بچے کو بچہ رہنے دیں۔ اس کی مصنوعی کامیابی کو اتنے فخر سے مت دیکھیں کہ جب اصل زندگی میں چار پیسے کمانے کا موقع آئے یا کہیں کچھ کر کے دکھانے کا وقت پڑے تو وہ بچہ اپنی اس آسمانی کرسی سے نیچے ہی نہ اترے جس پر آپ نے اسے بٹھا دیا ہے۔
اس سال ذرا نانی کو بھی کہیں چھٹیوں پہ لے جائیں، نانی کا بھی دل ہوتا ہے، نانی بھی انسان ہوتی ہے۔ بل نانی کے گھر بھی آتا ہے۔ پیارے نواسو! کچھ تو سوچو۔