھنے جنگل سے جان چھڑانے کی کوشش کی اور اب ہم جو چند گنے چنے بال باقی ہیں انہیں بچانے کے لیے بے چین ہیں۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ دیکھنے میں اچھے لگیں۔

بال کبھی بھی محض بال نہیں ہیں۔ جیسے ہی یہ مقدار میں کم ہوئے ان کی اہمیت بڑھ گئی۔ ہمارے پاس یہ جس قدر کم ہوں ان کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔

بال علامتی بلکہ تقریباً دیومالائی حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔ بھرپور بالوں اور مکمل صاف جلد کے درمیان حالت التوا میں کھڑے ہم لوگ، محض اپنی ماؤں سے چمٹے ہوئے نہیں بلکہ معنی کے صحرا میں بھٹکتے ہوئے علامتی قسم کی مخلوق بن چکے ہیں۔

بال اور دوسرے لوگ ہمیں ہمارے بارے میں کہانیاں سناتے ہیں۔ اگرچہ جلد سے جلد کا ٹکراؤ بہت مزے دار ہے لیکن پھر بھی ہم کسی حد تک بال باقی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان سے لطف اندوز ہو سکیں۔

لیکن اپنے آبا و اجداد کی طرف مڑ کر دیکھنے سے کیا ایسا نہیں لگتا کہ تب تمام بال کھو دینا نسبتاً بہت آسان ہوتا؟ یقیناً۔

لیکن بال بے فائدہ نہیں۔ ہمارے خالی بدن پر کہیں کہیں بالوں کی موجودگی کسی مقصد کے لیے بے۔

جیبلونسکی کے بقول ہم نے زیادہ تر بالوں سے اس لیے چھٹکارا حاصل کیا کیونکہ پسینے کے ذریعے اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہوتی تھی۔

وہ کہتی ہیں ’ہمارے سر پر بال دماغ کو ابلنے سے بچانے کے لیے ہیں۔ سر جسم کا وہ حصہ ہے جو سب سے زیادہ شعاؤں کی زد میں ہوتا ہے اور خط استوا پر سورج بالکل سر پر ہوتا ہے۔ آپ کو حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

جیبلونسکی اور جائلز اس بات پر متفق ہیں کہ بازو کے نیچے بال ’سماجی اشارے‘ یا دوسرے لفظوں میں ایک خاص طرز کی بو پیدا کرنے کے لیے ہیں (اپوکرین غدود کے ذریعے)۔

لیکن جائلز بااصرار اسے ماں سے منسلک کرتے ہیں کہ دودھ پلاتے ہوئے بچے کا سر اور ناک اس کی بغلوں کے نزدیک ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جنسی اعضا کے گرد بال اس لیے موجود ہیں تاکہ وہ اپنی جانب متوجہ کر سکیں خاص طور پر خواتین میں۔‘

جب ہم چار ٹانگوں پر چلتے تھے تو جنسی اعضا پیچھے سے نظر آتے تھے۔ جب ہم دو پاؤں پر چلنے لگے تو عورتوں کے اعضا چھپ گئے۔ اعضا کے بال اس لیے تھے تاکہ اصل مقام کی یاد دہانی کرواتے رہیں۔

یہ دو ٹانگوں پر چلنے والی خواتین کے لیے توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ تھے۔ کیا مردوں کے لیے بھی یہی درست ہے؟ ہم نے بہت ساری چیزیں عورتوں سے لیں جن کی ہمیں ضرورت نہ تھی۔ مثلاً نپلز، بغلوں کے بال۔ مرد اور عورت کے اعضا پر بالوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔‘

لیکن ایسا کیوں ہے کہ، جیسا کہ شہزادہ ولیم اور وین رونی دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے پاس جو تھوڑے سے بال رہ گئے ہیں ہم انہیں بھی کھونے کے خطرے سے دوبار ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسا کیوں ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے انہیں بچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟

جیبلونسکی کے بقول اس کا جواب یہ ہے کہ لوگ 20 لاکھ سال پہلے ملکہ کی جانب سے ٹیلی گرام موصول نہیں کرتے تھے۔

یہ 70 سال ایک استثنیٰ ہیں۔ ہم اوائل جوانی میں انہیں پیدا کرنا شروع کرتے ہیں، جب 35 سال تک پہنچتے ہیں تو جو کرنا ہوتا ہے ان سے کر چکے ہوتے ہیں۔‘

جائلز مرد و خواتین میں فرق پر زور دیتے ہیں۔ ’مردوں کے سر پر بال جنسی اعتبار سے غیر اہم ہیں۔ خواتین مردوں کے بالوں سے اس طرح متاثر نہیں ہوتیں جیسے مرد ان کے بالوں سے ہوتے ہیں۔ مزید برآں خواتین کو گنجے سر والے مردوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔‘

ممکن ہے ایسا ہو کہ سر کے بال خواتین کے لیے جنسی توجہ کے حصول کا ذریعہ ہوں اور کم زور جڑ والے ہی سہی لیکن مردوں نے ان سے یہ لیے ہوں۔

شاید ہمارے بال کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور مستقبل میں ہم سب یل برائنر (کوجیک) کی طرح لگیں گے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ بالوں سے نجات یا کمی انسانی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے۔

اب غیر یقینی اور دھندلے اندھیرے کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ بالکل پہلی بار جب ہم نے بال دیکھے تو اسی وقت پہلی بار ہم نے جلد دیکھی اور ننگے دکھائی دینے لگے۔ کتاب تخلیق میں اس کا ذکر یوں ہے ’اور ان دونوں کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ جانتے تھے کہ وہ ننگے ہیں۔‘

پہلی بار انجیر کے پتوں اور دیگر لوازمات کی سوجھ بوجھ پیدا ہوئی۔ نیکی اور بدی کا علم یہاں سے شروع ہوا۔

انسانی تفریق، آدم اور حوا میں خط امتیاز بالوں کی کمی سے کھینچا گیا۔ یہ ہماری صاف جلد تھی جس نے بالوں سے بھری جانوروں کی دنیا پر کسی حد تک ہمیں فوقیت دی۔ شاید برتری کا خیال بھی یہیں سے پھوٹا۔

اگر ہم ان سے برتر ہیں تو پھر کیا ہم سے برتر کوئی نہیں ہونا چاہیے؟ درجہ بندی، تقابل، نسلی امتیاز کی بنیاد جیسی سب چیزوں کا آغاز بالوں کے دبیز پردے سے جھلکتی جلد کے ذریعے ہوا ورنہ بالوں نے یہ سب فرق چھپا رکھے تھے۔


اینڈی مارٹن  ‘Reacher Said Nothing: Lee Child and the Making of Make Me’ (Polity) کے مصنف ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس