افریقہ میں 78 ہزار سال پرانی قبر میں کیا راز چھپے ہیں؟

کینیا کے ایک غار سے 78 ہزار سال پرانی قبر دریافت ہوئی ہے جس کی وجہ سے قدیم انسان کی ثقافت کے چند نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کینیا میں اس غار میں داخل ہو رہے ہیں جہاں سے بچے کی ہڈیاں ملیں (اے ایف پی)

عام طور پر افریقہ کو انسانیت کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے کیوں کہ یہیں سے ہماری نوع ہومو سیپیئنز نے جنم لیا۔ اسی براعظم سے رنگنے اور چمڑے پر کھدائی کر کے زیورات بنانے جیسے ابتدائی ارتقائی مراحل افریقہ میں شروع ہوئے، لیکن ہماری بیشتر معلومات کے مطابق تدفین اور سوگ جیسے پیچیدہ سماجی رجحانات کا آغاز یورپ اور ایشیا کے علاقوں سے ہوا۔

تاہم کینیا میں پنگا یا سیدی کے مقام پر ایک چٹان کے نیچے غار میں ایک بچے کی 78 ہزار سال پرانی قبر کی باقیات نے چند اہم نئی معلومات مہیا کی ہیں۔  

کینیا، جرمنی، سپین، فرانس، آسٹریلیا، کینیڈا، جنوبی افریقہ، برطانیہ اور امریکہ کے محققین پر مشتمل ایک ٹیم کے ہمراہ ہم نے مذکورہ قبر کا جائزہ لیا۔ ہماری تحقیق معروف برطانوی سائنسی رسالے ’نیچر‘ میں شائع ہوئی جو زمانہ پتھر کے وسطی دور میں مردں کے ساتھ انسانی سلوک سمیت ثقافتی ارتقا کے کئی مراحل پر اہم معلومات سے لبریز ہے۔  

’متوتو‘ نامی بچہ 

تقریباً 78 ہزار سال قبل ایک اڑھائی سے تین سالہ بچے کو لوگوں نے کینیا کے ساحلی علاقے کے قریب ایک غار کے اندر معمولی سے گڑھے میں دائیں کروٹ آرام سے لٹا دیا۔ اس کی ٹانگیں ڈھیلے ڈھالے انداز میں سینے کے ساتھ لگا دی گئیں اور لاش ایک مخصوص کپڑے میں لپیٹی گئی جو شاید کسی جانور کی کھال سے بنا تھا۔  

بچے کے سر تلے کوئی نازک چیز بطور تکیہ بڑے اہتمام سے رکھی گئی (جو گل سڑ کر ختم ہو گئی ہے) تاکہ وہ آرام سے لمبی نیند سوتا رہے۔ آخر میں قصداً بچے کے اوپر غار کی مٹی ڈال دی گئی جس پر آئندہ ہزاروں برسوں میں پڑنے والی مٹی کی تہہ تین میٹر تک پہنچ گئی۔  

ہماری ٹیم نے بعد میں اس شخص کو ’متوتو‘ کا نام دیا جو کینیا کی سواحیلی زبان میں بچے کو کہتے ہیں۔  

افریقہ کی قدیم ترین قبر کی کھدائی 

کینیا کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر پنگا یا سیدی کا مقام ہے۔ آثارِ قدیمہ کے ایک منصوبے کے سلسلے میں ہماری ٹیم نے پہلی مرتبہ 2010 میں اس کا دورہ کیا جو دراصل مشرقی افریقہ کی ہندوستان سے سمندری تجارت کے آغاز کا کھوج لگانے والے آثارِ قدیمہ کے ایک منصوبے کا حصہ تھا۔ 

جب ہم نیشنل میوزیم آف کینیا سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہلی مرتبہ اس غار پر پہنچے تو ہمیں احساس ہو گیا کہ یہ غیر معمولی جگہ ہے۔ ہمارے سر کے اوپر تقریباً 20، 30 میٹر بلند و بالا قدرتی سفید پتھر تھا جو جنگلی درختوں کی پرورش کے لیے ٹھنڈا ماحول اور انسانوں اور جانوروں کے لیے سایہ فراہم کر رہا تھا۔ یہ غار وہاں کے موجودہ مجیکیندا نامی باشندوں کے لیے مقدس مقام ہے۔ 

