جوان مردی بذریعہ کشکول گردی

قرض کی بوسکیوں اور مانگے تانگے کی پگڑیوں کو زوال نہیں اور کشکول گردی اور جوان مردی جیسے اثاثے ہم سے چھین کوئی نہیں سکتا۔ اللہ اللہ، خیر سلا۔

ہم خسارے کے بجٹ بنا کر قرض کی مے پیتے ہیں اور پھر ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کے خواب دیکھتے ہیں (اے ایف پی)

جناب بازخان کب کے دنیا سے رخصت ہو چکے مگر ہماری قومی زندگی آج بھی ان کے افکار و نظریات کے گرد گھومتی ہے۔

ان کے وضع کردہ ضابطہ حیات پر ہم نے کبھی روشنی ڈالی تھی۔ آج ان کی حیات وخدمات کے ایک اجمالی سے جائزے کی روشنی میں کام کی بات کرتے ہیں۔

ہمارے بچپن میں جناب بازخان نے سال ہاسال تک گاؤں کے ہمارے ڈیرے پر ملازم کی حیثیت سے اپنی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔

مویشیوں کی دیکھ بھال اور زمینداری کے چند امورآپ کے فرائض منصبی میں شامل تھے۔ بدقسمتی سے مرحوم کی طبیعت میں دیانت داری کا خاصا فقدان تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ان فرائض سے مکمل عہدہ برا ہونے سے قاصر رہے اور اسی بنا پر تاحیات عزت سے کوسوں دور۔

جناب جہاں بلا کے زندہ دل اور شوقین مزاج واقع ہوئے تھے، وہیں معاشرتی ناہمواریوں کے سبب بڑی حد تک شخصی آزادیوں سے محروم بھی تھے۔

غریب کی شخصیت میں ایک بڑا سقم یہ تھا کہ ان کے دل میں چوہدری بننے کی بڑی تڑپ تھی۔ اپنے اس شوق کی تسکین کے لیے وہ سرعتِ اظہار کی بیماری میں مبتلا تھے اور اسی عارضے کے طفیل بلاناغہ دن میں کم از کم دو مرتبہ ہمارے دادا جان مرحوم سے ضرور بےعزت ہوتے۔

بےعزتی مذکور کی ایک بڑی وجہ مابین فریقین ملکہ ترنم نور جہاں کی شخصیت سے متعلق ’نظریاتی اختلاف‘ بھی تھی۔ عصر کے وقت بازخان کام کاج سے فارغ ہوتے ہی اپنا دل پشوری کرنے کا اہتمام شروع کر دیتے۔

وہ لوہے کے صندوق سے اپنے ذوق و شوق کا سامان برآمد کرتے، جو انہوں نے ادھار شدھار اور اپنی مانگے تانگے کی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر جمع کر رکھا تھا۔

اس نازک موقعے پر باز خان نہا دھو کر اپنا بوسکی کا اکلوتا کُرتا زیب تن کرتے اور بائیں ہاتھ میں بھاری بھرکم سنہری گھڑی باندھ کر آستین چڑھا لیتے۔ وہ سفید رنگ کی بڑی سی پگڑی اپنے سر کی زینت بنا کر اور پاؤں میں زری کھسہ پہنے بیٹھک کے صحن میں داداجان کے پلنگ سے حتی المقدور فاصلے پر کسی چارپائی کو اپنا مسکن بنا لیتے۔

جناب بی کے، تکیے میں کہنی دیے چارپائی پر نیم دراز ہو جاتے اور سرخ ریشمی کپڑے کے غلاف میں ملبوس اپنا ریڈیو آن کر کے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیتے۔ وہ اپنا ریڈیو اور گھڑی والا ہاتھ باضابطہ طور پر قدرے بلند رکھتے تاکہ اس پر آنے جانے والوں کی نظر پڑتی رہے۔

یہی چند چیزیں آپ کی کل کائنات بھی تھیں اور ان کا تصورِ چوہدراہٹ بھی انہی میں پنہاں تھا۔ ایسے میں جب آپ کی سوچ کا اڑن کھٹولا انہیں چوہدری کے درجے پر فائز کر چکا ہوتا، وہ ریڈیو پر بجنے والے نغموں پر وجدانی کیفیت میں سر دھنتے، راہ گیروں کو جبراً جان کاری دیتے ’نور جہاں پئی گاؤندی اے‘ (نور جہاں گا رہی ہے) ساتھ ہی اپنا تکیہ کلام بھی ضرور دہراتے ’نور جہاں ساڈی ہانڑیں اے‘ (نور جہاں میری ہم عمر ہے)۔

دادا جان جو تکیے سے ٹیک لگائے کنکھیوں سے بازخان کی حرکات و سکنات کا تنقیدی جائزہ لے رہے ہوتے، اس فقرے سے ان کے دل پر چوٹ سی لگتی اور وہ تڑپ کر فرماتے ’اوئے بے وقوفا! نور جہاں تمہاری نہیں، میری ہم عمر ہے۔‘

چونکہ جناب باز خان کو اپنی عزت قطعی عزیز نہیں تھی، لہٰذا وہ موقعے کی نزاکت کا احساس کیے بغیر ان کی بات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ’چوہدری صاحب، آپ بزرگ ہیں اور نور جہاں جوان بندہ ہے، وہ آپ کی نہیں، میری ہم عمر ہے۔‘

عموماً یہ بحث طول نہ پکڑتی اور یہی جملہ ان کی چوہدراہٹ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا۔ دادا حضور انہیں چند گالیوں سے نوازنے کے بعد دھاڑتے ’اوئے بازا، دفع ہو جا یہاں سے!‘

دادا کے تلاطم خیز غصے کے آگے ٹھہرنا محال تھا، سو بی کے نیویں نیویں ہو کر حویلی مویشیاں کی طرف نکل جاتے مگر اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے جانوروں کے آگے بھی اپنا دعویٰ داغ دیتے کہ ’نور جہاں ساڈی ہانڑیں اے۔‘

البتہ کسی جانور کی جانب سے آپ کے دعوے کی تردید کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں، کیونکہ حیوان کبھی کوئی احمقانہ بیان مسترد نہیں کرتے۔

بیساکھ میں کہیں کہیں ڈھول کی تھاپ پر گندم کاٹنے کا رواج تھا۔ ایسے میں کھیتوں میں کام کے دوران جب دور کہیں ڈھول پر چوب پڑتی تو باز خان کے ہاتھ سے درانتی گر جاتی اور بے اختیار ’ہائے‘ کہہ کران کے پاؤں رقص کے لیے اٹھ جاتے۔ ایسے مواقع پر بھی آپ کی درگت بننا معمول کا حصہ تھی۔

بازخانی ضابطہ حیات کے اس خاکے میں ہمیں اپنی تمام حکومتوں کاعکس نظر آتا ہے۔ وزرا کی فوجیں بیرونی قرضوں سے ’بوسکیاں‘ پہن کر ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں بناتی ہیں اور کل کی فکر سے آزاد مانگے تانگے کی پگڑیاں باندھے اپنی چوہدراہٹ برقراررکھنے کی تگ و تاز میں مصروف رہتی ہیں۔

ڈیم نہ بننے سے لاکھوں کیوبک فٹ پانی سمندر میں گر کر ضائع ہوتا رہا مگر ہمارے منصوبہ ساز ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مدد سے بجلی پوری کرنے کی سعی کرتے رہے۔

ہم جدید سائنس وٹیکنالوجی کی بدولت قائم گلوبل ویلج سے حتی المقدور فاصلے پر اپنی ’ڈھوک‘ میں بیٹھے اسے اپنی جہالت کے زور پر فتح کرنے کی بڑھکیں مارتے رہے ہیں مگر روٹی بھی انہی سے مانگ کر کھاتے ہیں۔ ہم خسارے کے بجٹ بنا کر قرض کی مے پیتے ہیں اور پھر ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کے خواب دیکھتے ہیں۔

بازخان مانگے تانگے کی بوسکی اور کھسہ پہن کر دل ہی دل میں چوہدری بنتا تھا اور ہم دنیا کے در در پر کاسۂ گدائی گھما کر اپنے تئیں خود کو اس دنیا کا امام سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں بحیثیت ایک بد دیانت اور بھکاری قوم دنیا کی نظروں میں ہمیشہ عزت سے کوسوں دور رہے ہیں۔

سالہا سال معیشت کی استواری کا ٹھیکہ آئی ایم ایف کو دے کر ہم پرائے ڈھولوں کی تھاپ پر رقص کی فصلیں کاٹتے رہے ہیں۔

ہمارے حکمران خود کو ایٹمی طاقتوں کے ’ہم عمر‘ قرار دیتے ہیں مگران چوہدریوں کی طرف سے آنکھیں دکھانے پر باز خان کی طرح نیویں ہو جاتے ہیں اوراہل وطن کے درمیان آ کر یہی دعویٰ داغ دیتے ہیں۔

عمران خان اپوزیشن میں رہ کرہمیشہ کرپٹ اور نااہل حکمرانوں کو بازخانی ضابطہ حیات ترک کر کے خاندانی طرزحیات اپنانے کی تلقین کرتے رہے۔ تاہم اقتدار میں آ کر انہیں پتہ چلا کہ بازخانی ضابطہ حیات اپنانے ہی میں بھلائی ہے۔

سٹیٹ بینک نے20 مئی کو اپنی نئی مانیٹری پالیسی میں کہا کہ مہنگائی کی اوسط شرح 3.8 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد ہو گئی ہے، جو مزید بڑھے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شرحِ سود 10.75 فیصد سے بڑھ کر 12.25 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور روپیہ 5.93 فیصد سستا ہوا ہے۔ مانیٹری پالیسی میں بتایا گیا کہ حکومت نے سٹیٹ بینک سے 4.8 ٹریلین قرضہ لیا۔

شاید غیرمعمولی معاشی بحران میں ڈالرکے ارفع مقام تک پہنچنے، مہنگائی میں ہوشربا اضافے اور قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات پر حکومت نے سمجھ لیا ہے کہ اس زہرکا تریاق یہی زہرہے۔ البتہ وزرائے کرام کے اللے تللے اورسرکاری خزانے سے بے جا مراعات کا سلسلہ حسب سابق جاری ہے۔

ان مشکل حالات میں موجودہ حکومت نے بھی ڈوبتی معیشت کوسہارا دینے کی خاطر کامیاب بازخانی ضابطہ حیات سے استفادہ کرنے کی مخلصانہ کوشش کی۔

برادر اسلامی ممالک اور چین کی امداد کے بعد آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالرز کا حالیہ متنازع معاہدہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ برادراسلامی ملک سعودی عرب کی طرف سے یکم جولائی سے ادھار تیل کا اعلان بھی خوش آئند ہے۔

جناب وزیراعظم نے 24 مئی کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قوم کو خوش خبری سنائی کہ مزید دو ماہ مشکل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دورنہیں جب لوگ ملازمتوں کے لیے پاکستان آئیں گے اور دنیا ہماری مثالیں دے گی۔  

ہماراخیال ہے اگر ایسا ممکن ہو سکا توبہت خوب، ورنہ نئے قرضوں سے چار دن اور ہماری چوہدراہٹ تو برقرار رہ ہی سکے گی۔ بدنام زمانہ لوٹی گئی قومی دولت واپس آ گئی اور ٹیکس کا موثرنظام نافذ ہو گیا تو اچھی بات ہے، ورنہ دنیا کی امامت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جناب باز خان کی حیات و خدمات اور افکار و نظریات تو ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں ہی۔

قرض کی بوسکیوں اور مانگے تانگے کی پگڑیوں کو زوال نہیں اور کشکول گردی اور جوان مردی جیسے اثاثے ہم سے چھین کوئی نہیں سکتا۔ اللہ اللہ، خیر سلا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین