ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے مارچ 2025 میں ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات کے تمام پروگراموں میں فہم قرآن کے دو کورسز لازمی قرار دے دیے تھے۔ ان کورسز کا مقصد قرآنی تعلیمات کی روشنی میں طالب علموں کو اعلی اخلاقی اقدار سکھانا ہے۔ اس کے لیے انہیں پہلے کورس میں عربی گرامر سکھائی جا رہی ہے اور دوسرے کورس میں سیکھی گئی گرامر کی مدد سے قرآنی آیات کو سمجھنا سکھایا جا رہا ہے۔
ان کورسز کے لیے جامعات نے خصوصی فیکلٹی ہائر کی ہے۔ ایچ ای سی اپنی نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے ذریعے اس فیکلٹی کی تربیت کر رہا ہے۔ حال ہی میں ایچ ای سی نے اس پروگرام کے تحت پاکستان کی 229 جامعات کے اساتذہ کو یہ کورس پڑھانے کی تربیت فراہم کی ہے۔
تاہم، مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سے اساتذہ انگریزی میں لیکچر دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بہت سی پاکستانی جامعات میں بین الاقوامی طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ ان کے لیے کلاس میں لیکچر انگریزی میں دیا جاتا ہے۔ فہم قرآن کے ایسے اساتذہ جن کی کلاس میں غیر ملکی مسلمان طالب علم موجود ہیں اور وہ پھر بھی اردو میں لیکچر دیتے ہیں، ان طالب علموں کا نقصان کر رہے ہیں۔
دوسرا اہم مسئلہ غیر مسلم طالب علموں کا ہے۔ بہت سی جامعات کے پاس ان طالب علموں کے لیے متبادل کورسز موجود نہیں ہیں۔ ان طالب علموں کو پہلے انہی کورسز میں داخل کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اعتراض کیے بغیر کورسز مکمل کر لیں تو بہترین، ورنہ انہیں اگلے سمسٹر متبادل کورسز دینے کا وعدہ کر کے ٹال دیا جاتا ہے۔
تیسرا اہم مسئلہ کورس کے مواد کا ہے۔ اس کورس میں قرآنی تعلیمات کی روشنی میں طالب علموں کو اپنا کردار اور اعمال بہتر بنانا سکھانا چاہیے۔ ہمارا سارا زور انہیں زبان اور گرامر سکھانے پر ہے۔
عربی زبان تو ہم بچپن سے ہی پڑھنا سیکھ رہے ہیں۔ ہمارے سکولوں اور کالجوں میں اسلامیات لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے جس میں اسلام کی تاریخ، انبیا کے قصے اور اچھے اخلاق کا بھی بتایا جاتا ہے۔ پھر بھی ہمیں جہاں موقع ملتا ہے جھوٹ بولتے ہیں، دھوکا دیتے ہیں، خیانت کرتے ہیں اور دوسروں کا حق کھاتے ہیں۔ اگر ہمارے بچپن سے ہمیں سکھائی جانے والی تعلیمات ہمیں تبدیل نہیں کر پا رہیں تو اس عمر کے اس حصے میں جب ہم سب سیکھ چکے ہیں، یہ دو کورسز ہمیں کیا تبدیل کر پائیں گے۔
ان کورسز کو لازمی کیے ایک سال ہو چکا ہے۔ اس ایک سال میں ان کے کیا نتائج نکلے ہیں؟ کیا انہیں ماپنے کا کوئی پیمانہ بنایا گیا تھا؟ یا بس یہی کہ یہ کورسز سینکڑوں پاکستانی جامعات میں پڑھائے جا رہے ہیں اور ہزاروں انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ طالب علم یہ کورسز پڑھ چکے ہیں؟ اگر ان کورسز کا مقصد انہیں بہتر انسان بنانا تھا تو ایک سال میں ہمیں اپنی جامعات میں طالب علموں کے رویوں میں تھوڑی سی بھی تبدیلی کیوں نہیں نظر آ رہی؟
ہمارے طالب علم آج بھی کلاس میں دیر سے آتے ہیں، اساتذہ کا احترام نہیں کرتے، اسائنمنٹس وقت پر جمع نہیں کرواتے، جمع کروائیں بھی تو وہ یا تو کسی اور کے کام پر مبنی ہوتی ہیں یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی ہوئی ہوتی ہیں یا دونوں کا مرکب ہوتی ہیں۔ امتحانات میں وہ نقل کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔ جہاں سختی کی جائے وہاں کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر لے آتے ہیں۔ پھر یہی طالب علم جب جامعات سے فارغ التحصیل ہو کر اپنے شعبے میں کام کرتے ہیں تو وہاں بھی سستی دکھاتے ہیں۔ کام نہ کرنے کے ہزاروں بہانے ان کے پاس ہوتے ہیں۔ ہر وقت جھوٹ بولنے کو تیار اور دھوکا دینے کے لیے پرعزم۔
جامعات کے انٹری ٹیسٹ میں یہی طالب علم مکمل ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے ہوئے امتحان دیتے ہیں۔ انہیں وقت سے پہلے بلایا جاتا ہے۔ وہ ایک ترتیب سے کمرہ امتحان میں شامل ہوتے ہیں، ہر ہدایت پہلے سے پڑھ کر آتے ہیں اور پوری توجہ سے، انتہائی خاموشی اور دیانت داری کے ساتھ امتحان دیتے ہیں۔ لیکن جامعہ میں داخلہ ملتے ہی یہ طالب علم وہ ڈسپلن بھول جاتے ہیں۔
فرق صرف سختی اور احتساب کا ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے اصول سخت اور واضح ہوتے ہیں اور وہاں کوئی بہانہ نہیں چلتا۔ دیر سے آؤ، امتحان نہیں ہوگا، بدتمیزی کرو، امتحان منسوخ، نقل کرو، فوری طور پر کمرہ امتحان سے باہر اور داخلے کے امکانات ختم۔ جامعہ میں آتے ہی انہیں یہ کورس پڑھایا جاتا ہے لیکن وہ کلاس سے نکلتے ہی اس کلاس میں سیکھی ہوئی تعلیمات بھول جاتے ہیں۔ اسی جامعہ کے سمسٹر امتحانات میں کبھی چھپ کر تو کبھی کھل کر نقل کرتے ہیں کیوں کہ وہاں انٹری ٹیسٹ والا شفاف اور واضح نظام نافذ نہیں ہوتا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرآنی تعلیمات کو نصاب میں شامل نہ کیا جائے۔ ان کورسز کے پیچھے مقصد نیک ہے لیکن ان کے نفاذ کا طریقہ کار کمزور ہے۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں محض کورس لازمی کرنے سے آگے سوچنا چاہیے۔ اساتذہ کو اس قابل بنانا چاہیے کہ وہ تعلیمات کو زندگی کے عملی مسائل سے جوڑ کر پڑھا سکیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہمیں ان کورسز کے نتائج ماپنے کا کوئی واضح پیمانہ بنانا چاہیے جو محض گنتی تک محدود نہ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ جامعات کے اندر ہی ایک ایسا ماحول بنانا چاہیے جہاں احتساب ہو، غلطی کی قیمت ادا کرنی پڑے اور ایمانداری کو سراہا جائے۔ کیوں کہ طالب علم وہی سیکھتا ہے جو وہ اپنے اردگرد ہوتا دیکھتا ہے، نہ کہ وہ جو صرف کتاب میں لکھا ہو۔
ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ تعلیمی نظام پر بوجھ ڈال کر معاشرے میں اخلاقی انقلاب کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ جب تک قوانین مضبوط نہیں ہوں گے اور ان پر سختی سے عمل نہیں ہوگا، جب تک چور دروازے بند نہیں کیے جائیں گے اور غلطی کرنے والوں کو بار بار چھوٹ ملتی رہے گی، تب تک اس طرح کے کورسز نہ صرف بے اثر رہیں گے بلکہ ہمارے سنجیدہ مسائل کا غیر سنجیدہ حل بن کر رہ جائیں گے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں اصل اخلاقی انقلاب کے لیے احتساب کا ایک فعال نظام متعارف کروانا ہوگا۔ اس کے بغیر ہم اخلاقیات میں آگے نہیں بلکہ پیچھے ہی پیچھے چلے جائیں گے۔