مقامی لوگوں کی اجازت سے ہم نے غار پر اپنی تحقیق کا آغاز کیا جس کا سلسلہ بڑھتے ہوئے ایک دہائی تک جا پہنچا۔ بہت جلد ہمیں اندازہ ہو گیا کہ انسانی ارتقا کو سمجھنے کے لیے اس مقام کی اہمیت ہماری ابتدائی توقعات سے کہیں بڑھ کر ہے۔  

ہماری کھدائی کے نتیجے میں دبیز تہوں کے سلسلے سے پتھر کے آلات اور جانوروں کی باقیات ہزاروں کی تعداد میں دریافت ہوئیں جن میں کھال سے بنے زیورات اور گہرے پیلے رنگ کے پتھر بھی شامل تھے۔ ان دریافتوں سے 78 ہزار سالہ قدیم انسانی ثقافتی، صنعتی اور دیگر سرگرمیوں سے پردہ اٹھا ہے۔  

لیکن سب سے زیادہ دلچسپ چیز 2013 میں کھدائی کے تیسرے سلسلے کے دوران دریافت ہوئی جب غار کے فرش سے تین میٹر نیچے ایک معمولی گڑھے سے متوتو کی قبر کا سراغ لگا۔  

یہ باقیات اس قدر خستہ حال تھیں کہ ہماری ٹیم کو انہیں ایک پلاسٹر میں ڈھانپ کر پورے بلاک سمیت نکالنا پڑا جن میں وہ دفن تھیں۔ یہ بلاک پہلے کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے نیشنل میوزیم بھیجا گیا اور وہاں سے پھر ہماری ساتھی ماریہ مارٹینون ٹوریس کے پاس سپین میں قومی تحقیقاتی مرکز برائے انسانی ارتقا کے حوالے کیا گیا جو انسان کے آبا و اجداد یعنی hominin کے آثار قدیمہ پر نمایاں تحقیقاتی ادارہ ہے۔  

 مارٹینون ٹوریس اور ان کی ٹیم نے اپنی تجربہ گاہ میں باقیات کی کھدائی اور انہیں ریکارڈ کا حصہ بنانے میں کئی مہینوں تک انتھک محنت سے کام لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ باقیات کسی جدید انسان (ہومو سیپینز) کے چھوٹے بچے کی ہیں۔  

متوتو کو نہایت مہارت سے محفوظ کیا گیا تھا۔ کھوپڑی اور جبڑوں سمیت چہرے کی ہڈیاں ابھی تک ایک دوسرے سے جڑی تھیں۔ دانتوں کی مدد سے مارٹینون ٹوریس کو علم ہوا کہ بچے کی عمر محض اڑھائی تین سال تک تھی۔ 

خوردبین سے ہڈیوں اور اردگرد کی مٹی کے جائزے نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ بچے کے مرنے کے فوراً بعد ہی اس کی لاش کو دفن کر دیا گیا تھا اور اس بچے کے بدن کے گلنے سڑنے کا سارا عمل قبر کے اندر ہی شروع ہوا۔ دوسرے لفظوں میں متوتو کو مرنے کے فوراً بعد جان بوجھ کر دفن کیا گیا تھا۔ 

مزید برآں متوتو کی لاش کا دائیں کروٹ اس طرح لیٹا ہونا کہ گھٹنے سینے کے ساتھ لگے ہوں، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ تدفین بہت اہتمام کے ساتھ شعوری طور پر مخصوص طریقے سے کی گئی تھی۔ سر کو احتیاط سے ایک طرف رکھنے اور قبر کے اندر اس کے ڈھلک جانے سے لگتا ہے شاید اس کے نیچے کسی طرح کا سہارا رکھا گیا تھا جو اس معاشرے میں آخری رسومات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ 

ہمارا اگلا سب سے اہم سوال مردے کی عمر کا تخمینہ لگانا تھا۔ عام طور پر ایسے آثارِ قدیمہ کی عمر کا تخمینہ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (radio carbon dating) کی مدد سے لگایا جاتا ہے، جس میں کاربن کے ایک مخصوص آئسوٹوپ کی مقدار ناپی جاتی ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص شرح سے کم ہوتی رہتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ متوتو کی ہڈیوں کے زمانے کا تعین ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے ناممکن تھا کیوں کہ یہ طریقہ صرف 40 ہزار سال پرانے آثار پر کام کرتا ہے، اور اس سے قدیم زمانے کا اندازہ اس طریقے سے نہیں لگایا جا سکتا۔   

اس جگہ کی قدامت ناپنے کے لیے ہم نے لومینیسنس ڈیٹنگ (luminescence dating) کا طریقہ استعمال کیا جو یہ بتاتا ہے کہ قبر کے اندر لگے ہوئے پتھروں پر آخری بار روشنی کب پڑی تھی (گویا اس وقت جب وہ دفن کیے گئے تھے)۔ لومینیسنس ڈیٹنگ نے متوتو کی تدفین کا زمانہ 78 ہزار سال قبل بتایا اور اس طرح یہ افریقہ میں کسی انسان کی قدیم ترین معلوم قبر بن گئی۔  

انسان کے ثقافتی ارتقا کے مضمرات 

پنگا یا سیدی کے علاقے میں پائی جانے والی اس قبر کی دریافت یہ سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے کہ ابتدائی عہد میں افریقہ کے لوگ مردے کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے تھے جس کے بعد ہم دیگر خطوں کی ثقافتوں کے ساتھ اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔  

بچوں اور کم سن افراد کی یوریشیائی خطوں میں تدفین پہلے ہی عام ہے اور اب ہمارے پاس افریقہ میں 78 ہزار سال قبل کی نہ صرف دانستہ تدفین بلکہ ایک نوجوان بچے کی تدفین کی خبر ہے۔ یہ بچے کے لیے پیدا ہونے والے گہرے افسردہ جذبات کا مختلف سماجی رسومات کی شکل میں اظہار ہے۔  

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار قبر میں ذاتی زیورات یا دیگر سامان نہیں ملا جیسا کہ پہلے دریافت شدہ افریقہ اور ایشیا کی قبروں میں دیکھنے کو ملا تھا۔  

دراصل پنگا یا سیدی میں دریافت ہونے والے جھینگے کے خولوں سے بنے ابتدائی زیورات متوتو کی تدفین سے محض دس ہزار سال بعد کے ہیں۔ تاہم تدفین والی جگہ سے افریقی سرزمین پر پائے جانے والے جھینگوں کے زیورات جیسے کچھ ٹکڑے ضرور ملے ہیں جن پر کسی نوکیلے اوزار یا آلے سے نشانات لگے ہیں۔ اگرچہ ہم ان کی علامتی اہمیت واضح نہیں کر سکے لیکن یہ نشانات لگائے انسان نے ہی ہیں۔  

اس قبر کی ایک اہمیت پتھر کے وسطی دور کے بنے ہوئے پتھر کے اوزاروں کی وجہ سے بھی ہے جو جدید اور قدیم ہر دو طرح کے انسان سے منسلک رہے ہیں۔ پنگا یا سیدی کے آثار کے متعلق ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ جدید ہومو سیپیئنز کے تیار کردہ اوزار ہیں جن سے ابتدائی ٹیکنالوجی کی ہئیت اور استعمال کے بارے میں بہت سی باتیں واضح ہوتی ہیں۔  

انسان کے جسمانی ارتقا کے بارے میں بھی چند نئی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یورپ میں بسنے والے قدیم انسان نیئنڈر تھال ، جو 30 ہزار سال قبل معدوم ہو گئے تھے، ان کے دانت کے معیاری نمونے کے ساتھ متوتو کے دانتوں کے موازنے اور ہومو سیپیئنز کی حالیہ دریافتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلاشبہ وہ جدید انسان تھے لیکن ان میں کچھ قدیم میلانات بھی پائے جاتے تھے۔ 

یہ آثار قدیمہ اور جینیات کے میدان میں ہونے والی جدید تحقیق کی تصدیق کرتے ہیں جس کے مطابق تمام انسانی نوع نے افریقہ کے کسی ایک خطے کے کسی ایک گروہ سے ارتقا نہیں کیا۔ اس کے بجائے افریقہ کے مختلف حصوں میں رہنے والی جدید انسانی آبادی ایک دوسرے سے مختلف اور الگ الگ ارتقائی مداروں میں گردش کرتی آئی ہیں۔  

نوٹ: یہ آرٹیکل ’دی کنورسیشن‘ پر چھپا تھا اور یہاں ان کی اجازت سے اس کی ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اصل آرٹیکل یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس