جامعات سے درخواست ہے کہ وہ اچھے فالسے کے شربت کا انتظام ضرور کریں تاکہ پروفیسر شدید گرمی میں ٹھنڈا شربت پی کر ناصرف موسم کی سختی برداشت کر سکیں بلکہ تنخواہ دیکھ کر جو خون اور دل میں گرمی پیدا ہوتی ہے، اس کا بھی علاج ہو سکے۔
اکیڈیمیا میں تنخواہیں جتنی محدود ہیں، کام کا بوجھ اتنا ہی زیادہ ہے۔ ہفتے میں تین سے چار لیکچرز، درجنوں طلبہ سے ملاقاتیں، ڈیپارٹمنٹل میٹنگز اور مختلف انتظامی ذمہ داریوں کے بعد دفتری اوقات کے بعد اپنی تحقیق پر بھی کام کرنا پڑتا ہے۔