جب تین دہائیوں کے بعد دلیپ کمار اور راج کمار ’سوداگر‘ میں اکٹھے ہوئے

دلیپ کمار اور راج کمار میں طویل عرصے سے چپقلش جاری تھی کہ ہدایت کار سبھاش گھئی نے دونوں کو ایک فلم میں لینے کا فیصلہ کیا۔

سوداگر کے بعد دونوں حریف اچھے دوست بن گئے تھے (Mukta Arts)

ہدایت کار سبھاش گھئی کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔ ان سے دلیپ کمار نے صرف ایک سوال کیا تھا، جس کا جواب دیتے ہوئے سبھاش گھئی کی سٹی گم ہو گئی تھی، وہ گھبرا رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جواب سن کر دلیپ کمار کے تاثرات کیا ہو سکتے ہیں۔

وہ اس وقت دلیپ کمار کے بنگلے کی پارکنگ میں اپنی گاڑی میں بیٹھے تھے، اس سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے کہ اب دلیپ کمار کو کیا جواب دیں۔ وہی دلیپ کمار جن کے ساتھ وہ ’ودھاتا‘ اور ’کرما‘ جیسی سپر ہٹ فلموں کا تحفہ پرستاروں کو دے چکے تھے۔ دلیپ صاحب کو وہ اپنا استاد، آئیڈیل اور بڑے بھائی کا درجہ دیتے تھے۔

وہ ابھی ابھی دلیپ کمار کو ایک ایسی فلم کی کہانی سنا کر آئے تھے، جس میں کئی ڈرامائی موڑ تھے۔ ضد اور انا کے خول میں جکڑے دو دوستوں کی داستان تھی، جن کی راہیں ایک مقام پر آ کر ایسی جدا ہوئیں کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔

دلیپ کمار کو یہ کردار بہت پسند آیا تھا۔ خود وہ اعتراف کرتے تھے کہ سبھاش گھئی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں، جن کی ہدایت کاری میں جب بھی وہ کام کرتے، ان کے ہر فیصلے اور ہر منظر کو اِن کی مرضی کے مطابق ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ جو کہانی دلیپ کمار کو سنائی گئی وہ انہیں دل کے قریب محسوس ہوئی اور محفل برخاست کرتے ہوئے انہوں نے سبھا ش گھئی کو ’گرین سگنل‘ دے دیا کہ وہ اِس فلم میں ضرور کام کریں گے۔

سبھاش گھئی اور دلیپ کمار گفتگو کرتے کرتے پارکنگ تک آئے تھے۔ عام طور پر دلیپ کمار کبھی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے تھے کہ جس فلم میں وہ کام کر رہے ہیں، اس میں اور کون کون کام کر رہا ہے۔ لیکن جیسے ہی سبھاش گھئی نے گاڑی سٹارٹ کی، انہیں نجانے کیوں یکدم یہ خیال آیا۔ جبھی انہوں نے دریافت کیا کہ ’سبھاش یہ دوسرے دوست والا کردار کون ادا کر رہا ہے؟‘

یہی وہ سوال تھا جس نے سبھاش گھئی کو گھبراہٹ سے دوچار کر دیا تھا۔ انہیں لگا جس لمحے سے وہ ڈرتے تھے، وہ اب آ ہی گیا تھا۔ جبھی انہوں نے ڈرتے ڈرتے سہمے ہوئے انداز میں کہا، ’راج کمار۔‘ یہ کہتے ہی سبھاش گھئی نے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا۔ جو آندھی طوفان کی طرح وہاں سے گاڑی نکال لے گیا۔

ذکر ہو رہا ہے 1991 کے اوائل کا اور اس واقعے کے کئی روز تک سبھاش گھئی نے پلٹ کر دلیپ کمار سے یہ بھی معلوم نہیں کیا کہ ان کا کیا جواب ہے، ان کے دل میں خوف تھا کہ اگر وہ دلیپ کمار سے رابطہ کریں گے تو کہیں وہ انہیں ڈانٹ نہ پلا دیں۔

وہ اتنا جانتے تھے کہ دلیپ کمار اور راج کمار کے درمیان خاموش جنگ لگ بھگ 32 سال سے جاری ہے۔ دونوں نے آخری بار 1959میں ’پیغام‘ میں کام کیا تھا۔ وہی فلم جس میں دونوں بھائی بن کر پردۂ سیمیں پر جلوہ افروز ہوئے تھے۔ فلم کی عکس بندی کے دوران دلیپ کمار اور راج کمار میں خاصی کشمکش رہی، ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی اس جدوجہد میں دلیپ اور راج کمار ایک ایک منظر کو گھنٹوں اس وقت تک عکس بند کراتے جب تک خود مطمئن نہ ہو جائیں۔ یہ وہ دور تھا جب راج کمار سپر ہٹ ’مدر انڈیا‘ میں کام کر کے دلیپ کمار، راج کپور، شمی کپور اور دیو آنند کی صف میں آکھڑے ہوئے تھے۔

راج کمار کو احساس برتری اورخود پسندی یہ بھی تھی کہ ان کا مکالمات کی ادائیگی کے لب و لہجے کا انداز اور اداکاری دیگر اداکاروں سے کہیں گنا بہتر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ’پیغام‘ کی عکس بندی کے دوران دلیپ کمار کو کسی صورت خاطر میں نہیں لا رہے تھے۔ یہی بات شہنشاہ جذبات کے دل کو ایسی لگی کہ انہوں نے غیر اعلانیہ طور پر راج کمار کے ساتھ پھر کسی اور فلم میں کام نہ کرنے کی ٹھان لی۔ یہی نہیں دونوں کے درمیان بات چیت بھی بند ہو گئی۔

سبھاش گھئی نے کئی دنوں بعد ہمت کر کے دلیپ کمار سے اس کردار کی ادائیگی کے لیے رائے طلب کی تو انہوں نے ہنسی خوشی اس فلم جسے بعد میں ’سوداگر‘ کا نام دیا گیا، اس میں کام کرنے کی ہامی بھر لی۔ سبھاش گھئی نے سکھ کا لمبا سانس لیا۔ وہ ایک آزمائش میں سرخرو ہو چکے تھے۔ اب ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ راج کمار کو کس طرح راضی کریں۔ ایک دن انہوں نے اس امتحان کو بھی دینے کی تیاری کی اور راج کمار کے گھر پہنچ گئے۔ کہانی سنائی گئی، جو انہیں پسند بھی آئی۔ سوال وہی داغا گیا جو دلیپ کمار کا تھا، یعنی دوسرا کردار کون کر رہا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سبھاش گھئی نے یہاں راج کمار کی نفسیات سے خوب کھیلا، وہ گویا ہوئے کہ ’آپ کا کردار بہت مضبوط ہے، اس میں شاہی انداز ہے، پوری فلم کی کہانی آپ کے کردار کے گرد گھومتی ہے۔ چیلنجنگ ہے۔ کوئی بڑا ایکٹر تو آپ کے مقابل یہ کردار نہیں کر سکتا۔ وہ دلیپ کمار ہیں نا۔ وہ تو خوشی خوشی راضی ہو گئے۔‘

سبھاش گھئی نے دلیپ کمار کا تذکرہ راج کمار کے سامنے ایسے کیا جیسے وہ کوئی اوسط درجے کے اداکار ہوں۔ راج کمار کا چہرہ فخر سے سرخ ہو گیا۔ جنہوں نے سبھاش گھئی کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا، ’جانی فلم نگری میں اپنے بعد ہم جسے اداکار مانتے ہیں، تو وہ دلیپ کمار ہی ہیں۔‘

یوں سبھاش گھئی نے دلیپ کمار اور راج کمار دونوں کو رام کر لیا۔

’سوداگر‘ کی عکس بندی شروع ہوئی تو سبھاش گھئی نے بھرپور ذہانت کا استعمال کیا۔ دلیپ کمار کی غیر موجودگی میں راج کمار سے یہ کہتے کہ ’کیا شاٹ دیا ہے سر آپ نے، کل دلیپ صاحب بھی آپ کی تعریف کر رہے تھے۔‘ کچھ یہی الفاظ وہ دلیپ کمار سے ادا کرتے کہ ’راج کمار تو آپ کے فلاں منظر کی ادائیگی کے بعد آپ کے پرستار بن گئے۔‘

یہ ساری چالاکیاں سبھاش گھئی محض اس لیے کرنے میں لگے تھے کہ دونوں سپر سٹاروں کی پیشہ ورانہ رقابت اور انا کے ہاتھوں ان کی فلم قربان نہ ہو جائے۔

ان سب ہوشیاریوں اور چالوں کے باوجود ایک مرحلہ وہ بھی آیا، جب راج کمارنے اعلان کر دیا کہ وہ فلم چھوڑ رہے ہیں۔ ہوٹل پہنچ کر انہوں نے بمبئی واپس جانے کی تیاری پکڑ لی۔ بھاگم بھاگ سبھاش گھئی ان تک پہنچے اور فلم سے الگ ہونے کی وجہ دریافت کی توخود پسندی کا شکار راج کمار کا کہنا تھا کہ دلیپ کمار کا کردار خاصا طاقتور ہے، پھر ان کا لب و لہجہ ایسا ہے جو فلم بینوں کو متاثر کرے گا۔ جبکہ وہ تو سیدھے سادھے مکالمات ادا کر رہے ہیں۔

 ایک بار پھر سبھاش گھئی نے یہاں راج کمار کی نفسیات کو ذہن میں رکھ کر لفظوں کی جادوگری کا اظہار کیا: ’دلیپ صاحب کا کردار دیہاتی کا ہے جبکہ آپ کا شاہی، امیر اور سلجھے ہوئے تعلیم یافتہ کا، آپ اس پہلو کو بھی ذہن میں رکھیں۔‘ راج کمار ایک بار پھر نرم پڑنے لگے لیکن ان کی خواہش پر سبھاش گھئی نے وعدہ کرلیا کہ انہیں بھی اتنا ہی سکرین ٹائم دیا جائے گا جتنا دلیپ کمار کو ملے گا۔

اور پھر وہ دن بھی آیا جب سبھاش گھئی کی محنت وصول ہو گئی۔ نو اگست 1991 کو جب ’سوداگر‘ سینیما گھروں کی زینت بنی تو یہ کمائی کے اعتبار سے اس سال ’ساجن‘ اور ’ہم‘ کے بعد تیسری ہٹ فلم تھی۔ منیشا کوئرالا اور ووِک مشران نے اسی فلم کے ذریعے بالی وڈ میں قدم رکھا۔ ’سوداگر‘ کی کامیابی کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اگلے برس ہونے والے فلم فیئر ایوارڈز میں آٹھ نامزدگیاں ہوئیں۔ ان میں بہترین اداکار کے لیے دلیپ کمار بھی شامل تھے۔

یہ وہ اکلوتی فلم ہے جس کے ذریعے سبھاش گھئی کو بہترین ہدایت کار کا پہلا اور آخری فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ جبکہ یہ دلیپ کمار کی آخری ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ جس کے بعد دلیپ کمار نے صرف ’قلعہ‘ میں کام کیا۔

راج کمار اور دلیپ کمار کا ٹکراؤ دیکھنے کے لیے فلم بین بار بار سنیما گھروں میں آئے۔ دونوں نے بھی دل کی گہرائیوں سے حقیقت سے قریب تر اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ دو بڑے اداکاروں کو ایک ہی فلم میں یکجا کرنے کے لیے جو جتن اور چالاکیاں سبھاش گھئی نے کیں، وہ آج بھی ان پر خاصا فخر محسوس کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم