کیا مستقبل میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے والا ہے؟

آئی ایم ایف کو یہ خوف ہے کہ افراط زر کو واپس ہدف تک لانے کے لیے لوگوں کا پالیسی سازوں پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔ اس موقعے پر وہ بنیاد ختم ہو جائے گی جس کی بدولت یہ توقع کی جائے کہ مستقبل میں قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔

نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں تاجر  چار  اکتوبر 2021 کو کام کررہے تھے جہاں حصص دوسرے پہر 300 پوائنٹس گر گئے تھے کیونکہ سرمایہ کار افراط زر کی وجہ سے فکر مند تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکی مصنف ارنسٹ ہیمنگ وے کے مطابق کوئی معیشت دو طرح سے مستقل افراط زر کا شکار ہو سکتی ہے۔ آہستہ آہستہ اور پھر اچانک۔

سٹیگ فلیشن- دو مختلف الفاظ کو ملا کر بننے والے اس خوفناک لفظ یعنی جمود کا شکار شرح نمو اور افراط زر، سے متعلق امکانات گذشتہ چند ہفتوں میں تیزی سے حقیقت بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

رسد کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور مزدوروں کی کمی کی وجہ سے خام مال، ایندھن اور کارخانوں کو فراہم کیا جانے والا سامان ان بہت سی دوسری اشیا میں شامل ہے، جن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

بینک آف انگلینڈ نے اگست میں خبردار کیا تھا کہ اس سال کے آخر تک افراط زر میں چار فیصد اضافہ ہوگا، لیکن بینک کے گورنر اینڈریو بیلی نے گذشتہ ہفتے اس انتباہ میں یہ کہتے ہوئے اضافہ کیا کہ اس وقت سے پیدا ہونے والی صورت حال کا مطلب ہے کہ یہ امکان موجود ہے کہ افراط زر میں اس سطح سے زیادہ اضافہ ہو۔

اب تک یہ رفتار سست ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اس ضمن میں واضح طور پر کہا ہے کہ معیشت کم اجرت اور کم پیدوار والی معیشت، جس کا انحصار سمندر پار کے مزدوروں پر ہے، سے ’تبدیل‘ ہو کر زیادہ اجرت اور زیادہ پیداوار کی طرف جارہی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیاں سامان ڈھونے، پھل اور سبزیاں اٹھانے والوں اور تربیت یافتہ قصابوں کی کمی پر مرکوز ہیں۔

اس صورت حال کا الزام ہماری بدنظمی کے شکار بریگزٹ کی تبدیلی کو دیا جا سکتا ہے، لیکن اثرات کا دائرہ وسیع ہے۔ گذشتہ ہفتے برطانیہ کی معلومات فراہم کرنے والی کمپنی آئی ایچ ایس مارکیٹ اور انسٹی ٹیوٹ آف پروکیورمنٹ اینڈ سپلائی کی طرف سے لیے جانے والے تعمیراتی صنعت کے مختصر جائزے میں ستمبر میں ترقی کی رفتار میں ایک اور سست روی کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کا سبب نقل و حمل میں رکاوٹ، مال کی شدید قلت اور عملے کی مسلسل کمی ہے۔

خدمات کا شعبہ جو معیشت کا چار بٹا پانچ ہے، کے جائزے میں الزام لگایا گیا کہ عملے کی کمی اور رسد کے مسائل گذشتہ 25 سال میں افراط زر کے دباؤ میں سب سے اضافے کا سب بنے۔

خلا کو بھرنے کے لیے آجر اجرت بڑھانے پر مجبور ہیں۔ اوسط آمدن میں اضافے کی مجموعی شرح جولائی میں 8.3 فیصد رہی۔ یہ شرح گذشتہ ماہ 8.8 فیصد تھی لیکن اب بھی افراط زر کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی دوران بنیادی تنخواہ میں اضافے کا تخمینہ جون میں 3.5-4.9 فیصد کی حد سے بڑھ کر جولائی میں 3.6-5.1 فیصد ہو گیا ہے حالانکہ ملکی شماریات دان کووڈ 19 کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے آگاہ ہیں۔

جہاں اجرت میں اضافہ کارکنوں کے لیے اچھی خبر ہے، وہیں چار انتباہ بھی ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ فوائد ہر جگہ مساوی تقسیم نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ بیلی نے اپنی تقریر میں اشارہ کیا تھا کہ تنخواہوں میں اضافے کا ’انتشار‘ کافی بڑھا ہے۔

دوسرے لفظوں میں جہاں کہیں تنخواہ میں بڑا اضافہ شہ سرخیوں کی زینت بنا، وہیں کم تنخواہیں بھی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ فرمز اس دباؤ کو زیادہ قیمتوں کی شکل میں دوسرے کاروباروں اور صارفین کو منتقل کر رہی ہیں۔

یہ عمل تنخواہوں میں اضافے کو کھا جائے گا۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ شرح نمو بھی کمزوری کی علامات دکھا رہی ہے۔ معاشی سرگرمی میں جون اور جولائی کے دوران صرف 0.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس صورت کی وجہ سے شہر کے کئی ماہرین معیشت کو ’مستقل افراط زر‘ کی بو آنے لگی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آخری بات یہ ہے کہ زیادہ تنخواہیں اس صورت میں برقرار رہ سکتی ہیں کہ کارکن پیداوار میں اضافہ کریں اور ایک گھنٹے کے کام میں زیادہ پیداوار دیں۔ 2010 میں کنزرویٹو پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پیداواری عمل ابھی جمود کا شکار ہے۔

ان تمام اقسام کی غیر یقینی صورت حال کو اکٹھا کیا جائے تو ان سے خدشات کو ہوا مل رہی ہے کہ افراط زر مرکزی بینکوں کے اہداف کو مسلسل متاثر کرسکتا ہے اور ہو سکتا کہ افراط زر میں مزید اضافہ ہو اور یہ پہیہ خود بخود چلتا رہے۔

گذشتہ ہفتے جاری ہونے والے معاشی جائزے کی ابتدائی رپورٹ میں عالمی ادارے نے ایک تجزیہ شائع کیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ اگر ’توقعات کی بنیاد ختم ہوگئی‘ تو ترقی یافتہ معیشتوں میں افراط زر 12 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کو یہ خوف ہے کہ افراط زر کو واپس ہدف تک لانے کے لیے لوگوں کا پالیسی سازوں پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔ اس موقعے پر وہ بنیاد ختم ہو جائے گی، جس کی بدولت یہ توقع کی جائے کہ مستبقل میں قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔

سٹاک مارکیٹیں مستقل افراط زر کے خوف سے واضح طور پر اضطراب کا شکار ہو رہی ہیں۔ برطانیہ میں انڈیکس سے متعلق بونڈز کا اب یہ مطلب ہے کہ اگلے سال اپریل میں افراط زر کی شرح سات فیصد کے لگ بھگ ہوگی۔

بیرن برگ بینک میں ماہر معیشت کالم پکرنگ کہتے ہیں کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ ’ایک بار پھر‘ دوسری معیشتوں سے زیادہ متاثر ہوتا کیوں دکھائی دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کا سبب مسائل کو اس وقت حل کرنے کی حکومتی صلاحیت پر عوام کا عدم اعتماد ہے، جب وہ جنم لیتے ہیں۔

اس پس منظر کے ساتھ وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے ’صورت حال کو گرفت ‘ میں لانے کے لیے اٹھایا گیا کوئی بھی پہلا قدم تھا کہ برطانیہ میں کارکنوں کو تربیت دے کر تربیت یافتہ کارکنوں کی مارکیٹ کا خلا بھرا جا سکے اور دوسری لوگوں کو وہ ملازمت اختیار کرنے ترغیب دینا جسے انہوں نے پہلے ٹھکرا دیا تھا، ایک مثبت عمل ہو گا۔

زیادہ تنخواہ دینے اور بلند پیدواری نمو کے لیے نعرہ بازی اور داخلی محاذ آرائی کی بجائے فوری طور پر ٹھوس پالیسی کی بنیاد پر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ تنخواہوں کے اس اضافے کو برقرار رکھا جا سکے۔ یا شائد جیسے ہیمنگ وے نے کہا ہے کہ بتدریج کی بجائے اچانک۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت