کیا سوئز بحران اور کابل سے انخلا کے درمیان موازنہ درست ہے؟

سیاسی مبصرین افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا اور 1956 کے سوئز بحران کے درمیان مماثلتیں قائم کرنے کے لیے انتہائی بے چین دکھائی دیتے ہیں۔

25 نومبر، 1956 کی اس تصویر میں اینگلو فرانسیسی زمینی فورسز کے کمانڈر اور برطانوی جنرل ہیو سٹاک ویل سوئر بحران کے دوران سعید بندرگاہ پر اقوام متحدہ کے دستے میں شامل ناروے کے سپاہی سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

حالیہ موسم گرما کے دوران افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال اور 1956 کے سوئز بحران کے درمیان مماثلتیں قائم کرنے کے لیے مبصرین مرے جا رہے تھے۔

لیکن اُس وقت سگنل مین کے طور پر کام کرنے والے کیتھ اوہار کا نقطہ نظر عام طور پر پیش کی جانے والی تاریخ سے بالکل مختلف ہے۔  

شمالی یارک شائر میں واقع کیٹرک آرمی کیمپ میں 1956 کی بون فائر نائٹ سگنل مین کیتھ اوہار اپنے بستر کے کنارے پر بیٹھے کارروائی شروع کرنے کے لیے اشارہ ملنے کے منتظر تھے۔

محض سات روز پہلے وہ تنازع شروع ہوا تھا جو بعد میں سوئز بحران کے نام سے معروف ہوا، جب اسرائیلی فوج نے مصر پر حملہ کر دیا۔

بظاہر برطانوی اور فرانسیسی فوجی دستے امن کے لیے اتارے جا رہے تھے لیکن درپردہ ان کا مقصد نہر پر اسرائیلی قبضے میں معاونت تھی۔ 

موسم گرما گزرتے ہی تبصرہ نگاروں اور سیاست دانوں نے کابل کے ہنگامی انخلا اور تاریخی مثالوں کے درمیان مماثلتیں کھینچنے کے لیے کمربستہ ہو گئے۔

1975 میں امریکہ کے سیگون سے انخلا کا تذکرہ شہ سرخیوں میں خوب بڑھا چڑھا کر کیا گیا۔ لیکن برطانیہ کے لیے کسی دوسرے لفظ کی نسبت ایک لفظ بکثرت استعمال ہوا اور وہ تھا ’سوئز۔‘ 

برطانیہ کی سرکاری پارلیمانی رپورٹس اور اخبارات کے ادارتی صفحات پر ’شرم ناک‘، ’نااہل‘ اور ’ذلت آمیز‘ کے الزامات بار بار دہرائے گئے۔

حکومت اور اپوزیشن دونوں بورس جانسن کی حکومت اور سابق سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب کی انخلا کی حکمت عملی پر تنقید کے نشتر برسانے کے لیے صف آرا ہو گئے۔

کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ٹام ٹوگندات نے کہا ہے کہ ’افغانستان کی صورت حال سوئز کے بعد خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی تھی۔‘

شمالی آئرلینڈ کے سیکریٹری کے بقول ’سوئز کے بعد برطانیہ کے لیے یہ سب سے بڑی رسوائی تھی۔‘

ایسا لگتا ہے 65 برس قبل اسی ہفتے مشرق وسطیٰ میں قوم کے ساتھ جو ہوا اس کا نقش برطانیہ کی سیاسی نفسیات پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا، کتنے برس گزر گئے لیکن اس کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے۔ 

ایسا نہیں کہ سگنل مین کیتھ اوہار رسوائی یا خارجہ پالیسی کی ناکامی سے پریشان تھے۔ بالآخر وہ اس بات پر خوش تھے کہ بہرحال سارا معاملہ یوں نمٹ گیا کہ امریکہ کے دباؤ پر برطانیہ اور فرانس نے اپنی نئی کالونیاں بنانے کی شاندار کوششیں ترک کر دیں۔

ان کی کنیت محض اتفاق نہیں، مرکزی کردار (کیتھ اوہار) اور مصنف (مائیک اوہار) باپ بیٹا تھے اور اس واقعے کے بعد آئندہ سالوں میں انہوں نے سوئز کے متعلق بہت کچھ کہا جس میں سے زیادہ تر میں نے ریکارڈ کر لیا تھا۔

سوئز کی 65 ویں سالگرہ قریب آتے ہی میں ان کی باتیں دوبارہ سن رہا ہوں۔ 

لیکن سوئز اس قدر ذلت آمیز کیوں تھا؟ کہا جاتا ہے کہ اس نے دو سلطنتوں برطانیہ اور فرانس کے خاتمے کی نشان دہی کی، یہ وہ لمحہ تھا جب دونوں کو احساس ہوا کہ اب وہ دنیا کے طاقت ور ترین ملک نہیں رہے۔

اب یہ پوشاک امریکہ اور سوویت یونین پر سجے گی۔ لیکن کیا اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یورپی باشندے عالمی بساط پر اس قدر بری طرح لڑکھڑا کیوں گئے؟

کیا یہ وقت کا دھارا گذشتہ صدی کی سلطنت سازی کے دنوں کی طرف موڑنے کی متکبرانہ کوشش تھی یا نادانستہ طور پر پدرشاہی سامراج آج بھی سمجھتا ہے کہ اس کا راستہ درست تھا۔

کیا واقعی بیسویں صدی میں وہ لمحہ آیا جب پرانے کھلاڑی کو شکست سے دوچار ہونا پڑا، دم دبا کر اپنے دھندلائے ہوئے شاہی دارالحکومتوں کی سمت پلٹنا پڑا؟

1952 میں شاہ فاروق کا تختہ الٹنے کے بعد نئی نئی معرض وجود میں آنی والی مصری جمہوریہ کے صدر جمال عبد الناصر نے 1956 میں نہر سوئز کو قومیا لیا جو بحیرہ احمر کے ذریعے بحیرہ ہند کو بحیرہ روم سے جوڑتے ہوئے براہ راست مصر سے گزرتی تھی۔

آج کی طرح اس وقت بھی یہ نہر تجارتی اور عسکری دونوں نقطہ نظر سے اہمیت کی حامل تھی۔ اسے ایک فرانسیسی Ferdinand de Lesseps نے 1859 اور 1869 کے درمیان بنایا تھا اور قومیانے سے پہلے بنیادی طور پر فرانسیسی اور برطانوی شیئر ہولڈرز کی ملکیت تھی۔ 

اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران یہ نہر لڑائی کے نقطہ نظر سے نہایت اہم اثاثہ تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد یہ تیل کی ترسیل کا ایک زبردست ذریعہ بن گئی جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں نئی نئی مال دار خلیجی ریاستوں سے تجارت کا بہترین راستہ تھی۔

یہ مغربی یورپ سے بحر ہند کے ذریعے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور اس سے آگے تک ایک مؤثر تجارتی راستہ فراہم کرتی تھی۔

لیکن اب اس پر برطانیہ اور فرانس کا کنٹرول نہیں رہا تھا کہ کون یا کیسے اسے استعمال کیا جائے۔ ناصر نے آخری برطانوی دستے کے انخلا کے لیے مذاکرات کیے۔

کبھی برطانیہ کی زیر نگرانی رہنے والا مصر اچانک اب لندن کا اثر و رسوخ قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ فرانسیسیوں نے پہلے ہی ناصر کے ساتھ سینگ اڑا رکھے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا فرانسیسی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف الجزائر کے باغیوں کو ناصر کا تعاون حاصل ہے۔ 

ماضی میں ونسٹن چرچل کے سیکریٹری خارجہ انتھونی ایڈن اس وقت برطانیہ کے وزیر اعظم  تھے۔

اشرافیائی پس منظر اور برطانیہ کی برتری پر یقین رکھنے والے، وہ آخری وزیر اعظم ثابت ہوئے جن کا خیال تھا بدنام زمانہ سامراج کا سورج ابھی نہیں ڈوبا۔

ایسا لگتا ہے وہ اس بات سے بالکل ہی بے خبر تھے کہ ان کے آس پاس دنیا کتنی بدل چکی ہے۔ 

جب برطانیہ کے آخری فوجی دستے کی واپسی کے بعد ناصر نے نہر قومیا لی تو ان کا ردعمل ایسا تھا جیسے وہ براہ راست کسی نوآبادیات سے مخاطب ہوں۔

ناصر کے لیے ان کی بے قابو نفرت جنونیت کی حدوں کو چھو رہی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ناصر کو ’ہمارے حلق پر پاؤں رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔‘

جب دفتر خارجہ نے ناصر کے قتل پر غور کرنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے فوج اتار دی۔ 

ایڈن کا رویہ منافقت سے بھی خالی نہیں تھا۔ برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی جس کا مصر کے ساتھ اس وقت سے تنازع چل رہا تھا جب 1948 میں یہودی ریاست کے قیام کے بعد اس نے اسرائیلی جہازوں کو نہر سے گزرنے سے روک دیا تھا۔

29 اکتوبر کو اسرائیل نے مصر پر اس دعوے کے ساتھ حملہ کر دیا کہ وہ نہر کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ بہت جلد انہوں نے جزیرہ نما سینا پر قبضہ کرتے ہوئے آبی گزرگاہ کا کنٹرول سنبھال لیا۔

مبینہ طور پر متحارب اسرائیلی اور مصری افواج کے درمیان جنگ بندی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے نہر کو محفوظ بنانے کی غرض سے برطانیہ اور فرانس نے مداخلت کی پیشکش کی۔

اصل ارادے اور تھے، یہ ظاہری چہرہ تھا۔ اگرچہ سہ فریقی جارحیت پسند اتحاد اس سے انکار کرتا رہا لیکن باقی دنیا نے عملی طور پر ایسا ہوتے دیکھ لیا۔

یقیناً سرد جنگ کے زمانے میں سوئز کو خوب نچوڑا گیا تھا۔ مغربی سامراجیت کو ٹھوکر مارتے ہوئے افریقی اقوام سرمایہ دار مغرب اور سوویت یونین کی گرفت سے نکل کر آزاد ہونے لگیں۔

1956 میں مصر نے نیل پر اسوان ہائی ڈیم بنانے کے لیے مؤخر الذکر سے مالی امداد لی تھی اور وہ سوویت یونین کے وارسا معاہدے کے اتحادی چیکوسلواکیہ سے اسلحہ خرید رہا تھا جس پر اسرائیلی حکومت کو شدید تحفظات تھے۔

دریں اثنا عرب اسرائیل تنازع بھی چل رہا تھا جو اسرائیلی ریاست کے اس جگہ پر قیام سے شروع ہوا جس پر فلسطینی عرب مصر کی پشت پناہی سے اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے تھے اور یہ تنازع آج بھی جاری ہے۔

جب ناصر نے برطانوی اور فرانسیسی ’تعاون‘ کی پیشکش مسترد کر دی تو انہوں نے پھر بھی اپنی فوجیں اتار کر کے نہر پر قبضہ کر لیا۔

ستم ظریفی یہ کہ حملے کے بعد 47 بحری جہاز ناکارہ ہو کر کھڑے ہو گئے یا ڈوب گئے جس سے آبی گزرگاہ موثر طریقے سے بند ہو کر نا قابل استعمال ہو گئی۔

1956 میں ہنگری کی بغاوت میں پھنسے ہوئے سوویت یونین نے اپنے نئے اتحادی مصر کے دفاع کی دھمکی دے دی۔ حتی کہ وزیر اعظم نکیتا خروشیف نے ’مغربی سامراج سے آزاد قوموں‘ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے لندن اور پیرس پر میزائل حملے داغنے تک کی بات کہہ ڈالی۔ 

بیوقوفی اور منافقانہ رویے سے کام لیتے ہوئے ایڈن امریکی صدر ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور کو حملے کی اپنی منصوبہ بندی سے آگاہ کرنے میں ناکام رہے۔

امریکی مشتعل ہوئے اور فوری طور پر برطانوی اور فرانسیسی حملے کے اثرات پر غور کرنے لگے۔ دنیا کے غیر مستحکم امن کو برقرار رکھنے والے آئرن کرٹن کی دھجیاں بکھرنے اور سوویت یونین کے خطے پر قبضے سے خوف زدہ امریکی جبلی طور پر سمجھ گئے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع ان کے مفادات کے برعکس ہے۔

آئزن ہاور نے برطانوی اور فرانسیسی حکومتوں پر مالی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے لندن اور پیرس سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کر دیا۔

اس کا نتیجہ حسب منشا برآمد ہوا۔ پاؤنڈ کی قدر تیزی سے گرنے لگی، تیل کی سپلائی کم ہونے پر پٹرول راشننگ (حکومت کی طرف سے پابندی کہ ایک فرد اتنی رقم سے زیادہ کا پٹرول نہیں خرید سکتا) دوبارہ متعارف کروائی گئی، جو لوگ گذشتہ ماہ پیٹرول پمپوں پر قطار میں کھڑے تھے شاید یہ ستم ظریفانہ اتفاق ان کی وہم و گمان میں بھی نہ ہو کہ اُس برس کی سالگرہ پر ایسا ہو رہا ہے، اور دائیں بازو کے اخبارات کی حملے کی حمایت کے باوجود برطانیہ اور فرانس عوامی تائید سے محروم ہو گیا۔

سڑکوں پر شور مچا تھا کہ ’جنگ نہیں، قانون۔‘ لیبر پارٹی کے رہنما ہیو گیٹسکل نے حملے کے خلاف آواز بلند کی اور اہم بات یہ کہ کنزرویٹو اراکین پارلیمان کی صفوں میں بھی اختلاف پایا جاتا تھا۔

عارضی طور پر جنگ روک دی گئی۔ آٹھ نومبر کو جنگ ختم کر دی گئی اور دسمبر تک فوجی دستے واپس چلے گئے، ایڈن نے بھی یہی کیا۔ 

صدمے اور اسی سال کے اوائل میں ہونے والی ایک سرجری کے اثرات سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ 19 نومبر کو لندن سے جیمز بانڈ کے مصنف ایان فلیمنگ کے گھر جمیکا کے لیے روانہ ہوئے۔

بعد میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور ان کی جگہ جنوری 1957 میں ہیرالڈ میک ملن نے سنبھال لی۔ 16برطانوی، 10 فرانسیسی فوجی جبکہ 172 اسرائیلی ہلاک ہوئے اور زندگی سے محروم ہونے والے مصریوں کی ممکنہ تعداد چار ہزار تھی۔

لیکن اس کے باوجود برطانوی اور فرانسیسی قوموں کی نفسیات پر اس کا شدید گہرا اثر ہوا۔ جہاں تک خارجہ پالیسی کی بات ہے تو برطانیہ مسلسل امریکہ پر انحصار کرنے لگا جبکہ فرانس نے نیٹو کو چھوڑ دیا اور جرمنی اور دیگر کانٹینینٹل یورپی ممالک سے اتحاد گانٹھنے لگا جس سے بالآخر یورپی یونین کے وجود کا راستہ ہموار ہوا۔ 

اپنے والد کی سوئز مسئلے سے متعلق ریکارڈنگز سنتے ہوئے واضح طور پر ان کی باتیں عمومی تسلیم شدہ ورژن سے مختلف لگتی ہیں۔

اگرچہ ان کا کردار بہت واجبی اور ان کے سیاسی خیالات سے اٹا ہوا تھا لیکن انہیں دانش ورانہ اور پرجوش انداز میں بات کرتے ہوئے سننا شاید اس واقعے کے اتنے سالوں بعد ان کے خاندان کے قریبی افراد سے زیادہ سامعین کا حق ہے۔ 

میرے والد کے بقول ’ایڈن جلد باز،  صورت حال کو سنبھالنے کی صلاحیتوں سے عاری اور اپنے دور کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ جبکہ آئزن ہاور خوف زدہ تھے۔

’ایٹمی جنگ سے خوف زدہ، جس سے خوف زدہ ہونا دانش مندی کی بات ہے۔ وہ جانتے تھے کہ جیسے کیسے بہرحال ایک پرامن دنیا زیادہ خوشحال ہوتی ہے۔ عملی سیاسی سوجھ بوجھ ماضی کی سیاست پر غالب آئی۔‘ 

سگنل مین کیتھ اوہار کا سیاست سے تعلق پیچیدہ تھا۔ بطور انسان وہ مزاحیہ اور فقرہ باز نہیں بلکہ افسردہ اور بیزار پسند طبیعت کے مالک تھے۔

اس بات کا کھوج لگانا مشکل ہوتا تھا کہ کس وجہ سے ہے لیکن اہل خانہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کس چیز کے خلاف ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیاست دانوں اور سیاست کی مضحکہ خیز باتیں ان کے شدید غصے سے بچ نہیں پاتی تھیں۔ 

انہیں یقین تھا کہ جن لوگوں کے ہاتھ یہ کاروبار لگا ان کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے جسے وہ ’نام نہاد جمہوریت‘ کہتے تھے۔

وہ الیکشن کے دوران گھر سے جاتے تھے حالانکہ ہمیں اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ انہوں نے کسے ووٹ ڈالا۔

وہ ہر طرح کے سیاست دانوں کو یکساں طور پر ناپسند کرتے تھے۔ ممکن ہے وہ اپنا ووٹ ضائع کر کے آجاتے ہوں۔ 

وہ خیرات سے نفرت کرتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا یہ حکومت کو مسائل حل کرنے کے لیے ٹیکس کا پیسہ استعمال کرنے سے روکتی ہے اور یہ مخیر حضرات کے راہ فرار کا دریچہ ہے جسے خرچ کرنے کے بعد وہ کم ٹیکس ادا کرتے ہیں جو بصورت دیگر انہیں معاشرے کے فائدے کے لیے زیادہ ادا کرنا چاہیے تھا۔

وہ بعض اوقات آزاد خیال لگتے تھے، دائیں یا بائیں کس بازو کے حمایتی ہیں ہم نہیں بتا سکتے تھے لیکن وہ ایک طرف قومی خدمت کو بے روح، پاگل پن اور بے رس کہہ کر اسے ناپسند کرتے تھے اور دوسری طرف وہ جنگ سے نفرت کرتے تھے اور خیرات سے زیادہ خون بہانا ناپسند کرتے تھے۔ 

خوش قسمتی سے انہوں نے برطانوی فوج کے یونٹ رائل سگنلز میں ملازمت حاصل کر لی جس سے انہیں الیکٹرانکس اور مواصلات میں اپنی دلچسپی پیدا کرنے کا موقع ملا۔

اگرچہ فوج میں اپنے گزارے دو برسوں سے انہیں شدید نفرت تھی لیکن انہی کی وجہ سے انہیں عسکری معاملات کی براہ راست بصیرت حاصل ہوئی۔

یہ اس بات کی ضمانت تھی کہ ہم برطانیہ کی سوئز تنازعے میں مداخلت سمیت بعد کے کئی تنازعات سے متعلق ان کے بارہا تبصرے سنیں یہاں تک کہ 1995 میں وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔

 (Crohn کی بیماری کی وجہ سے جو انہیں 59 سال کی عمر میں ہوئی۔ ستم ظریفی دیکھیے فوج نے بلآخر اعتراف کیا کہ پہلے ان کی تشخیص غلط کی گئی اور پھر فوج میں دوران ملازمت یہ بیماری مزید بگڑ گئی)۔ 

ان کے بقول ’کہا جاتا ہے کہ آئزن ہاور نے بعد میں ایڈن کی حمایت نہ کرنے پر اظہار افسوس کیا۔ لیکن دنیا کے متعلق آئزن ہاور کی یہ رائے اس واقعے کے گزرنے کے بعد قائم ہوئی۔

’ان کا خیال تھا کہ مشرقی وسطیٰ میں نہ ختم ہونے والا تنازع پیدا کرنے میں مغربی ممالک کا کردار زیادہ تھا اور اگر ناصر کو اقتدار سے محروم کر دیا جاتا تو اس سے بچا جا سکتا تھا۔

’یہ اتنا آسان نہ تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ناصر کو نہر پر دعویٰ کرنے کا پورا حق تھا۔ یہ ان کے ملک سے گزرتی تھی اور انہیں اس کے لوگوں نے بنایا تھا۔

’انہوں نے کبھی برطانوی جہازوں کو روکنے کی دھمکی بھی نہیں دی تھی۔ انصاف کے کسی بھی پیمانے کے مطابق ان کے پاس کچھ حصہ ہونا چاہیے تھا۔‘ 

میرے والد ’انصاف‘ سے جنون کی حد تک متاثر تھے۔ میرے بچپن کے دنوں میں انہوں نے مجھے ایک چھوٹی سی غلطی پر تنبیہ کی جس کے بارے میں انہیں بعد میں احساس ہوا کہ وہ غلط تھے سو مجھے نئی ٹینس گیندوں کا سیٹ خرید کر دیا۔

ہم کوئی امیر کبیر نہیں تھے اور میں پورے موسم گرما گھسے پٹے کپڑے استعمال کرتا رہا۔ میں نے ان کی اس لیے قدر کی کیوں کہ وہ بہت فراخ دل یا محبت کا کھل کر اظہار کرنے والے شخص نہیں تھے۔

 لیکن اس معاملے میں انہیں یقین تھا کہ ان سے ناانصافی سرزد ہوئی ہے۔ یہ ان کی خاص بات تھی۔ 

برطانوی فوج میں خدمات سر انجام دینے والے نیپالیوں کے پینشن حقوق کے معاصر سیاسی مسئلہ بننے سے بہت پہلے میرے والد نے کھٹمنڈو سے تعلق رکھنے والے رائل گورکھا رائفلز کے ایک سپاہی نیرو تھرو سے دوستی ہو جانے کے بعد ریٹائرمنٹ کے مساوی حقوق کے حق میں مہم چلائی تھی۔

حال ہی میں مجھے ایک انگلش/نیپالی لغت ملی جو نیرو نے میرے والد کو بطور تحفہ دی تھی اور ان کی ہتھیلی پر دوستی کا نشان ابھی تک ثبت تھا۔

اگرچہ یہ ایک فسانوی بات ہے، نیرو نے انہیں بتایا کہ جب کوئی گورکھا اپنی چھری یا kukri نکال لیتا ہے تو روایت کے مطابق وہ اس وقت تک نیام میں واپس نہیں ڈالتا جب تک خون نہ بہہ نکلے۔

ان کا تعلق 1970 میں نیرو کے ڈوبنے تک برقرار رہا۔ میرے باپ کے بقول ’میں نے دیکھا کہ برطانیہ سے وفاداری کے باوجود نیرو سے سفید فام افسران نے کیا سلوک کیا۔

’سوئز کے معاملے میں بھی برطانوی رویے سے نسل پرستی صاف چھلکتی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کو اس بات سے نفرت تھی کہ جن لوگوں کو وہ کمتر سمجھتے اور جنہیں اپنی مٹھی میں قید رکھتے تھے آج وہ اپنے معاملات خود سنبھال رہے ہیں۔‘

ایک سگنل مین کی حیثیت سے میرے والد نے روزانہ کی گونجنے والی گرما گرم بحثوں کو یاد کیا جو انہوں نے سیاست دانوں اور عسکری رہنماؤں سے ’بدبخت کالے‘ لوگوں کے بارے میں سنی۔

میرے والد کہتے تھے کہ ’وہ (اعلیٰ افسران) بنیادی طور پر نسل پرست تھے۔ کوئی بھی شخص جو سفید فام اور متوسط یا اشرافیائی طبقے سے تعلق نہ رکھتا ہو اس کے لیے ان کے پاس جارحانہ اصطلاح ہوتی تھی اور بلکہ وہ یقین رکھتے تھے کہ غیر چوکنے ذہنوں اور ’کمتر‘ نسلوں کو کیمونزم کے خطرات اور ان کے اپنی اخلاقی اور سیاسی بے سمتی سے بچانے کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر تھی۔

’وہ آج بھی سمجھتے ہیں کہ وہ ان سے برتر تھے اور ان کی بات سنی جانی چاہیے تھی۔‘  

شاید میرے والد کا آئرش/ یارک شائر نسب ویسٹ منسٹر سیاست پر ان کے عدم اعتماد کا فطری سبب تھا۔ یقینی طور پر ان کا ہاؤس آف کامنز تشکیل دینے والے منتخب سیاست دانوں اور جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

پارلیمان میں جو دائیں اور بائیں کی تقسیم تھی وہ یکساں طور پر دونوں کو گھٹیا سمجھتے تھے، ان کے خیال کے مطابق تھیچر ظالم، مائیکل فٹ بیکار، جیرمی تھورپ غیر موثر، پیڈی ایش ڈاؤن بہت زیادہ سنجیدہ، ہیرالڈ میک ملن بے حس اور بے وقوف، ہیرالڈ ولسن مزدور طبقے کا غدار اور ایڈورڈ ہیتھ اسٹیبلشمنٹ کا چمچہ تھا۔

کسی بھی قسم کے قوم پرست دراڑیں ڈالنے والے متعصب لوگ تھے۔ طنزیہ فہرست کافی لمبی تھی اگرچہ انہوں نے دلچسپ طریقے سے ان سیاست دانوں کے لیے احترام کے الفاظ بھی محفوظ کر رکھے تھے جو ان کے خیال میں ’جھوٹ نہیں بولتے۔‘

اسی طرح دیگر کئیوں کے علاوہ تھیچر اور ان کے پرانے سوشلسٹ حریف ٹونی بین بھی شامل تھے جنہیں بتدریج تھوڑا بہت تسلیم کر لیا گیا۔

بورس جانسن کے ’قابل تصدیق جھوٹ‘ اور ان کی جھوٹ پر مبنی مہم جس کی وجہ سے برطانیہ یورپی یونین سے باہر ہوا اور اس میں پوشیدہ سامراجی بنیاد پر جو وہ تبصرے کرتے ان کا محض تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔

ان کے نزدیک جھوٹ کمینگی کی علامت تھا اور انہوں نے ایڈن پر بار بار یہ الزام لگایا۔

وہ پروقار، قدیم طرز کے شریف انگریز، اعلیٰ نسب شخص جو جانتے تھے کہ معمولی انسانوں کے لیے کیا بہترین ہے۔ یہ کہ ’وہ جو کہتے ہیں پھر وہی کرتے ہیں۔‘

میرے والد کہتے تھے کہ ’کچھ لوگوں کے بقول ایڈن کی قوت فیصلہ ان کی بیماری سے متاثر ہوئی تھی (ان کی سرجری کا مطلب تھا کہ وہ سوئز کے وقتوں سے ہی ادویات اور متحرک کرنے والی منشیات stimulantsدونوں لے رہے تھے) لیکن اگر واقعی ایسا ہے تو انہیں قیادت نہیں کرنی چاہیے تھی۔

مصر میں فوجی دستے بھیجنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے اپنی قوم اور دنیا سے جھوٹ بولا۔

حتی کہ انہوں نے بی بی سی سے درخواست کی کہ وہ قوم کو ان کا جھوٹ بیچے، ایک من گھڑت بات جو ان کی قوم کے لیے زہر قاتل ثابت ہوئی۔ جس کے نتیجے میں بہت سارے لوگ مر گئے۔ میں بھی مر سکتا تھا۔‘ 

وہ مزید گویا ہوئے ’یہ مضحکہ خیز حد تک شدید ردعمل تھا۔ جس کی عمارت جھوٹ پر استوار کی گئی تھی۔‘

وہ انیسویں صدی کے وسط سے تعلق رکھنے والے غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ سیکریٹری خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں ’کم از کم پالمرسٹون میں یہ تسلیم کرنے کی ہمت تو تھی کہ برطانیہ کا کوئی اتحادی نہیں کوئی دشمن نہیں بس مفادات ہیں۔‘

ایڈن کو ذاتی طور پر ان کی ناکام مکارانہ کوششوں پر شاید بہت ذلیل کیا گیا ہو اور میرا خیال ہے ایسا کیا گیا تھا لیکن برطانیہ میں قائم نظام کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ وہ ابھی تک سمجھتا تھا دنیا ان کی بات سنے گی جب وہ سننا نہیں چاہتی تھی اور اسے ضرورت تھی بھی نہیں۔‘  

سو سلطنت کا خاتمہ؟ یہ 65 برسوں سے تاریخ کی کتابوں کا روایتی فیصلہ رہا ہے اور 1956 کے موسم خزاں کے واقعات اور ان کے نتائج کی تسلیم شدہ تفہیم بن چکی ہے۔

ایڈن کی موت پر دی ٹائمز نے اس کے بارے میں لکھا ’وہ اس بات پر یقین رکھنے والے آخری وزیر اعظم تھے کہ برطانیہ عظیم طاقت ہے اور اُس بحران کا سامنے کرنے والے پہلے شخص تھے جس نے ثابت کیا کہ وہ نہیں تھی۔‘ 

اگرچہ تاریخ کی کتابیں مختلف روپ پیش کرتی ہیں لیکن سگنل مین کیتھ اوہار کا تجزیہ بالکل مختلف تھا۔

ان کے بقول ’یہ سلطنت کا اس طرح سے خاتمہ نہیں تھا کیونکہ اس کا احساس انگریزوں کو یقیناً 1947 میں بھارت کی آزادی سے ہی یہ ہو چکا ہو گا۔

اس سے نہ صرف سلطنت کا جغرافیائی طور پر اتنا بڑا حصہ چلا گیا بلکہ برطانیہ ان لاکھوں ہندوستانی فوجیوں کی خدمات سے بھی محروم ہو گیا جنہوں نے اس کا راج قائم رکھنے میں مدد کی تھی۔

یہ سلطنت کا خاتمہ نہیں بلکہ آپ اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کے عزم کا نقطہ آغاز تھا۔ برطانیہ (اور فرانس) ہکا بکا رہ گئے کہ باقی دنیا ان کی ہاں میں ہاں ملانے کو تیار نہیں۔ 

اس سے برطانیہ کے عالمی اثر و رسوخ کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ لیکن ایسا نہیں تھا، یہ بیداری کا وقت تھا، ایک احساس کہ سٹیٹس کو سے ہٹ کر بھی متبادل راستے موجود ہیں۔

ناصر نے کہا یہ مصر کی نہر ہے، یہ عین ہمارے ملک کے درمیان سے گزرتی ہے۔ حیرت اور صدمے سے منہ لندن اور پیرس میں کھلے کے کھلے رہ گئے۔‘ 

میں نے اپنے والد سے بے انتہا محبت کی، حالانکہ ہمارے درمیان طویل، گہری اور سخت بحثیں ہوتی تھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ماضی سے متعلق ان کا ایک خاص نقطہ نظر تھا۔

برطانیہ کی سلطنت کا پہلے ہی شیرازہ بکھر چکا تھا، دوسری عالمی جنگ میں یہ مر چکی تھی۔ اسے بس سوئز جیسے کسی واقعے کی ضرورت تھی جو اس اشرافیائی حکومت کو احساس دلا سکے۔

میرے والد کے الفاظ ایسے شخص کے الفاظ تھے جو کم و بیش موقع پر موجود تھا۔ یقیناً ان کی ایک ایسی رائے تھی جو اس وقت فوج میں شامل افراد سے نہیں سنی جاتی۔ قطع نظر وہ درست تھے یا غلط، ان کی ایک رائے تھی جس کی بنیاد تجربہ اور عقل تھی۔ 

افغانستان میں برطانیہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے بیان کرنے کے لیے ذلت آمیز درست لفظ ہے لیکن سوئز کی صورت حال کے لیے ہرگز نہیں۔ یا کم از کم صرف یہی ایک لفظ نہیں۔

بلکہ میرے والد نے حیرت، صدمہ، انکشاف اور عدم یقین جیسے الفاظ اس کے لیے منتخب کیے ہوئے ہیں۔ شاید یہ تاریخ کی دو متضاد صورتوں کے درمیان مماثلت تلاش کرنے کی کوششیں ہیں۔   

 

نوٹ: مصنف مائیک اوہار کے والد نے سوئز بحران میں خدمت سرانجام دی، یہ تحریر ان کے تجربات پر مبنی ہے

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا