پریم چوپڑہ کا ایک مکالمہ جس نے ان کی تقدیر بدل دی

پریم چوپڑہ کو ایک مکالمے نے اتنی شہرت عطا کی جتنی انہیں کئی فلموں کا ہیرو بن کر بھی نہیں مل پائی تھی۔

پریم چوپڑہ نے فلم بوبی میں مختصر لیکن یادگار کردار ادا کیا (راج کپور فلمز)

پریم چوپڑہ بار بار کرسی پر پہلو بدل رہے تھے۔ ایک دو بار راج کپور کا اسٹنٹ ان کے پاس سے گزرا تو انہوں نے بے چینی کے عالم میں اس سے اپنے منظر کے بارے میں دریافت بھی کیا لیکن وہ تسلی بخش جواب دیے بغیر جہاں سے آیا تھا، وہیں غائب ہو گیا۔

فلم ’بوبی‘ کا ریسٹورنٹ کا سیٹ تھا، جہاں دور ہیرو رشی کپور اور ہیروئن ڈمپل کپاڈیہ اپنے مکالمات یاد کررہے تھے جبکہ پریم چوپڑہ کرسی پر ٹیک لگا کر بس ٹکٹی باندھے فلم یونٹ کو دیکھتے جا رہے تھے۔ ایک لمحے کو انہیں لگا کہ یہاں آ کر انہوں نے بہت بڑی غلطی کر ڈالی ہے لیکن انہیں راج کپور کی فلم میں کام کرنے کی خواہش تھی، جنہوں نے ایک ملاقات میں انہیں یہ خوش خبری سنائی تھی کہ وہ ان کی فلم ’بوبی‘ میں کاسٹ کیے جا رہے ہیں۔ پریم چوپڑہ کو حکم ملا تھا کہ جب راج کپور کا سٹاف بتائے، وہ سیٹ پر پہنچ جائیں۔

اب پریم چوپڑہ مقرر دن پر سیٹ پر موجود تھے، کئی بار پوچھ چکے تھے کہ ان کا کردار کیا ہے، کون سے مکالمات ادا کرنے ہیں، سکرپٹ کیا ہے لیکن ابھی تک وہ ہونقوں کی طرح سب کا منہ ہی تک رہے تھے۔ عام طور پر انہیں سکرپٹ دے دیا جاتا تھا لیکن یہاں معاملہ یہ تھا کہ وہ اب تک خالی ہاتھ تھے۔ راج کپور کی فلم کا حصہ بننا ہی اپنے لیے ایک اعزاز سمجھ کر منتظر تھے کہ اپنے متوقع منظر کے۔ ایسے میں جب ہدایت کار راج کپور انہیں نظر آئے تو وہ تیر کی طرح ان کی طرف بڑھے اور فرمائش کر دی کہ ’راج جی، سکرپٹ تو دے دیں۔ ‘

راج کپور نے انہیں چونک کر دیکھا اور کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے بولے ’ہاں ہاں، دیتے ہیں۔ ‘ اور ایک بار پھر وہ تیزی سے اس جانب بڑھ گئے جہاں یونٹ سٹاف اگلے منظر کی عکس بندی کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ پریم چوپڑہ پیچ و تاب کھاتی اپنی اندرونی کیفیت کو سب سے پوشیدہ رکھتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر راج کپور نے انہیں منتخب کیا ہے تو کردار بھی جان دار ہو گا۔

لاہور میں جنم لینے والے پریم چوپڑہ کا شروع سے ہی اداکار بننے کا رحجان تھا۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے تو خود کو دلیپ کمار تصور کرتے۔ دلیپ کمار کی کوئی بھی فلم آتی تو اسے دیکھے بغیر چین نہ آتا۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان جب شملہ منتقل ہوا تو سکول کے زمانے میں ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ والد سرکاری افسر بنانے کی تمنا رکھتے تھے، اسی لیے اعلیٰ تعلیم کے خاطر بمبئی روانہ کیا۔

یہاں آ کر پریم چوپڑہ کا زیادہ تر وقت سٹوڈیو کے چکر لگاتے گزرتا، جہاں کے چوکیداروں سے دوستی کر کے چھوٹے موٹے کردار کے لیے درخواست بھی کی جاتی۔ ایک روز اسی کوشش میں ناکام ہو کر ٹرین سے واپسی کا سفر طے کررہے تھے تو ایک پروڈکشن ہاؤس کے کاسٹنگ ایجنٹ نے انہیں سٹوڈیو آنے کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں انہیں پنجابی کی فلم ’چوہدری کرنال سنگھ‘ میں ڈھائی ہزار روپے کے عوض کام کرنے کا موقع ملا۔ یوں سمجھیں جیسے پریم چوپڑہ کی مراد بر آئی۔ خوب جی جان سے اداکاری دکھائی، جس کے بعد پنجابی زبان کی بیشتر فلموں میں انہیں کوئی نہ کوئی کردار ملتا رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پریم چوپڑہ اس دوران بھارت کے ایک مشہور اخبار کے سرکولیشن ڈپارٹمنٹ میں ملازم کرنے لگے، جبکہ جب بھی فلم کی عکس بندی ہوتی تو وہ دفتر سے کسی عزیز کی بیماری یا شادی کا بہانہ بنا کر سیٹ پر پہنچ جاتے۔ پریم چوپڑہ کو پنجابی فلمیں تو مل رہی تھیں لیکن کام بہت ہوتا اور معاوضہ انتہائی کم، پریم چوپڑہ کی خواہش تھی کہ کسی طرح ہندی زبان کی بڑی فلموں میں کوئی موقع مل جائے۔ اس عرصے میں وہ دو تین فلموں میں ہیرو بھی آئے لیکن یہ بھی خاطر خواہ کاروبار نہ کر سکیں۔

پریم چوپڑہ کی خوش قسمتی ہی کہیے کہ انہیں ’وہ کون تھی‘ میں معمولی نوعیت کا کردار ملا جس نے انہیں تھوڑا بہت سہارا دیا۔ پھر شہید، سکندر اعظم، تیسری منزل، پورب اور پچھم اور اپکار وہ فلمیں رہیں جس میں ان کے کام کو پذیرائی کی سند ملی۔ پریم چوپڑہ کی زندگی کا سب سے یادگار دن تو وہ بن گیا جب انہوں نے اپنے آئیڈل ہیرو دلیپ کمار کے ساتھ فلم ’داستان‘ میں کام کیا۔

 پریم چوپڑہ کم و بیش ہر چھوٹے بڑے کردار میں پردہ سیمیں پر جلوہ افروز ہو رہے تھے۔ ان میں زیادہ تر معاون اداکار کے کردار تھے، کہیں نہ کہیں ان میں منفی رنگ بھی جھلکتا۔ المیہ یہ تھا کہ پریم چوپڑہ کو کردار تو مل رہے تھے لیکن وہ فلم سازوں اور ہدایت کاروں کو یہ تسلیم نہیں کراپائے تھے کہ آیا وہ ولن ہیں یا معاون اداکار۔

راج کپور کو اپنی طرف آتے دیکھا تو پریم چوپڑہ لپک کر ان تک پہنچے۔ جنہوں نے ان کے بولنے سے پہلے اپنے مخصوص انداز میں انہیں بتایا کہ جو منظر عکس بند کرنے جا رہے ہیں، اس میں پریم چوپڑہ کو ہیروئن ڈمپل کپاڈیہ کا ہاتھ پکڑنا ہے اور کہنا ہے ’پریم نام ہے میرا۔ ۔ پریم چوپڑہ۔ ‘

پریم چوپڑہ نے سوالیہ نگاہوں سے راج کپور کو دیکھا۔ جنہوں نے ان کے ذہن کو پڑھ لیا تھا۔ جبھی بولے، ’یہ فلم کے اختتامی مناظر ہیں، جن میں تم نے ہیرو اور ہیروئن کو اغوا کرکے پہاڑوں میں لے جانا ہے۔ وہاں جو مکالمات بولو گے وہ بتادیے جائیں گے۔

پریم چوپڑہ کو تھوڑا بہت ملال ہوا کہ اتنے انتظار کے بعد صرف دو تین مکالمات اور بمشکل پانچ سے چھ منٹ کے مناظر کے لیے انہیں طلب کیا گیا لیکن انہوں نے سوچ لیا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، اپنی زندگی کی بہترین پرفارمنس ہی دے کر جائیں گے۔ انہیں اتنا یقین تھا کہ اگر فلم ہٹ ہوگئی تو ان کو اپنے اس تعارف کی ایسی تشہیر مل جائے گی، جو وہ لاکھوں روپے دے کر بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ اسی لیے اپنے مکالمے کو کس طرح ادا کریں گے، اسے ذہن میں بار بار دہرانے لگے۔

منظر عکس بند کرنے کا وقت آیا تو پریم چوپڑہ نے ٹکا کر بولا، ’پریم نام ہے میرا۔۔۔ پریم چوپڑہ۔ ‘ نجانے اس مکالمے میں کیا جادو تھا، کیا سنساہٹ تھی اور کس طرح پریم چوپڑہ نے دل کی گہرائی کے ساتھ چہرے کے تاثرات کا ایسا استعمال کیا کہ جب 973 میں فلم ’بوبی‘ سنیما گھروں کی زینت بنی تو جہاں رشی کپور اور ڈمپل کپاڈیہ راتوں رات سپر سٹار بن گئے، وہیں ہر ایک کی زباں پر پریم چوپڑہ کا مکالمہ تھا۔

فلم نگری میں اب ایک نئے ولن کی آمد کے ڈھول پیٹے جانے لگے۔ اس وقت تک پران، مدن پوری، ایم بی شیٹی اور جیون بھارتی فلموں کے مستند ولن تصور کیے جاتے تھے لیکن درحقیقت پریم چوپڑہ نے ان سب کے مقام کو ہلا کر رکھ دیا۔ بس پھر کیا تھا، پریم چوپڑہ کو ہر دوسری فلم میں ولن منتخب کیا جانے لگا۔ جہاں ہیرو اور ہیروئن ہوتے، وہیں ولن کے لیے پریم چوپڑہ کے علاوہ کسی اور کا سوچا ہی نہیں جاتا۔

پریم چوپڑہ نے 60 سال کے فلم کیرئیر کے دوران ساڑھے تین سو سے زائد فلموں میں کام کیا اور ان میں بیشتر فلموں میں وہ ولن بن کر سکرین پر آئے۔ ان کے سین میں آتے ہی فلم بینوں کے دل سہم جاتے۔ جو مکالمات ادا کرتے، ان کی ادائیگی بھی جیسے ان کی پہچان بن جاتی۔ گو کہ بعد میں بھارتی فلموں میں نصف درجن سے زائد مزید ولن آئے لیکن پریم چوپڑہ کا مقام وہی رہا جو انہوں نے فلم ’بوبی‘ سے حاصل کیا تھا۔

ایک دور تو وہ بھی رہا جب وہ ہیرو کے برابر معاوضہ وصول کرتے۔ ’بوبی‘ کے اس مکالمے کے بعد انہوں نے کئی اور ایسے ہی چھبتے ہوئے مکالمے مختلف فلموں میں ادا کیے لیکن پریم چوپڑہ جہاں بھی جاتے ہیں آج تک ان سے وہی مکالمہ’پریم نام ہے میرا۔۔۔ پریم چوپڑہ۔‘ ادا کرنے کی فرمائش کی جاتی ہے، جس کی عکس بندی تک وہ اس سے انجان تھے۔

 پریم چوپڑہ کو یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ وہ کپور خاندان کی چار نسلوں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان میں پرتھوی راج کپور سے لے کر راج، شمی، ششی، رندھیر، راجیو، رشی اور کرشمہ کپور، کرینا اور رنبیر کپور تک شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ فلموں سے دور تو ہیں لیکن زیادہ تر ہلکے پھلکے مزاحیہ کرداروں میں ہی نظر آتے ہیں۔ یہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ 2014میں پریم چوپڑہ کی بیٹی نے والد کی آب بیتی تحریر کی تو اس کا نام بھی ’پریم نام ہے میرا، پریم چوپڑہ‘ ہی رکھا۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی فلم