انگور: جب گلزار نے ایک فلاپ فلم کا ’ری میک‘ بنانے کی ٹھان لی

کیا کبھی تصور کیا جا سکتا ہے کہ کوئی ہدایت کار کسی فلاپ فلم کا ری میک بنائے؟ گلزار نے ایسا ہی کر کے سب کو دنگ کر دیا۔

’انگور‘ کو ایک لحاظ سے شوربے کے شوربے کا شوربہ کہا جا سکتا ہے (اے آر فلمز)

عموماً فلم ساز اور ہدایت کار انہی فلموں کے ری میک بنانے میں دلچسپی دکھاتے ہیں جو ماضی میں فلم بینوں کو بار بار سنیما گھروں میں لانے کا باعث بنیں۔ ایسی فلمیں دوبارہ سے بناتے وقت فلم بینوں کی نفسیات اور تجسس کو ذہن میں رکھا جاتا ہے جو صرف یہ دیکھنا چاہتے کہ آخر ری میک میں کیا کمال دکھایا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب تک بالی وڈ میں انہی فلموں کا ری میک بنا ہے جو یا تو ہندی زبان کی سپر ہٹ تھیں یا تیلگو یا ملیالم میں انہوں نے کھڑکی توڑ کمائی کی۔ لیکن کوئی ہدایت کار کسی ناکام فلم کو دوبارہ بنانے کا ارادہ کرے تو فلم نگری میں کئی افراد اسے خبط ہی کہیں گے، یا پھر یہ کہ ہدایت کار کو پیسے سے زیادہ فلم کے آرٹ میں زیادہ دلچسپی ہے۔

گلزار صاحب کا شمار دوسری قسم کے ہدایت کاروں میں ہوتا ہے، چنانچہ انہوں نے ٹھان لی کہ وہ 1968 میں اپنی لکھی ہوئی فلم ’دو دونی چار‘ کو پھر سے بنائیں گے۔ جس نے یہ سنا وہ دنگ رہ گیا کیوں کہ اس فلم نے تو بری طرح ناکامی کا منہ دیکھا تھا۔

ہدایت کار بمل رائے نے ’دو دونی چار‘ کی کہانی اور مکالمات گلزار صاحب سے اس وقت لکھوائے تھے جب گلزار صاحب  فلم نگری میں نام بنانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔

’دو دونی چار‘ 1963 میں بننے والی بنگالی فلم ’بھرنتی بیلاز‘ سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔ اب یہ بتانے کی ضرورت تو ہے کہ دراصل یہ بنگالی زبان کے ہی ناول پر بنائی گئی تھی، جسے ایشور چندر ودیا ساگر نے لکھا تھا اور موصوف نے دراصل شکسپیئر کے مشہورڈرامے ’دی کامیڈی آف ایررز‘ کا بنگالی زبان میں ترجمہ کر کے پیش کیا تھا۔

اب ذرا تصور کیجیے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے سے متاثر ہو کر ناول لکھا گیا، ناول پر بنگالی میں فلم بنی، بنگالی فلم سے متاثر ہو کر ہندی فلم بنی اور اب اس ہندی فلم کا بھی ری میک بنانے کا تہیہ کر لیا تھا گلزار صاحب نے۔ گویا شوربے کے شوربے کے شوربے کا شوربہ۔  

لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ کہانی بہت دلچسپ تھی۔ عام طور پر ہم شکل بہن بھائیوں پر فلمیں اور کہانیاں لکھی گئی ہیں لیکن ’کامیڈی آف ایرر‘ کی کہانی بڑی اچھوتی اور منفرد تھی۔ اس کے کردا ایک مالک اور اس کا نوکر ہوتے ہیں جن کے ہم شکل ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے ڈرامائی موڑ آتے ہیں کہ نوکر اور مالک جدا ہوتے ہیں اور ہم شکلوں کے گھر پہنچ جاتے ہیں، کبھی مالک بدل جاتا تو کبھی نوکر۔ پھر دلچسپ اور ہنستے مسکراتے واقعات کی جیسے بہار آ جاتی ہے اور کلائمکس میں ان ہم شکلوں پر یہ راز کھلتا ہے کہ ان کے ہم شکل دراصل ان کے جڑواں بھائی ہیں، یعنی مالک کا بھی اور نوکر کا بھی جڑواں بھائی۔

ہدایت کار بمل رائے کی فلم ’دو دونی چار‘ میں مالک کا کردار کشور کمار جبکہ نوکر کے روپ میں است سین تھے۔ جبکہ بنگالی زبان کی فلم میں یہ کردار اتم کمار اور بھانو بندوپادھیا نے نبھائے۔ ’دو دونی چار‘ کی ناکامی نے گلزار صاحب کو خاصا مایوس کیا تھا لیکن یہ کہانی جیسے ان کے ذہن میں چپک کر رہ گئی۔ اگلے 12 سے 14 سال کے دوران گلزار صاحب نے جہاں بطور نغمہ نگار اور کہانی نویس اپنی منفرد شناخت بنائی، وہیں ’میرے اپنے،‘ ’اچانک،‘ ’پریچے،‘ ’کوشش،‘ ’آندھی،‘ ’خوشبو،‘ ’موسم‘ اور ’کنارہ‘ جیسی فلمیں بنا کر وہ کامیاب ہدایت کاروں کی فہرست میں شمار کیے جانے لگے تھے۔

جبھی گلزار صاحب نے 80 کی دہائی میں یہ سوچا کہ یہی وقت ہے کہ وہ ’دو دونی چار‘ کا ری میک بنائیں۔ اب معاملہ یہ تھا کہ بھلا کوئی بھی پروڈیوسر کیوں ایک ایسی فلم پر سرمایہ لگائے جس پر بننے سے پہلے ہی ناکامی کا ٹھپہ لگا ہوا ہو؟

گلزار صاحب جیسے منفرد ہدایت کار کے اصرار کے بعد بھی کوئی پیسہ لگانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اب کیونکہ گلزار صاحب کا عزم تھا کہ وہ کسی طرح پھر سے ’دو دونی چار‘ کا ری میک بنا کر ہی رہیں گے، اسی لیے ان کی مشکل ایک روز آسان ہو ہی گئی۔

ہوا کچھ یوں کہ گلزار صاحب کی بزنس مین جے سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ جنہیں انہوں نے ’دو دونی چار‘ کے ری میک بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دراصل یہ فلم شکسپئیر کے ڈرامے ’دا کامیڈی آف ایررز‘  سے ماخوذ ہے۔ اب یہ گلزار صاحب کی خوش قسمتی ہی کہیے کہ جے سنگھ شیکسپئیر کے بہت بڑے پرستار تھے اور انہیں کالج کے زمانے سے ہی یہ ڈراما پسند تھا۔

جے سنگھ کو تو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ گلزار اب اس پر پھر سے فلم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بغیر بحث و مباحثے کے بعد گلزار صاحب کو ’گرین سگنل‘ دے دیا کہ وہ بنائیں یہ تخلیق، وہ ہر طرح سے ان سے مالی تعاون کریں گے۔

فلم ساز مل گیا تو گلزار صاحب نے اب اداکاروں کا چناؤ کرنا شروع کیا۔ سنجیو کماراور موسمی چٹر جی کے بعد دپتی نول اور ارونا ایرانی کا انتخاب کیا گیا۔ وہیں نوکر کے لیے دیون ورما کو کاسٹ کیا گیا جو سنجیو کمار کی طرح دہرے کردار میں تھے۔ اس بار ’دو دونی چار‘ کو ’انگور‘ کا نام دیا گیا۔ یہ فلم پانچ فروری 1982 کو سنیما گھروں میں لگی تو اس کی چٹ پٹی کہانی نے کامیابی کی نئی منزلیں طے کیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اگلے سال ہونے والے فلم فیئر ایوارڈز میں دیون ورما کی بے ساختہ اور برجستہ  اداکاری پر انہیں بہترین کامیڈین کا ایوارڈ ملا، جو ان کی زندگی کا آخری ایوارڈ بھی ثابت ہوا جبکہ سنجیو کمار کی بہترین اداکار کی کیٹگری میں نامزدگی ہوئی۔

فلم بینوں کے لیے یہ تجربہ بڑا دلچسپ رہا کہ ہیرو کے ساتھ اس کا نوکر بھی ہم شکل ہے۔ جن لوگوں نے ’دو دونی چار‘ نہیں دیکھی تھی، وہ تو ’انگور‘ کی کھٹی میٹھی کامیڈی سے لوٹ پوٹ ہوئے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جو کمی ’دو دونی چار‘ میں رہ گئی تھی، اس کی کسر گلزار صاحب نے اس ری میک میں پوری کر دی۔

بلاشبہ سنجیو کمار نے مووی میں اپنی زندگی کا ایک اور بہترین کردار ادا کیا۔ 2013 میں ہدایت کار روہیت شیٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’انگور‘ کا ری میک شاہ رخ خان کے ساتھ بنائیں گے لیکن پھر نامعلوم وجوہ کی بنا پر اس فلمی منصوبے کو تبدیل کر کے ’چنائے ایکسپریس‘ کا نام دے دیا۔

بہرحال یہ حقیقت ہے کہ گلزار صاحب نے ’انگور‘ بنا کر یہ ثابت کر دکھایا کہ ضروری نہیں کہ فلاپ فلم کا ری میک نہیں بن سکتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم