جب پردے پر دو رقاصاؤں کے لیے گلوکاری بھی دو سگی بہنوں نے کی

لتا منگیشکر عموماً کہتی ہیں کہ وہ جب بھی ’اپلم چپلم‘ کو گنگناتی ہیں تو ان کے ذہن میں خود بخود سائی اور سبھو لکشمی کا رقص روشن ہو جاتا ہے، جنہوں نے اس گیت پر یوں رقص کیا جیسے کوئی لچکدار گڑیائیں ہوں۔

سائی اور سبھو لکشمی 50 کی دہائی میں رقص کرنے میں اپنی مثال آپ تصور کی جاتی تھیں (پاکشی راجہ سٹوڈیوز)

عام طور پر فلموں میں جب گانا کسی دو اداکاراؤں پر فلمانا ہو تو پروڈیوسر سرمایہ بچانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ اسی لیے ہوشیاری دکھاتے ہوئے کسی ایک ہی گلوکارہ کے کندھوں پر یہ ذمے داری ڈال دیتے ہیں کہ وہ سکرین پر دکھائی جانے والی دونوں اداکاراؤں کے لیے آواز کا استعمال کریں۔ بہرحال جو پروڈیوسر یا ہدایت کار تخلیقی صلاحیتوں اور غیر معمولی کام پر یقین رکھتے ہیں، وہ اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے گیت کو زیادہ پراثر اور مقبول بنانے کی غرض سے پس پردہ آوازوں کے لیے بھی دو مختلف گلوکاراؤں کا انتخاب کرتے ہیں۔

جنوبی بھارت کے ہدایت کار اور پروڈیوسر ایس ایم سریر مالونائیڈو نے 1955 میں جب مینا کماری اور دلیپ کمار کے ساتھ فلم ’آزاد‘ بنائی تو انہوں نے جنوبی بھارت کی ہی دو شہرت یافتہ رقاصہ بہنوں سائی اور سبھو لکشمی کو بطور خاص کاسٹ کیا۔ دونوں بہنیں فلم میں تو کوئی مرکزی کردار ادا نہیں کررہی تھیں بلکہ نائیڈو نے انہیں ’آزاد‘ کا حصہ یوں بھی بنایا کیونکہ یہ بہنیں رقص کرنے میں اپنی مثال آپ تصور کی جاتی تھیں۔

بھرت ناٹیم میں تو جیسے ان دونوں بہنوں کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ یہی نہیں بھارت کے مشہور رقص بھی کچھ اس انداز سے پیش کرتیں کہ نگاہیں بس جیسے ان دونوں پر ٹھہر کر ہی رہ جاتیں۔ اس بات کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ ان کے مقابل کوئی اور رقاصہ تو کیا اداکارہ بھی ٹھہر نہیں سکتی تھی۔

دونوں بہنوں پر ’آزاد‘ میں دو گیت عکس بند کیے گئے۔ راجندر کرشن کے لکھے ہوئے بولوں کو دھنوں میں ڈھالا موسیقار سی رام چندر نے جبکہ  کوریو گرافر کے لیے ہیرا لال کو چنا گیا۔ فلم جب پردہ سیمیں کی زینت بنی تو اس تخلیق کا ایک گیت ’اپلم چپلم چپل رائی رے‘ نے تو تہلکہ مچا دیا۔ چلبلا سا نٹ کھٹ گانا سائی اور سبھولکشمی پر عکس بند کیا گیا۔

اس گانے کے علاوہ ’آزاد‘ کا ایک اور دوسرا گیت ’بالیاں او بالیاں چل چھلیاں‘ بھی ان دونوں بہنوں پر عکس بند کیا گیا۔ خیر ’اپلم چپلم‘ تو ہر ایک کی زبان پر تھا اور یہ جان کر سب کو خوشگوار حیرت ہوئی کہ جہاں سکرین پر دو بہنیں اپنے انگ انگ سے بھارت کے علاقائی رقص پر ادائیں دکھا رہی تھیں، وہیں پردے کے پیچھے بھی اسے حقیقی دو بہنوں لتا اور اوشا منگیشکر کی آواز میں ریکارڈ ہوا۔ یہی نہیں دوسرے گیت پر بھی انہی دونوں بہنوں نے نغمہ سرائی کی۔

لتا منگیشکر جب کسی لائیو شو میں پرفارمنس دیتیں تو ’اپلم چپلم‘ کے لیے خصوصی طور پر بہن اوشا منگیشکر کو سٹیج پر مدعو کرتیں اورمہمانوں کو یہ جان کر خوشی ہوتی کہ جہاں اس گیت کو دو بہنوں نے سکرین پر ادا کیا، وہیں گانے والی بھی دو بہنیں ہی تھیں۔ یہ بات لتا منگیشکر فخریہ انداز میں بیان کرتیں تو ’اپلم چپلم‘ سننے کا مزا اور لطف آتا۔

صرف ’آزاد‘ ہی نہیں 1956میں نرگس اور راج کپور کی رومنٹک فلم ’چوری چوری‘ کے ایک گیت ’من بھاون کے گھر جائے، ہمیں نہ بلانا‘ کو ایک بار پھر رقاصائیں بہنیں سائی اور سبھو لکشمی پر فلمایا گیا۔ جس کی خاص بات یہ رہی کہ اس گیت کی پس پردہ گلوکاری لتا منگیشکر نے کی ہی تھی لیکن اس بار اوشا کی جگہ ان کی ایک اور بہن آشا بھونسلے کو آزمایا گیا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک اور فلم ’شردھا‘ میں ان بہنوں پر فلمائے گیت بہنوں نے نہیں گائے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گرو دت اور آشا پاریکھ کی 1963میں نمائش پذیر ہونے والی فلم ’بھروسہ‘ میں ایک مرتبہ پھر سائی اور سبھو لکشمی کو آزمایا گیا۔ گیت ’دھڑکا او دل دھڑکا‘ اور ایک بار پھر پردے کے عقب میں بھی دو حقیقی بہنیں آشا بھونسلے اور لتا منگیشکر تھیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ سائی اور سبھو لکشمی نے اس گیت میں ایسا ڈوب کر رقص پیش کیا کہ ہر کوئی ان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا لیکن پھر دونوں بہنوں نے ہندی فلموں کے بجائے دوبارہ تیلگو اور تامل فلموں پر توجہ مرکوز کر دی کیونکہ دونوں بہنوں کو اصل شہرت تو انہی زبانوں کی فلموں نے دی تھیں۔ ادھر بھارتی فلموں کے پروڈیوسروں اور ہدایت کاروں نے بھی انہیں دھیرے دھیرے بھلانا شروع کر دیا۔ سائی اور سبھو لکشمی میں سے سائی تو2010 میں اس جہاں سے کوچ کر گئیں البتہ سبھو لکشمی ڈھلتی ہوئی عمر کے باعث گوشہ نشینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں۔

گلوکارہ لتا منگیشکر عموماً کہتی ہیں کہ وہ جب بھی ’اپلم چپلم‘ کو گنگناتی ہیں تو ان کے ذہن میں خود بخود سائی اور سبھو لکشمی کا رقص روشن ہو جاتا ہے، جنہوں نے اس گیت کے ساتھ بھرپور انصاف کرتے ہوئے بھرت ناٹیم کے علاوہ علاقائی کلاسیکی رقص کے تمام اندازوں کو پیش کیا بلکہ یوں رقص کیا جیسے کوئی لچکدار گڑیائیں ہوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم